شیر کا سال: چینی سالِ نو کیسے منایا جاتا ہے؟

Celebrations in Beijing, 2012

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, وانیوان سونگ اور جیریمی ہوویل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

یکم فروری 2022 کو نیا چینی سال شروع ہو رہا ہے۔

چینی کیلینڈر میں یہ سال کا اہم ترین دن ہوتا ہے اور یکم فروری کو بھی ایک ارب سے زیادہ لوگ اپنے عزیزوں کے ساتھ مزے مزے کے پکوان کھائیں گے، اپنے اپنے علاقے میں منعقد ہونے والے رنگا رنگ جلوس دیکھیں گے اور دعا کریں گے کہ نیا سال ان کے لیے مبارک ثابت ہو۔

چینی سالِ نو پر کیا ہوتا ہے؟

چینی کیلنڈر کے مطابق نیا سالِ 21 دسمبر کے بعد اس دن شروع ہوتا ہے جب دوسرا نیا چاند طلوع ہوتا ہے، یعنی نئے سال کا پہلا دن 21 جنوری اور 20 فروری کے درمیان آتا ہے۔

چینی سالِ نو کو جشنِ بہار بھی کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں چینی برادری یہ دن جوش و خروش سے مناتی ہے۔ ان تقریبات میں چینی لوگ گزرے سال کو اس امید پر الوداع کرتے ہیں کہ آنے والا سال ان کے لیے خوش بختی اور خوشحالی لیکر آئے گا۔

اس موقع پر لوگ اپنے گھروں میں دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں اور باہر گلی محلوں میں اور سڑکوں پر آتشبازی کے مظاہرے ہوتے ہیں جن کی خاص بات خزانے کی رکھوالی پر بیٹھے اور منھ سے آگ برسانے والے تصوراتی اژدھے کا رقص یا ’ڈریگن ڈانس‘ ہوتا ہے۔ سالِ نو کی بڑی تقریبات چاند رات اور اگلی صبح سال کے پہلے دن منعقد کی جاتی ہیں۔

چین میں ہر برس لاکھوں لوگ نئے سال کی خوشیاں اپنے خاندان والوں کے ساتھ منانے کے لیے، کبھی کبھی تو ہزاروں میل کا سفر کر کے گھر آتے ہیں۔

Chinese girl opening a red parcel at a family dinner during Chinese New Year

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسرخ رنگ کو چین میں خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے

اس دن لوگ اپنے گھروں کی زیبائش سرخ رنگ سے کرتے ہیں کیونکہ اسے چینی تہذیب میں خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بچوں کو سرخ رنگ کے لفافوں میں پیسے بھی دیئے جاتے ہیں۔

سالِ نو کا جشن دو ہفتے تک جاری رہتا ہے۔ اس سال جب یہ جشن 15 فروری کو اپنے عروج پر ہو گا تو پورے چاند کی اس رات کو شہر میں لالٹینوں کا روایتی میلہ بھی ہو گا۔

آج کل چین میں سالِ نو کے موقع پر لوگوں کو ایک ہفتے کی چھٹی دی جاتی ہے، جس کا آغاز سنہ 1990 کے عشرے میں ہوا تھا۔ چینی وزارتِ کامرس کے اعدادوشمار کے مطابق سالِ نو کے دنوں میں آج کل لوگ خریداری اور کھانے پینے پر 820 ارب یوئین (96 ارب پاؤنڈ) سے زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔

ٹائیگر کا سال

چین میں ہر سال کا نام 12 مختلف جانوروں کی نسبت سے رکھا جاتا ہے، اور چینی کیلنڈر کے مطابق آنے والا سال ’ٹائیگر یا چیتے کا سال‘ ہو گا۔ اس نسبت سے کہا جاتا ہے کہ آنے والے سال میں پیدا ہونے والے بچے تگڑے، بہادر اور مقابلے کی صلاحیت سے مالا مال ہوں گے۔

جنوبی چین اور ہانگ کانگ میں سب سے زیادہ بولی جانے والی کینٹونیز زبان میں ’نیا سال مبار ک ہو‘ کے لیے ’گونگ ہائی فیٹ چوئے‘ کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ’آپ کو خوشحالی نصیب ہو‘ ۔ چین کی دوسری بڑی زبان مینڈیرن میں لوگ ’ژن نیان کوئی لی‘ کہتے ہیں جس کا مطب ہے ’نیا سال مبارک ہو۔‘

،ویڈیو کیپشنشیر کا سال: چین میں نئے سال کا جشن

چینی سالِ نو کا آغاز کب ہوا؟

عام خیال یہی ہے کہ چینی سالِ نو کا آغاز 14وں صدی قبل مسیح میں ہوا تھا جب یہاں شانگ خاندان کی حکمرانی تھی۔

سالِ نو کے آغاز کے حوالے سے مختلف روایات مشہور ہیں۔ ایک روایت کے مطابق صدیوں پہلے ہر نئے سال کے آغاز پر نیان (سال) نامی ایک بلا دیہاتیوں پر حملہ کر دیتی تھی۔ نیان بلا کی کمزوری یہ تھی کہ اسے شور شرابے، تیز روشنیوں اور سرخ رنگ سے ڈر لگتا تھا۔ تب سے لوگوں نے ہر سال اس خونخوار بلا کو بھگانے کے لیے ان چیزوں کا استعمال شروع کر دیا۔

چونکہ چینی تہذیب میں آگ اگلتے ہوئے تصوراتی اژدھا یا ڈریگن کو طاقت اور خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس لیے چین کے کئی علاقوں میں ہر برس سالِ نو کی تقریبات میں ڈریگن ڈانس کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے کاغذ اور دیگر اشیاء کی مدد سے بڑے بڑے رنگین ڈریگن بنائے جاتے ہیں جنھیں جلوسوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

سالِ نو پر لوگ اپنے گھروں کی خوب صفائی کرتے ہیں تاکہ اگر گزرا سال اپنے ساتھ کوئی بدقسمتی لایا تھا تو نئے سال کی آمد پر گھر کو اس بدقسمتی سے پاک کر دیا جائے۔

دیگر کن ممالک میں تقریبات ہوتی ہیں؟

جنوب مشرقی ایشیا کے تمام ممالک میں سالِ نو 21 دسمبر کے بعد چاند کی ایک ہی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔

ویتنام میں نئے سال کے پہلے دن کو مختصرا ’ٹیٹ‘ کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ’پہلے دن کی پہلی صبح کا جشن۔‘

ویتنام میں بھی سالِ نو کو خوش آمدید کہنے کے لیے لوگ گھروں کو صاف کرتے ہیں اور انھیں تازہ پھلوں کی ٹہنیوں اور پھولوں سے سجاتے ہیں، خاص طور پر گلابی پھولوں اور چھوٹے سنگتروں سے۔ پِیچ بلاسم کا گلابی رنگ توانائی کی علامت ہے جبکہ چھوٹے چھوٹے سنگترے اور ان کی تازہ ٹہنیاں خوشحالی کو ظاہر کرتی ہیں۔

چینی سالِ نو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنویتنام میں سالِ نو کے موقع پر شیر کا رقص ہوتا ہے

جنوبی اور شمالی کوریا میں سال نو کی تقریبات تین دن منائی جاتی ہیں۔ ان دنوں میں کوریائی لوگ ’چاری‘ کے نام سے ایک رسم کا اہتمام کرتے ہیں جس میں وہ نئے سال میں اپنے آبا و اجداد کی دعائیں لینے کے لیے ان کے نام پر مختلف پکوانوں کا چڑھاوا چڑھاتے ہیں۔

جنوبی کوریا میں لوگ اس دن ایک دوسرے کو تحفے کے طور پر ٹین کے ڈبوں میں بھرا ہوا گوشت خوبصورت ٹوکریوں میں ڈال کے دیتے ہیں۔

منگولیا میں چینی سالِ نو کے تہوار کو زیادہ تر ساگان کہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے ’سفید چاند کا تہوار‘ بھی کہتے ہیں۔ اس دن لوگ پتھروں کے ڈٌھیر سے بنائے مزاروں اور قربان گاہوں کی پوجا بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ بوتلوں میں بند خوشبودار تمباکو کا بھی تبادلہ کرتے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تحفہ لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔

باقی دنیا میں چینی سالِ نو کیسے منایا جاتا ہے؟

چینی سالِ نو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندنیا میں چینی سالِ نو کی سب سے بڑی تقریبات میں سے ایک نیویارک میں ہوتی ہے

امریکہ میں چینی سالِ نو پر نیویارک کے روزویلٹ پارک میں پٹاخے پھوڑنے کی بڑی تقریب منعقد کی جاتی ہے جس میں کم و بیش چھ لاکھ پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں۔ اس کے بعد شہر کے چائنا ٹاؤن کے علاقے میں ’شیروں کا ڈانس‘ اور رنگا رنگ پریڈ بھی ہوتی ہے۔

اس دن سنگاپور کی شاہراہوں پر ایک بڑا جلوس نکالا جاتا ہے جس میں رنگین فلوٹسں پر شوخ رنگوں میں ملبوس فنکار اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے تو وہاں چینی برادری کا سب سے بڑا مرکز مانچسٹر ہے جہاں یہ برادری بہت عرصے سے مقیم ہے۔ مانچسٹر میں بھی ایک بہت بڑی ریلی نکالی جاتی ہے جس کی خاص بات وہاں کا مشہور 53 میٹر لمبا ڈریگن ہے۔