ولیم گیلاگر کی پونزی سکیم: امریکہ کی بائبل بیلٹ سے لاکھوں ڈالر بٹورنے والا جعلساز

Ilustración de William Gallagher
    • مصنف, برنڈ ڈیبوزمین جونیئر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

اپنے سامعین کے لیے ولیم نیل گیلاگر، المعروف ’ڈاک‘ ایک خوش مزاج مالیاتی گرو ہیں جو مسیحی ریڈیو سٹیشنز پر اپنی خدمات کی تشہیر کرتے ہیں جسے امریکی ریاست ٹیکساس کی ’بائبل بیلٹ‘ یا مذہبی پٹی پر شوق سے سنا جاتا ہے۔

ان کے اشتہارات ایک معروف ٹیگ لائن کے ساتھ اختتام پذیر ہوتے تھے: ’آپ سے اتوار کو چرچ میں ملاقات ہوگی۔‘

یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک تشہیری ویڈیو میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’ڈاکٹر نیل گیلاگر ایک سچے اور عمدہ درجے کے امریکی ہیں جو اپنے معاملات بہت دیانت داری سے سر انجام دیتے ہیں۔‘

’ان کی زندگی کا مقصد لوگوں کو محفوظ طریقے سے، جلدی اور خوشی خوشی ریٹائر ہونے میں مدد دے رہا ہے۔‘

تین منٹ کی ویڈیو میں اس معمر شخص کی صلاحیتوں اور وژن کی تعریف کی گئی ہے۔ ویڈیو میں واضح کیا گیا ہے کہ انھوں نے اپنی کمپنی ، گیلاگر فنانشل گروپ، اور اپنی کتاب ’جیسس کرائسٹ، منی ماسٹر‘ کے ذریعے ایک ہزار سے زائد افراد کو مالی طور پر خودمختار بنانے میں رہنمائی کی ہے۔

لیکن ولیم گیلاگر دراصل ایک دغا باز تھا، جس نے جعلی پونزی سکیم کے ذریعے 32 ملین ڈالر جمع کیے، جس میں اس نے بنیادی طور پر 62 سے 91 برس کے درمیان ریٹائرڈ افراد کو دھوکہ سے کر پیسے بٹورے۔

Una trampa con dinero

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پونزی سکیمیں کیا ہیں؟

پونزی سکیموں میں ابتدائی سرمایہ کار اپنے بعد آنے والے سرمایہ کاروں سے پیسے لے کر منافع کماتے ہیں۔

سکیم میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ آمدنی جائز کاروباری سرگرمیوں سے آتی ہے (مثال کے طور پر مصنوعات کی فروخت یا کامیاب سرمایہ کاری) اور وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ دوسرے سرمایہ کار اس پیسے کا ذریعہ ہیں۔

ہر کسی سے اکثر کم خطرات کے ساتھ بھاری منافع کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

کاروبار جاری رکھنے کے لیے یہ سکیمیں نئے ممبران کے ایک مستقل سلسلے پر انحصار کرتی ہیں جو ان لوگوں کو پیسے دے رہے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے سرمایہ کاری کی ہے۔ جب ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر جعلسازی عیاں ہو جاتی ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ولیم گیلاگر کم از کم سنہ 2013 سے پونزی سکیم کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔

امریکہ کی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے مارچ 2019 میں ان کی دو کمپنیوں، گیلاگر فنانشل گروپ اور ڈبلیو نیل گیلاگر، پی ایچ ڈی ایجنسی کو بند کرنے کا حکم دیا۔

نومبر میں ٹیرنٹ کاؤنٹی، ٹیکساس کے ایک جج نے انھیں تین بار عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ انھیں مارچ 2020 میں ڈیلاس میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

گیلاگر نے اپنے اہداف سے ان کی سرمایہ کاری پر پانچ اور آٹھ فیصد سالانہ منافع کا وعدہ کر رکھا تھا تاہم ان سرمایہ کاروں کو کچھ نہ مل سکا اور ولیم گیلاگر نے زیادہ تر رقم ذاتی اور کاروباری اخراجات کے ساتھ ساتھ سابق سرمایہ کاروں کو ادا کرنے کے لیے استعمال کی۔

Ilustración de la iglesia

دھوکہ دہی کو چھپانے کے لیے اس نے جعلی اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ بھی فراہم کیں، جن میں غلط بیلنس دکھائے گئے۔

بی بی سی نے گیلاگر کے وکیل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

اگرچہ ولیم گیلاگر کے کیس نے قومی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے مگر یہ کوئی نیا طریقہ واردات نہیں ہے۔

اگرچہ پونزی سکیموں کا نام 1920 کی دہائی کے ایک مشہور دغاباز کارلو پونزی کے نام پر رکھا گیا ہے، لیکن ایسی دھوکہ دہی والی سکیموں کا کھرا کم از کم 19ویں صدی کے وسط تک جا ملتا ہے۔

ولیم گیلاگر نے ریڈیو کو اپنے سننے والوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے استعمال کیا۔ جدید میڈیا سے سخت مقابلے کے باوجود کرسچن ریڈیو کئی دہائیوں سے امریکہ میں بےحد مقبول رہا ہے۔

لیکن گیلاگر کے تقریباً 200 متاثرین ایک مختلف رجحان کو ظاہر کرتے ہیں: سینئیر فراڈ (معمر افراد کے ساتھ دھوکہ) ایک ایسا جرم ہے جو امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے خیال میں ہر سال اربوں ڈالر نقصان کا باعث بنتا ہے۔

ولیم گیلاگر کے متاثرین میں 70 کی دہائی میں لیمفوما میں مبتلا ایک خاتون بھی شامل تھیں، جس نے پانچ لاکھ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے کئی حاضر سروس اور ریٹائرڈ مقامی پولیس افسران کو بھی نشانہ بنایا۔

بہت سے متاثرین اپنے گھر بیچنے، اپنے بچوں سے ادھار لینے یا ریٹائرمنٹ کے بعد کام پر واپس آنے پر مجبور ہوئے۔

Una alcancia de ahorro pierde su dinero.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹیکساس کے کرمنل ڈسٹرکٹ اٹارنی، ٹیرنٹ کاؤنٹی میں سینئیر فنانشل فراڈ یونٹ کی سربراہ لوری ورنل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ان کے کریئر میں بڑے فراڈ کا بدترین کیس تھا۔

لوری کے مطابق ’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے یہ رقم بچانے کے لیے اپنی پوری زندگی لگا دی۔ یہ ان کی ذاتی کمائی تھی۔ وہ تباہ ہو گئے ہیں۔ یہ صرف پیسے کی بات نہیں، یہ ایک دھوکہ تھا۔‘

اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے گیلاگر نے گرجا گھروں اور کرسچن ریڈیو کے ذریعے اپنی کمپنی کی خدمات کو فروغ دیا۔

ملک میں ہزاروں کرسچن ریڈیو سٹیشن چل رہے ہیں جو خطبوں اور ٹاک شوز سے لے کر موسیقی اور خبروں تک، ہر قسم کے پروگرام نشر کرتے ہیں۔

ریڈیو ایڈورٹائزنگ بیورو کے مطابق کرسچن ریڈیو امریکہ میں انتہائی مقبول ہے، جہاں 20 ملین سے زائد سامعین اسے ہر ہفتے سنتے ہیں۔

لوری وارنل کے مطابق یہ حیران کن بات نہیں کہ ڈاکٹر گیلاگر نے کرسچن ریڈیو کو اپنے متاثرین کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا۔ ان کے مطابق ’مسیحی برادری کے اندر بہت اعتماد پایا جاتا ہے، خاص طور پر یہاں بائبل بیلٹ میں۔‘

Ilustración de William Gallagher
،تصویر کا کیپشنولیم گیلاگہر

لوری وارنل کے مطابق جب ولیم گیلاگر ایک بار اپنے ہدف کا اعتماد حاصل کر لیتے تو متاثرین کا ’تفصیلات پر زیادہ توجہ‘ دینے کا امکان کم ہو جاتا۔

لاس اینجلس کے سابق اٹارنی ڈیوڈ فلیک کے مطابق یہ حربہ اس طرح جذبات اور خاص تعلق پر کیے جانے والے بڑے فراڈ کی ایک اہم مثال ہے۔

ان سکیموں میں دھوکہ باز ایک قابل شناخت گروپ کے اراکین کو ہدف بناتے ہیں جن میں مذہبی یا نسلی برادریوں سے لے کر خاص پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

بہت سے معاملات میں وہ گروپ کے ہی اراکین کو دوسروں کو اکسانے کے لیے اور لوگوں کو اس کی صداقت پر قائل کرنے کے لیےغیر دانستہ طور پر استعمال ہیں۔

ڈیوڈ فلیک کے مطابق ’آپ اسے تمام ثقافتی گروہوں اور ہر قسم کے ممالک سے آنے والے لوگوں میں دیکھتے ہیں۔‘

Una persona mayor lee la biblia

،تصویر کا ذریعہPeopleImages

سابق وفاقی پراسیکیوٹر جیفری کریمر نے کہا کہ معمر افراد اکثر ایسے سکیمرز کے لیے منافع بخش ہدف ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بچت کی مد میں بڑی رقم موجود ہوتی ہے۔

ان کے مطابق ’اس عمر کے زیادہ تر افراد کے پاس زیادہ پیسہ ہوتا ہے کیونکہ انھوں نے زیادہ عمر کام کیا ہوتا ہے۔‘

’20 برس کے کسی فرد کو دھوکہ دینے کی کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ 60 یا 70 کی دہائی میں کسی کے پاس متعدد سرمایہ کاری ہوسکتی ہے اور ایک گھر جس کی قیمت ان کی سرمایہ کاری سے کم از کم پانچ گنا زیادہ ہے۔‘

لوری وارنل کا کہنا ہے کہ گیلاگر نے اپنے متاثرین کے عقیدے کے علاوہ جو نوجوان اور معمر افراد کی نسل میں فرق ہوتا ہے، اس کا بھی فائدہ اٹھایا ہے۔

ان کے مطابق ’اگر کوئی آپ کا ہاتھ ملاتا ہے اور آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا ہے تو یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ شخص ٹھیک ہے۔‘

ایسے مذہبی افراد لوگوں پر یقین کرتے ہیں کیونکہ ان کے نذدیک جھوٹ بولنا تو مذہبی عقیدے کے ہی خلاف ہے۔

Ilustración del libro "Jesus Christ, Money Master", de William Gallagher.

فراڈ کے ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے کیسز کا صرف ایک حصہ رپورٹ کیا جاتا ہے اور وہ معاملات جو عدالت میں جاتے ہیں، متاثرین کو ان کی رقم واپس ملنے کا امکان نہیں ہوتا۔

دھوکہ دہی کرنے والا اکثر فنڈز آتے ہی انھیں خرچ کر دیتا ہے یا انھیں ادائیگیاں جاری رکھنے یا غیر ملکی کھاتوں میں چھپانے کی کوشش کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

جذباتی قیمت

گیلاگر کے کیس میں رقم کا ایک حصہ خرچ کیا گیا، دوسرا حصہ قرض چکانے کے لیے استعمال ہوا جبکہ باقی کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

اگرچہ دھوکہ دہی کے مالی اخراجات متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں لیکن اکثر اصل اثر اس سے بھی زیادہ گہرا ہوتا ہے۔

جیفری کے مطابق ’یہ ایک جذباتی اور نفسیاتی قیمت پر آتا ہے۔‘

’جب آپ نے 20، 30، 40 سال کام کیا ہے اور آپ کے پاس اب کچھ باقی نہیں رہا تو یہ ایک شرم کی وجہ بن جاتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے

عدالت میں، گیلاگر کے بہت سے متاثرین نے اس نفسیاتی نقصان کے بارے میں بات کی ہے۔

ان میں ایک 74 برس کی خاتون سوسن پپی بھی شامل تھیں، جس نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اس سکینڈل میں لاکھوں ڈالر کا نقصان کیا۔

انھوں نے ٹیرنٹ کاؤنٹی کے استغاثہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ مجھے اب کسی پر بھروسہ نہیں ہے ’سوائے خدا کے اور میرے خاندان کے!‘

لوری کے مطابق اس قسم کے فراڈ ختم نہیں ہونے والے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دھوکہ بازوں کی طرف سے ایک ’مشترکہ حملہ‘، جن میں سے بہت سے بیرون ملک ہیں، امریکیوں سے ریٹائرمنٹ فنڈز ’ہر روز لاکھوں‘ کی شرح سے چرا رہے ہیں۔

ان کے مطابق معمر افراد اور ان کے خاندان والوں کو باخبر رہنا چائیے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی مذہبی وجوہات کی بنا پر آپ سے رابطہ کرتا ہے، تو آپ کو بہت شک کرنا چاہیے۔‘

جیفری کریمر کے مطابق سوشل میڈیا پر نوجوان اور زیادہ ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھے ہیں اب ان کے ساتھ اس قسم کے فراڈ ذیادہ ہونے کے امکانات ہیں۔

ایک سکیمر بہت زیادہ سامعین تک پہنچ سکتا ہے، لیکن پھر وہ ایک اکاؤنٹ کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور پھر غائب ہو جاتا ہے۔