اقوال زریں: ’روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں‘ جیسے اقوال جو تاریخی شخصیات سے غلط منسوب کیے جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپنی بات دوسروں تک مؤثر طور پر پہنچانے اور اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے اکثر کسی بڑی اور مشہور شخصیت کے کسی قول کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
لیکن کیا آپ نے اس بات کا یقین کر لیا ہے کہ جس قول کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ برمحل اور درست ہے؟
ذیل میں دیے گئي تاریخی شخصیات سے منسوب پانچ اقوال ایسے ہیں جن کا حوالہ اکثر اوقات یا تو غلط دیا جاتا ہے یا وہ بالکل من گھڑت ہیں۔
موہن داس کرم چند گاندھی: ’آپ وہ تبدیلی بن جائیں جو آپ دنیا میں دیکھنا چاہتے ہیں‘
برطانوی راج کے خلاف انڈیا میں آزادی کی تحریک کے رہنما گاندھی کے بہت سے اقوال کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک قول میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر تبدیلی ذاتی ذمہ داریوں کے ادا کرنے سے شروع ہوتی ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس بات کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے کہ انھیں کبھی ایسا کہتے ہوئے سنا گیا ہو یا کھبی انھوں نے ایسا لکھا ہو۔
اس سے قریب ترین بات جو انھوں نے کہی اور سنہ 1913 میں ایک اخبار ’انڈیا اوپینین‘ میں شائع ہوئی وہ یہ تھی ’ہم دنیا کا آئینہ ہیں۔ جو بھی رجحانات باہر کی دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ ہمارے جسم کی دنیا میں موجود ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے آپ کو تبدیل کر سکیں تو دنیا کے رجحانات بدل سکتے ہیں۔‘

والٹیئر:’آپ جو کہتے ہیں میں اس کو رد کرتا ہوں لیکن میں مرتے دم تکیہ بات کہنے کے حق کا دفاع کروں گا‘
اس قول کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ فرانسیسی مصنف اور فلسفی والٹیئر کا ہے۔ اکثر آزادی رائے کے علمبردار حوالے کے طور پر اس قول کو استعمال بھی کرتے ہیں۔
اصل میں اس قول میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر آپ لوگوں کی آزادی رائے پر کامل یقین رکھتے ہیں تو آپ اس کا دفاع کریں گے باوجود اس کے کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں آپ سننا نہیں چاہتے اور اسے ناگوار محسوس کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1694 میں پیدا اور سنہ 1778 میں وفات پانے والے والٹیئر یقیناً آزادی اظہار پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی اکثر تحریروں میں مسیحوں کے کیتھولک فرقے پر لوگوں کی آزادی اظہار کو محدود کرنے کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن انھوں نے یقینی طور پر کبھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ قول درج نہیں کیا۔
والٹیئر کی وفات کے ایک سو سال بعد سنہ 1906 میں بیٹریس ہال کی تحریر کردہ سوانح عمری میں اس قول کی جڑیں ملتی ہیں۔ انھوں نے آزادی اظہار پر والٹیئر کے افکار بیان کرتے ہوئے یہ لائن تحریر کی۔ والٹیئر آزادی اظہار کے علمبرداروں میں سے تھے جس کی وجہ سے ان کا یہ قول غلط طور پر منسوب ہو گیا۔

ایڈمنڈ برک: ’برائی کی جیت کے لیے صرف یہ ضروری ہے کہ اچھے لوگ کچھ نہ کریں‘
ایڈمنڈ برک 18ویں صدی کے فلسفی، سیاستدان اور مصنف تھے جو 20 سال سے زیادہ عرصے تک وگ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رہے۔ ان کے اکثر حوالہ جات میں سے یہ ایک ہے۔
یہ متاثر کن لگتا ہے، لیکن کچھ لوگوں کا استدلال ہے کہ یہ اپنے معنی کے اعتبار سے ذرا سا مشکوک لگتا ہے۔
جیسا کہ ’دی انٹلیکچوئل لائف آف ایڈمنڈ برک‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اُن کی سوانح عمری کے مصنف ڈیوڈ بروم وِچ نے روئٹرز کو بتایا کہ ’اس قول کے بارے میں جو چیز آپ کو سب سے واضح لگتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کتنا مبہم یا بے معنی لگتا ہے: صرف اچھے آدمیوں کی خاموشی ضروری نہیں ہے۔
’برائی کی فتح کے لیے برائی کو آگے بڑھانے والے افراد کا مضبوط اور پرعزم ہونا بھی اہم ہوتا ہے اور خاموش رہنے والے یا تو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں یا ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔‘
برک نے جو 1770 میں کہا تھا وہ یہ تھا، ’جب برے آدمی اکٹھے ہوتے ہیں، تو اچھوں کو بھی متحد ہونا چاہیے۔ ورنہ وہ ایک ایک کر کے، ناکام جدوجہد میں بے کار قربان ہو جائیں گے۔‘
ایسا لگتا ہے کہ اس اقتباس کو بعد میں فوراً ہی بگاڑ دیا گیا، یہاں تک کہ صدر جان ایف کینیڈی نے سنہ 1961 میں ایک مشہور تقریر میں اس کا حوالہ دیا تھا۔

جارج واشنگٹن: ’میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔ میں نے چیری کا درخت کاٹ دیا ہے'
امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن اپنے حامیوں میں اپنی ایمانداری کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔
یہ اکثر ایک کہانی سے واضح ہوتا ہے جس میں چھ سالہ واشنگٹن نے اپنے والد کے قیمتی چیری کے درخت کو کاٹ دیا تھا لیکن جب اس کی تخریب کاری کے بارے میں معلوم ہوا تو انھوں نے فوراً اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
یہ بھی پڑھیے
یہ ایک خوبصورت اور کثرت سے بیان کی جانے والی کہانی ہے جو واشنگٹن کی خوبیوں کی علامت بن گئی۔ یہ پہلی بار واشنگٹن کے سوانح نگار میسن لاک ویمز کی کتاب میں سامنے آیا جو 1799 میں واشنگٹن کی موت کے ایک سال بعد شائع ہوا تھا۔
لیکن اس کہانی کو 1806 میں پانچویں ایڈیشن تک ویمز کی کتاب میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے قبل اس کا کوئی اور ثبوت نہیں ملتا، کچھ کا کہنا ہے کہ کہانی مکمل طور پر گھڑی گئی ہے۔

میری اینٹونیٹ: ’روٹی نہیں تو کیک کھا لیں‘
میری اینٹونیٹ 1789 کے فرانسیسی انقلاب کے دور میں فرانس کی ملکہ تھیں۔ جب انھیں بتایا گیا کہ اُن کی بھوک سے مرنے والی رعایا کے پاس کھانے کے لیے روٹی نہیں ہے تو کہا جاتا ہے کہ انھوں نے کہا کہ ’وہ کیک کیوں نہیں کھاتے۔‘
اس قول کا مقصد یا تو یہ ظاہر کرنا ہے کہ وہ غریب لوگوں کی حقیقی زندگیوں سے کس طرح بے تعلق تھیں یا انھیں عوام کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ کہانی روشن خیال فلسفی ژاں جیک روسو کی تحریروں میں سنہ 1767 کے آس پاس منظر عام پر آئی ہے، لیکن وہ صرف اس کا انتساب ’ایک عظیم شہزادی‘ سے کرتے ہیں۔
چونکہ اینٹونیٹ اس وقت ایک بچی تھیں اس لیے اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ شہزادی کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ مختلف سنگ دل اشرافیہ کے بارے میں ایسی ہی کہانیاں برسوں سے گردش کر رہی تھیں۔
یہ قول پہلی مرتبہ میری اینٹونیٹ سے منسوب مصنف ژاں بیپٹسٹ الفونس کار کے ایک پمفلٹ میں کیا گیا جو اُن کی موت کے 50 سال بعد شائع ہوا اور اس وقت بھی یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ان سے یہ غلط طور پر منسوب کیا گیا ہے اور یہ ایک افواہ ہے۔











