اُری گیلر: اسرائیلی ’جادوگر‘ جو 75 برس کی عمر میں بھی سامعین کو متحیر کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, یولاندے نیل
- عہدہ, بی بی نیوز، جافا
اسرائیلی شہر جافا کے ساحل کے نزدیک تعمیر کیے گئے ’اُری گیلر میوزیم‘ کے داخلی راستے پر دنیا کا سب سے بڑا فولاد کا بنا چمچہ رکھا ہوا ہے جس کی لمبائی 53 فٹ ہے۔ اس میوزیم میں ایسے کئی فولادی چمچے رکھے ہوئے ہیں مگر اُن میں سے بہت سے ٹیڑھے ہیں۔
یہ تمام چمچے اس شخص کی صلاحیتوں کی بہترین عکاسی کرتے ہیں جن کا نام اس میوزیم سے منسوب ہے، یعنی اُری گیلر۔ وہ 75 سالہ اسرائیلی ’جادوگر‘ جن کی صرف اپنی نظروں کی مدد سے چمچے ٹیڑھے کرنے کی صلاحیت نے انھیں پوری دنیا میں مشہور کر دیا ہے۔
لیکن یہ ساتھ ساتھ ایک ایسی زندگی اور کرئیر کی داستان بھی بیان کرتے ہیں جو گذشتہ پانچ دہائیوں سے پاپ کلچر کا حصہ بنا ہوا ہے۔
’میں ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور میں ایک ’سائیکک‘ سپرسٹار بننا چاہتے تھا، تو میں نے کوشش کی کہ میں مقبول ہو جاؤں۔ اور مجھ میں وہ خاص بات تھی جو اور لوگوں میں نہیں ہے، وہ ہے ’اسرائیلی دیدہ دلیری، جذبہ۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مجھ سے بات کرتے ہوئے اُری گیلر نے کہا کہ اُن میں ہمت تھی کہ وہ معروف گلوکار ایلٹن جان کے پاس جائیں اور ان سے کہہ سکیں کہ ’کیا میں آپ کے ساتھ تصویر لے سکتا ہوں، کیا میں آپ سے ملنے آ سکتا ہوں؟‘
اُری گیلر نے مزید کہا: ’پھر مشہور لوگوں نے مجھ سے بات چیت شروع کر دی اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ اُری گیلر نامی شخص سے ملے جنھوں نے ان کی نظروں کے سامنے ایک چمچے کو ٹیڑھا کر دیا! اور اس طرح سے میں ترقی کے زینے پر چڑھتا چلا گیا۔‘
اس مہینے اُری گیلر 75 برس کے ہو گئے ہیں اور دنیا کے اِس مشہور زمانہ آرٹسٹ نے مجھے اپنے نام سے منسوب میوزیم کی سیر کرائی اور اپنی زندگی کے یادگار واقعات بھی سُنائے۔
اس میوزیم میں بڑی انوکھی چیزیں موجود ہیں۔ جیسے مصور سلواڈور ڈالی کی ملکیت والی کرسٹل گیند، لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کی ملکیت کا ایک ماڈل جہاز، اور ایک سونے کا انڈا جس کے بارے میں معروف موسیقار جان لینن نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ خلائی مخلوق کی جانب سے آیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقبولیت کا سفر
میوزیم کی دیوار پر لٹکی ہوئی ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں اُری گیلر کے بچپن کا گھر نظر اتا ہے جو اسرائیل کے شہر تل ابیب میں واقع ہے۔
اُن کی پیدائش سنہ 1946 میں ہوئی تھی جب یہ خطہ برٹش مینڈیٹ فلسطین کہلایا جاتا تھا۔ اُری گیلر بتاتے ہیں کہ جب وہ پانچ برس کے تھے تو اس وقت انھوں نے اپنے زندگی میں پہلی بار اس چمچے کو ٹیڑھا کر دیا تھا جس سے وہ سوپ پی رہے تھے اور اس کے کچھ دیر بعد انھوں نے اپنی حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ اپنے سکول میں کرنا شروع کر دیا۔
'میرے اساتذہ شروع میں تو پریشان ہو گئے۔ میں دیوار پر لگی گھڑی کو دیکھتا اور اپنے دماغ کی طاقت سے اس کی سوئیوں کو ہلا دیتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بعد میں انھوں نے کچھ عرصے قبرص میں گزارا جہاں انھوں نے انگریزی زبان سیکھی اور پھر اسرائیل واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اسرائیلی فوج میں شمولیت اختیار کر لی اور سنہ 1967 کی جنگ میں شرکت کی۔
اس کے بعد انھوں نے بطور فنکار کام کرنا شروع کیا اور اس میں وہ اپنے ’سائیکو کائینسس‘ یعنی ذہنی طاقت کی مدد سے اشیا کو ہلانے اور ٹیلی پیتھی علم پر مبنی فن کا مظاہرے کرتے۔
یہ بھی پڑھیے
اس میں وہ چمچوں اور چابیوں کو ٹیڑھا کرنے، گھڑیوں کو روک دینے یا تیز چلانے کا مظاہرے کرتے اور چھپے ہوئی ڈرائنگز کو درست انداز میں بیان کرنے جیسے تماشے دکھاتے۔
ایک نجی تقریب میں انھوں نے اس وقت کی اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا مئیر کو بھی متاثر کیا اور بعد میں انھوں نے اپنی قومی مقبولیت میں ان کی مدد کا اعتراف کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے بتایا کہ وہ دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں کی بھی نظر میں آئے۔
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے اُری گیلر پر رپورٹ بھی لکھی جس میں کہا گیا کہ ’اس تجرباتی مرحلے میں گیلر کی کامیابی کے نتیجے میں ہم سمجھتے ہیں کہ بغیر کسی شک و شبہ ان کے پاس مافوق الفطرت طور پر چیزوں کا ادراک ہونے کی صلاحیت ہے۔‘
اُری گیلر کے لیے لکھی گئی یہ رپورٹ اب میوزیم کی دیوار پر آویزاں ہے۔
ناکامیوں کے بعد واپسی کا سفر
لیکن شروع میں تمام لوگ ان کی صلاحیتوں کے معترف نہیں تھے۔ سنہ 1973 میں جب انھوں نے خود کو امریکہ میں متعارف کرایا تو انھیں وہاں کے ایک مشہور ٹی وی پروگرام میں سخت خفت کا سامنا کرنا پڑا۔
جانی کارسن کی میزبانی میں منعقد ہونے والے پروگرام ’دا ٹونائٹ شو‘ میں میز پر چمچے، کانٹے وغیرہ رکھے گئے لیکن اُری گیلر اپنے ذہن کی طاقت سے ان کو ٹیڑھا کرنے میں ناکام رہے اور انھوں نے اس پروگرام کے معاندانہ ماحول کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اُری گیلر وہ یاد کرتے ہوئے مجھے بتاتے ہیں: ’مجھے لگا کے میں بس اب ختم ہو گیا ہوں۔ میں اپنے ہوٹل واپس گیا اور اسرائیل واپس جانے کے لیے سامان پیک کرنے لگا کیونکہ بس لگا کہ اب تو سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ میں برباد ہو گیا ہوں۔‘
لیکن اگلی ہی صبح جانی کارسن کے ایک حریف میزبان نے ان کو فون کیا اور اپنے پروگرام پر مدعو کیا۔
یہ تجربہ ’جادوگر‘ اُری گیلر کے لیے ایک سبق تھا، جنھوں نے بعد میں اپنے کرئیر میں ایسے کئی مواقع دیکھے جب لوگوں نے ان کا امتحان لیا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے ناقدین کو برداشت کرنا سیکھ لیا ہے۔
’میرے بارے میں بہت تنازعات ہیں۔ کیا یہ سب حقیقت ہے یا سب جادو ہے۔ اس کے جواب کے لیے مجھے آسکر وائلڈ (معروف مصنف) کا سہارا لینا ہو گا جنھوں نے کہا کہ اگر آپ کے بارے میں لوگ باتیں کر رہے ہوں، تو زندگی میں صرف ایک چیز اس سے زیادہ بُری ہے اور وہ یہ کہ آپ کے بارے میں بات نہ ہو رہی ہو۔‘
لیکن وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ شو بزنس کی زندگی گزارنے میں مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
’حالات ایسے ہو گئے کہ میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور میں ایسا نفسیاتی مریض بن گیا جس کی کھانے پینے سے کوئی رغبت نہیں رہی تھی۔ توجہ کا مرکز بن کر رہنا اور مشہوری کی زندگی گزارنا اور مسلسل دباؤ کا شکار رہنا میرے لیے عذاب بن گیا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اپنے خاندان کے ہمراہ جاپان میں ایک سال گزارنا اُن کی زندگی کا بڑا اہم وقت تھا۔ بعد میں وہ برطانیہ منتقل ہو گئے اور اگلے 35 سال انھوں نے برکشائر کے گاؤں سوننگ آن تھیمز میں گزارے۔
مشہور لوگوں کے دیے ہوئے تحائف
میوزیم کی سیر کے دوران مجھے دنیا کے معروف لوگوں کے نام سُننے کو ملے۔ پہلے اُری گیلر نے مجھے بتایا کہ شہرہ آفاق ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ اُن کی ماں کی جانب سے ان کے دور کے رشتے دار لگتے ہیں۔
پھر انھوں نے بتایا کہ میوزیم میں رکھے گئے 2600 چمچے جو ایک کیڈیلک گاڑی سے چپکے ہوئے ہیں، ایک زمانے میں بہت مقبول شخصیات کی ملکیت میں تھے جیسے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل، امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور امریکی اداکار جیمز ڈین وغیرہ۔

پھر اس کے بعد اس میوزیم میں باکسر محمد علی کے گلووز ، ڈیاگو میراڈونا کی فٹبال اور مصور سلواڈور ڈالی کے دیے ہوئے تحائف بھی موجود ہیں۔ سلواڈور تو اُری گیلر کے لیے استاد کی حیثیت رکھتے تھے اور انھوں نے ہی گیلر کو حوصلہ دیا کہ وہ اس راستے کو اپنائیں۔
اُری گیلر بتاتے ہیں کہ معمر قذافی کی جانب سے دیے گئے جہاز کے پیچھے ایک خطرناک پیغام تھا۔ یہ جہاز لیبیا ائیرلائنز کے طیارے کی نقل تھا جسے 1971 میں اسرائیلی فضائیہ نے تباہ کر دیا تھا۔
اُری گیلر کہتے ہیں کہ شاید لیبیا کے رہنما نے اُن کے توسط سے اسرائیل کو اپنے غصے کا پیغام دیا تھا۔
اور پھر اس پُراسرار سونے کے انڈے کا معاملہ ہے۔
اُری گیلر بتاتے ہیں کہ مشہور بینڈ بیٹلز کے گلوکار جان لینن نے اُن کو یہ انڈہ دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہUri Geller
'جان لینن نے مجھے یہ انڈا دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ خلائی مخلوق کی طرف سے آیا ہے۔ پہلی بات جو میں نے اس سے پوچھی، تم کیا (نشہ آور شے) پی رہے تھے۔ لیکن اس نے قسم کھائی کہ یہ اصلی ہے۔‘
میوزیم میں رکھی گئی کئی چیزیں 80 اور 90 کی دہائی کی ہیں جو مشہور امریکی موسیقار مائیکل جیکسن کی ملکیت میں تھیں، جو اس زمانے میں اُری گیلر کے قریبی دوست تھے۔
میوزیم کی سیر کے لیے آنے والے کئی لوگوں سے میری بات ہوئی تو انھوں نے ان اشیا کو نمائش پر رکھنے کے لیے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا کیونکہ حال ہی میں مائیکل جیکسن پر اُن کی موت کے بعد جنسی زیادتی کے مزید الزامات سامنے آئے ہیں۔
تاہم اُری گیلر ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور مائیکل جیکسن کو بے گناہ سمجھتے ہیں۔
’میرے جیسا کوئی نہیں ہے‘
چھ سال قبل اُری گیلر اپنی اہلیہ ہینا کے ہمراہ اسرائیل واپس لوٹے ہیں۔ ان کے بچے اب لندن اور لاس اینجیلس میں مقیم ہیں۔
’ہر اسرائیلی کے دل میں ایک خاص روحانی، جذباتی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے وطن واپس لوٹے۔ میرے لیے بھی یہ انتہائی اہم تھا۔‘

اُری گیلر کی ذاتی دولت کا بڑا حصہ ’ڈاؤزنگ‘ کی مدد سے آیا ہے۔ ’ڈاؤزنگ‘ وہ عمل ہے جو معدنیات کی دریافت کے لیے ’جادوئی‘ عمل کرنا ہے اور گیلر معدنیات اور تیل کی دریافت کرنے والی کمپنیوں کے لیے یہ عمل کرتے ہیں۔
لیکن وہ ابھی بھی ریٹائرمنٹ کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔
مزید پڑھیے
برطانوی پریس ابھی بھی اُن کا دلداہ ہے۔ اگر حالیہ شہ سرخیوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا کہ انھوں نے فٹبال کے سکور کی پیش گوئیاں کیں، بریگزٹ روکنے کی دھمکی دی، اور سوئز کنال میں اس سال پھنس جانے والے جہاز کو نکالنے کا کریڈٹ لیا، جس میں اُن کا کہنا تھا کہ انھوں نے ٹیلی پیتھی کی مدد پھنسے ہوئے بحری جہاز کو نکالا۔
سلطنت عثمانیہ کے دور میں صابن بنانے والی فیکٹری میں میوزیم کھولنے کے بارے میں انھیں خیال ایک ریئل سٹیٹ ایجنٹ سے ایک ملاقات میں آیا جب اس نے انھیں جافا کے پرانے علاقے میں یہ زمین دکھائی۔
’اس کو دیکھتے ہیں میں سمجھ گیا کہ سوننگ آن تھیمز میں میرا جو کچھ ہے میں اسے یہاں لے کر آ رہا ہوں۔ شاید میں ایک ذخیرہ اندوز ہوں۔ مجھے تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ میرے پاس اتنا کچھ ہے۔ وہ میرے گھر میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔‘

میوزیم کی دیواریں اُری گیلر کے مختلف دوروں کے پوسٹرز سے مزین ہیں اور اب یہ ان کے انوکھے کردار کو پیش کرتی ہیں۔
'مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے جب یہاں کا دورہ کرنے والے لوگ جا رہے ہوتے ہیں اور میں ان سے پوچھتا ہوں، آپ کو مزہ آیا؟ اور ہر کوئی کہتا ہے کہ یہ بہت زبردست تھا۔ یہ ایک غیر معمولی میوزیم ہے۔ نہ آپ کو پوری دنیا میں اس جیسا کوئی میوزیم ملے گا، اور نہ ہی مجھے جیسا کوئی گائیڈ۔‘













