’بوسکو اینٹاگینڈا کے حامی جنگجوؤں نے بچوں کے پیٹ چاک کر کے ان کی آنتیں نکالی تھیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
کانگو کے سابق باغی رہنما کو جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
ہیگ میں انصاف کی بین الاقوامی عدالت (آئی سی سی) میں ججوں نے بتایا کہ بوسکو اینٹاگینڈا کے حامی جنگجوؤں نے بچوں کے پیٹ چاک کر کے ان کی آنتیں نکالیں اور ان کے سروں کو پھوڑ ڈالا تھا۔
اینٹاگینڈا عرف ’ٹرمینیٹر‘ پر 18 جرم ثابت ہوئے جن میں قتل، ریپ، جنسی طور پر غلام بنانا اور چھوٹے بچوں (چائلڈ سولجر) کو فوج میں بھرتی کرنے جیسے جرائم شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے
وہ پہلے شخص ہیں جنہیں جنسی غلام رکھنے کے جرم میں سزا دی جا رہی ہے۔
ان کے وکلاء نے ان کے دفاع میں کہا کہ اینٹاگینڈا خود مظلوم ہیں اور انھیں بھی چائلڈ سولجر کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2002 میں آئی سی سی کے قیام کے بعد سے اب تک چار افراد کو سزا دی جا چکی ہے۔
اینٹاگینڈا نے 2013 میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں واقع امریکی سفارتخانے میں ہتھیار ڈال دیے تھے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا اپنی ذات کی حفاظت کے لیے کیا کیونکہ وہ اپنے ’ایم 23‘ باغی گروہ میں اقتدار کی جنگ ہار چکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تین ججوں کے پینل نے سنہ 2002 اور سنہ 2003 کے درمیان مشرقی علاقے اتوری میں ہونے والے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں اینٹاگینڈا کو تمام کے تمام الزامات کا مجرم قرار دیا۔
جج رابرٹ فریمر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 45 سالہ اینٹاگینڈا وہ اہم رہنما تھے جنھوں نے عام شہریوں کو ٹارگٹ کر کے قتل کرنے کا حکم دیا۔
ججوں نے کہا کہ اینٹاگینڈا نے ذاتی طور پر ایک کیتھولک پادری کو قتل کیا اور ان کے جنگجوؤں نے علاقے کو تباہ و برباد کر دیا۔
اینٹاگینڈا کو چائلڈ سولجر بھرتی کرنے کا بھی مجرم قرار دیا گیا جن میں نوجوان لڑکیاں بھی شامل تھیں۔
یہ جرائم اس وقی مرتکب کیے گئے جب وہ تھامس لوبانگا کے ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف تھے۔ تھامس لوبانگا یو پی سی باغی گروہ کے سربراہ تھے اور انھیں آئی سی سی نے سنہ 2012 میں سزا سنائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انصاف کے لیے ایک اہم اقدام
بی بی سی نیوز کی اینا ہولیگن لکھتی ہیں کہ یہ بھی بتایا گیا کہ کیلے کی فصل میں 49 لاشیں پڑی تھیں جن کی بہت بے حرمتی کی گئی تھی۔ ایک حاملہ عورت کو اس وقت مارا گیا جب وہ ریپ سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ 15 سال سے کم عمر بچوں کو لڑنے کے لیے بھرتی کیا گیا جبکہ عورتوں اور لڑکیوں کو بطور جنسی غلام رکھا گیا۔
’کمرۂ عدالت میں ججوں نے بوسکو اینٹاگینڈا کی باغی فورسز کے ہولناک جرائم کی فہرست بتائی اور بعد میں انھیں جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا۔
ان کے وکلاء نے کہا کہ وہ بھی مظلوم ہیں، کیونکہ انھیں بچپن میں اغوا کر کے فوج کے لیے تربیت دی گئی تھی۔
اس مقدمے میں شامل ہونے کے لیے قتلِ عام سے بچ جانے والے 2000 سے زیادہ افراد کو اجازت دی گئی تھی۔ انسانی حقوق کے گروہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ انصاف کے لیے ایک اہم قدم ہے۔‘







