چین میں یادداشت کی مدد سے گاؤں کا نقشہ بنا کر 30 برس بعد والدہ کو ڈھونڈ نکالنے والا نوجوان

ایک چینی شخص جسے 30 برس قبل اغوا کیا گیا تھا، اس نے حیران کن طور پر اپنی یادداشت کی مدد سے اپنے بچپن کے گاؤں کا نقشہ بنا کر اپنی والدہ تک رسائی حاصل کر لی ہے۔

لی جنگوی اس وقت صرف چار سال کے تھے جب انھیں اُن کے گھر سے لالچ دے کر اغوا کیا گیا اور بچوں کی سمگلرز کے ایک گینگ کو فروخت کر دیا گیا۔

تاہم گذشتہ ماہ 24 دسمبر کو انھوں نے دوئین نامی ویڈیو شیئرنگ ایپ پر اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا نقشہ شیئر کیا تھا جسے پولیس نے چین کے چھوٹے سے گاؤں کے ساتھ مماثلت کی بنا پر شناحت کیا اور وہاں ایک ایسی خاتون کا بھی پتا لگایا جن کا بیٹا چھوٹی عمر میں اغوا کر لیا گیا تھا۔

ڈی این اے ٹیسٹ لینے کے بعد سنیچر کے روز یونان نامی صوبے میں ماں بیٹے کا ایک مرتبہ پھر ملاپ ہوا۔

ان دونوں کی اس تاریخی ملاقات کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لی جِنگوی پہلے بہت احتیاط سے اپنی والدہ کے چہرے سے ماسک اتارتے ہیں اور اُن کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہیں جس کے بعد وہ رونے لگتے ہیں اور انھیں گلے لگا لیتے ہیں۔

لی نے اپنی دوئین کی پروفائل پر اس ملاقات سے پہلے یہ پیغام لکھا تھا: ’تیس برس کا انتظار، انگنت راتوں کا انتظار اور آخر کار یادداشت سے بنایا گیا ایک نقشہ، یہ لمحہ 13 دنوں کے بعد ایک بہترین کامیابی جیسا ہے۔ ان تمام افراد کا شکریہ جنھوں نے مجھے میرے خاندان سے ملوانے میں مدد کی۔'

لی کو چین کے صوبہ یونان کے جنوب مغربی شہر زاؤتانگ سے اغوا کیا گیا تھا اور پھر انھیں 1800 کلومیٹر دور مقیم ایک خاندان کو سنہ 1989 میں فروخت کر دیا گیا تھا۔

جنوبی چین کے گوانگ ڈانگ صوبے میں رہائش پذیر لی کو انھیں گود لینے والے والدین اور ڈی این اے ڈیٹا بیس سے اپنے والدین کے بارے میں کوئی مدد نہیں ملی۔ اس لیے انھوں نے انٹرنیٹ کا سہارا لینے کا سوچا۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے اس ویڈیو میں کہا کہ ’میں ایک ایسا بچہ ہوں جسے اپنے اصلی گھر کی تلاش ہے۔ سنہ 1989 میں ہمارے محلے کے ایک شخص نے مجھے اغوا کر کے حنان پہنچا دیا تھا اس وقت میری عمر چار برس تھی۔ اس ویڈیو کو ہزاروں مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے۔‘

انھوں نے اپنے گاؤں کا اندازے سے بنایا گیا نقشہ لہراتے ہویے اس ویڈیو میں کہا کہ ’یہ میرے گھر کے اردگرد کے علاقے کا نقشہ ہے جسے میں نے اپنی یادداشت کی مدد سے بنایا۔‘ اس نقشے میں انھوں نے ایک سکول، ایک بانس کے جنگل اور ایک چھوٹے سے تالاب کی بھی نشاندہی کی۔

چین میں بچوں کا اغوا ہونا کوئی غیرمعمولی بات بھی نہیں ہے کیونکہ اس معاشرے میں بیٹے کی پیدائش کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔

اکثر بچے چھوٹی عمر میں اغوا کر لیے جاتے ہیں اور انھیں دوسرے خاندانوں کو بیچ دیا جاتا ہے۔ سنہ 2015 میں شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 20 ہزار بچوں کو ہر سال اغوا کیا جاتا ہے۔

سال 2021 میں اس طرح کی کئی مثالیں سامنے آئی تھیں جن میں نوجوان لڑکے طویل جدائی کے بعد اپنے والدین سے دوبارہ یکجا ہوئے تھے۔

گذشتہ جولائی میں گوگانگتانگ اپنے بیٹے کے ساتھ 24 برس بعد دوبارہ ملے تھے جنھیں شانڈانگ صوبے سے اغوا کیا گیا تھا۔