اقوامِ متحدہ: یمن کی جنگ میں سینکڑوں باغی حوثی کمسن فوجی ہلاک ہوئے

Houthi mobilisation in Sanaa

،تصویر کا ذریعہEPA

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سنہ 2020 میں یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے بھرتی کیے گئے تقریباً 15 سو بچے یمن کی لڑائی میں مارے گئے، اور اگلے سال مزید سینکڑوں بچے ہلاک ہوئے۔

سلامتی کونسل کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ باغی اب بھی لڑائی کے لیے بچوں کو بھرتی کر رہے ہیں، اور اپنا نظریہ پھیلانے کے لیے سمر کیمپوں اور ایک مسجد کو استعمال کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کے زیرِ قیادت فورسز کی طرف سے باغیوں پر فضائی حملوں میں اب بھی بہت سے شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔

سنہ 2015 میں شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 10 ہزار سے زائد بچے مارے جا چکے ہیں۔

لڑائی کے براہ راست نتیجے میں دسیوں ہزار بالغ افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں، لاکھوں بے گھر ہیں اور قحط کے دہانے پر ہیں۔

300 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں، پینل نے کہا کہ اسے 1406 بچوں کی فہرست موصول ہوئی ہے جنھیں حوثیوں نے بھرتی کیا تھا اور جو 2020 میں ہلاک ہوئے، اگلے سال جنوری اور مئی کے درمیان مزید 562 بھی جنگ کے دوران مارے گئے تھے۔

Houthi mobilisation in Sanaa

،تصویر کا ذریعہEPA

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ماہرین کے چار رکنی پینل کے حوالے سے بتایا کہ ’بچوں کو ہدایت تھی کہ وہ حوثی نعرہ لگایا کریں جو کہ یہ تھا: ’امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد، یہودیوں پر لعنت، اسلام کی فتح‘۔

’ایک کیمپ میں، سات سال تک کی عمر کے بچوں کو سکھایا گیا کہ ہتھیار کس طرح صاف کرنے ہیں اور راکٹوں سے کیسے بچنا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیئے

پینل نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’بچوں کو بھرتی کرنے کے لیے سکولوں، سمر کیمپوں اور مساجد کا استعمال کرنے سے گریز کریں‘ اور ایسا نہ کرنے والوں کے لیے اقتصادی پابندیوں کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دارالحکومت صنعا پر قابض باغی عالمی ثالثوں کے ایک پیچیدہ نیٹ ورک کو استعمال کر کے اپنے ہتھیاروں کے نظام کے اہم اجزا حاصل کر رہے ہیں اقوام متحدہ کی ہتھیاروں کی پابندی کو چکمہ دے رہے ہیں۔

دو ہفتے قبل متحدہ عرب امارات میں حوثی باغیوں کے ڈرون حملے کے بعد لڑائی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

21 جنوری کو شمال مغرب میں حوثیوں کے مضبوط گڑھ صعدہ میں ایک حراستی مرکز پر فضائی حملے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد اقوام متحدہ اور امریکہ نے کشیدگی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔