بی بی سی تھری کا کامیڈی ڈرامہ’برٹنی‘: ’میں نے اپنے دماغ کے ٹیومر پر ہنسنے کا فیصلہ کیا‘

چارلی کلائیو
،تصویر کا کیپشنجب چارلی کلائیو کو معلوم ہوا کہ انھیں کینسر ہے تو وہ اس وقت 23 برس کی تھیں

چارلی کلائیو کو جب بتایا گیا کہ ان کے دماغ میں ٹیومر ہے تو وہ روئیں نہ ہی صدمے سے زمین پر گر پڑیں جیسا کہ شاید آپ کو توقع ہو۔ اس کے بجائے انھوں نے سومو سوٹ پہنا اور اپنی بہترین دوست کو گلے لگایا۔

چارلی کلائیو کہتی ہیں کہ ’میرا پہلا ردعمل تھا کہ یہ ایسا نہیں جیسا لگ رہا ہے، کوئی بڑی چیز سامنے آئے گی اور آخر میں کوئی بہت ہی مزاحیہ سی بات ہو گی۔‘

’کینسر کی تشخیص کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں نے کچھ غلط سمجھا ہو۔‘

اپنے پورے علاج کے دوران چارلی مزاح تخلیق کرنے کے بارے میں سوچتی رہیں۔ یہاں تک کہ ان کی کہانی اب بی بی سی تھری کے کامیڈی ڈرامے ’برٹنی‘ کا مرکزی خیال ہے جو چارلی اور ان کی بہترین دوست ایلن نے لکھا۔

’یہ دیوانگی ہے، بہت زبردست ہے۔ ہم دماغ کے اس ٹیومر کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی یہاں تک پہنچنے کا راستہ تلاش کر لیتے لیکن میرے خیال میں یہ ایلن کے لیے ایک بڑی حقیقت ہے کہ ہم یہاں ہیں کیونکہ میں شروع میں یہ شو نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘

’کامیڈی خود پر کنٹرول کا ایک ذریعہ تھی‘

پانچ سال قبل جب چارلی 23 برس کی تھیں تو ان کے دماغ میں ایک رسولی یعنی ٹیومر کی تشخیص ہوئی جو دماغ کے نچلے حصے میں ایک جگہ تک محدود تھا یعنی پھیل نہیں رہا تھا۔

چارلی کی زندگی میں ایلن اس وقت سے تھیں جب یہ دونوں سکول میں پڑھتے تھے۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ کامیڈی شروع ہی سے ان کے لیے صدموں کا مقابلہ کرنے کا ایک ذریعہ تھی۔

چارلی کلائیو
،تصویر کا کیپشناپنے پورے علاج کے دوران چارلی مزاح تخلیق کرنے کے بارے میں سوچتی رہیں

چارلی بتاتی ہیں کہ کامیڈی مکمل طور پر ایک دفاعی ہتھیار تھا۔ ’ہم سمجھتے تھے کہ عفریت کا مقابلہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس پر ہنسا جائے۔‘

ایلن کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایسا محسوس ہو کہ ہم نے وقت ضائع کیا یا جو ہم نے کیا وہ صرف دکھ سے متعلق تھا۔ وہ سب اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ جب آس پاس کچھ برا ہو رہا ہو تو ہنستے ہنستے آنسو نکل جانے سے تکلیف بھی بہہ جاتی ہے۔‘

جب چارلی کو معلوم ہوا کہ انھیں کینسر ہے تو وہ اس وقت 23 برس کی تھیں اور نیویارک میں رہ رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں یہ نہیں محسوس ہوا کہ وہ بیمار ہیں لیکن انھیں اس بات نے ضرور چونکایا کہ انھیں پانچ ماہ سے پیریڈ نہیں ہوئے ہیں۔

یہی وہ موقع تھا جب ڈاکٹر نے انھیں ایم آر آئی سکین کروانے کے لیے کہا اور جس کے ذریعے ٹیومر کے بارے میں معلوم ہوا۔

چارلی کا کہنا ہے کہ یہ بات فوراً ہی عیاں ہو گئی تھی کہ کوئی بھی ٹیومر کا لفظ اپنے منہ سے نہیں کہنا چاہتا تھا اس لیے انھوں نے اس کا ایک نام رکھنے کا فیصلہ کیا۔

’برٹنی ایک ایسا مشہور نام تھا جس کو سن کر تفریح اور دل پھینک قسم کے تصورات ذہن میں آتے ہیں۔ گلوکارہ برٹنی سپیئرز وہ شخصیت ہیں جو بڑی مصیبتوں سے گزری ہیں اور ایک ٹیومر کے لیے یہ نام مجھے مناسب محسوس ہوا۔‘

’بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آپ ان کی بے عزتی کر رہے ہیں لیکن میرا مقصد یہ نہیں تھا۔ ہم نے برٹنی کے بارے میں کبھی تضحیک آمیز گفتگو نہیں کی۔ وہ بس ویسے ہی میرے ذہن میں آ گئی تھیں اور یہ ہم نے طے کیا کہ وہ اس سفر میں ہمارے ساتھ رہیں گی۔‘

’ٹیومر مزاح کا حصہ نہیں‘

اپنی 15 سال کی دوستی کے دوران چارلی اور ایلن اکثر مشترکہ طور پر کامیڈی لکھنے کے بارے میں بات کرتی رہتی تھیں لیکن دونوں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کامیڈی کا مرکزی خیال کیا ہو گا۔ دونوں نے پانچ سال قبل آرٹ کے مشہور میلے ایڈنبرا فرینج کے لیے برٹنی پر لکھنے کی پہلی کوشش کی تھی۔

ایلن بتاتی ہیں کہ ’لوگ ہمارے شو سے باہر آ کر کہتے تھے کہ یہ کیسی پاگل پن والی کہانی ہے۔ تم لوگوں کو اس کا خیال کیسے آیا اور ہم کہتے تھے کہ یہ سب گزشتہ دو مہینوں میں ہوا لیکن اس وقت سے اب تک ہم نے مصنفین کی حیثیت سے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘

اب یہ دونوں 28 سال کی ہو چکی ہیں اور انھیں اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہے کہ دماغ میں رسولی یا ٹیومر سب لوگوں کے لیے مزاح نہیں ہو سکتا لیکن ٹیومر پر زور دینا اصل میں ان کی کامیڈی کا حصہ نہیں بلکہ ان کی کامیڈی ٹیومر کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات اور صورتحال سے متعلق ہے۔

ایلن نے سمجھاتے ہوئے کہا ’ہم یقیناً اسے ایسے نہیں پیش کر رہے کہ آئیے دماغ کے ٹیومر کے بارے میں پانچ مزاحیہ باتوں کا ذکر کرتے ہیں جو زندگی تبدیل کر سکتی ہیں۔‘

’میرے خیال میں اگر ہم برٹنی کے بارے میں نہیں لکھ رہے ہوتے اور ہم جس تجربے سے گزرے ہمیں لکھنے کے لیے کچھ اور مل جاتا لیکن ہم نے یہ شعوری فیصلہ کیا کہ ہمیں یہی لکھنا ہے کیونکہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو یہ لکھ سکتے ہیں۔‘

چارلی اور ایلن
،تصویر کا کیپشنایلن اور چارلی اب 28 سال کی ہو چکی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی کامیڈی ٹیومر کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات اور صورتحال سے متعلق ہے

چارلی کہتی ہیں کہ اس میں بہت کچھ ایسا ہے جو بہت سنجیدہ ہے۔ اس تحریر کا زیادہ حصہ دکھ سے بھرا ہوا ہے ’لیکن میرے خیال میں ہماری دوستی اور تعلق کی وجہ سے ٹیومر کے بارے میں ہماری سوچ اس کامیڈی کو پیدا کرتی ہے۔‘

برٹنی وہ پہلی کامیڈی ہے جو ان دونوں کی مشترکہ کاوش ہے۔ اسے ان کی دوسری کوشش بھی کہا جا سکتا ہے اگر آپ سیکنڈری سکول کے دنوں میں ان کی تحریر ’فائنڈنگ ایمو‘ کو بھی شامل کر لیں۔

ابتدائی طور پر ان دونوں نے برٹنی کو ایڈنبرا فرینج کامیڈی فیسٹول کے لیے لکھا تھا لیکن بعد میں اپنے سکرپٹ کو ٹی وی کے مطابق ڈھال لیا جو چارلی کے مطابق خاصا جذباتی مرحلہ تھا۔

’اُن لمحات میں واپس جانا تکلیف دہ اور عجیب سا تھا۔ ٹی وی کے لیے ہمیں اپنے سکرپٹ کو زیادہ لطیف اور غیر محسوس انداز میں ڈھالنا پڑا۔‘

’اس نے میرے جذبات کو سن کر دیا‘

خوش قسمتی سے ٹیومر کو ایک کامیاب آپریشن کے ذریعے نکال دیا گیا تھا اور چارلی کو بتا دیا گیا تھا کہ اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔ اس لیے اب وہ برٹنی کے بارے میں ماضی کے قصے کے طور پر بات کر سکتی ہیں۔

اپنے ٹیومر برٹنی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ان کے ’جذبات کو بے حس کر دینا‘ اس کی سب سے خطرناک علامت تھی۔

’میں ایک سال سے زیادہ عرصے تک بے حسی کی کیفیت میں رہی۔ آج میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو میں اس عرصے میں بہت لا پرواہ ہو گئی تھی اور ایسی چیزوں کے پیچھے دوڑ رہی تھی جو آسانی سے نہیں ملتیں۔‘

ان کی دوست ایلن نے بھی اس بات کو محسوس کیا تھا۔

’جب میں چارلی سے ملنے نیویارک گئی تو مجھے اندازہ ہوا تھا کہ وہ خاصی لاپروائی اور بے فکری سے زندگی گزار رہی تھیں لیکن میں چونکہ کسی بڑے شہر میں پہلے کبھی نہیں رہی تھی تو میں نے سوچا یہ نیویارک والی چارلی ہے۔‘

ایلن کہتی ہے کہ شکر ہے کہ اب انھیں اپنی بہترین دوست واپس مل گئی ہے اور ایک کاروبار میں شراکت داری کے باوجود دونوں کی دوستی ہمیشہ کی طرح برقرار ہے۔

’14 سال کی عمر میں چارلی ہمیشہ کہتی رہتی تھیں کہ اداکاری ہمارا مستقبل ہے اور وہ ایک زبردست اور شاندار طریقے سے ہم دونوں پر یقین کرتی تھیں۔‘

’لہذا یہ ایک خواب کی طرح ہے جو پورا ہو گیا لیکن کیونکہ ہم ایک خاص تجربے سے گزرے ہیں تو یہ اس طرح ہے کہ جب تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں سب ٹھیک رہے گا۔ شکر ہے کہ ابھی تک ہم ساتھ ہیں۔‘