پٹھوں میں کمزوری کی بیماری: ’میری ماں کو کہا گیا کہ تم نے ایسا کیا گناہ کیا تھا کہ تمہاری ایسی اولاد ہوئی‘

نیلسن اوکامپو کولمبیا کے شہر میڈلن میں پلے بڑھے۔ لیکن جب وہ دو سال کے تھے تو ان کو پٹھوں میں کمزوری کی بیماری ہو گئی اور یہ کبھی پتہ نہ چل سکا کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس بیماری کے باعث نیلسن کی پڑھائی بھی متاثر ہوئی اور انھوں نے پھر 15 برس سے زیادہ عرصہ صرف اپنے گھر پر گزارا۔

لیکن پھر مصوری اور فٹبال، ان دونوں کی مدد سے انھوں نے نہ صرف اپنی سکول کی تعلیم مکمل کی بلکہ اس کے بعد 39 برس کی عمر میں انھوں نے یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی اور میڈلن میں گھریلو اور جنسی تشدد کے خلاف کام کرنے والی کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔

نیلسن نے بی بی سی منڈو کے ساتھ اپنی زندگی کی کہانی شئیر کی ہے۔

میں آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ ہمارا خاندان ایک دوسرے سے بہت پیار کرنے والا اور ایک دوسرے کے کام آنے والا تھا۔ میں میڈلن شہر میں دو جولائی 1963 کو پیدا ہوا۔

اپنی زندگی کے 58 برس، جو میں نے گزارے ہیں، اس میں سے نصف حصہ میں نے وہیل چئیر پر گزارا ہے۔ اور اس پورے عرصے میں مجھے اپنے گھر والوں کی مدد ایک مرتبہ بھی خود سے مانگنی نہیں پڑی کیونکہ وہ ہر دم میرے ساتھ تھے۔

پیدائش کے وقت میں نارمل تھا اور اپنے دیگر بہن بھائیوں کی طرح تھا۔ لیکن میری ایک بہن جو مجھ سے ایک سال بڑی ہے، اسے 16 ماہ کی عمر میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے جب ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا تو انھوں نے کہا کہ انھیں چلنے پھرنے میں مشکلات ہیں۔

ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی اسی عمر میں ہوا: جب میں 16 مہینے کا تھا تو مجھے بھی ڈاکٹرز کے پاس لے جایا گیا تو انھوں نے میرے مرض کی تشخیص کی اور میرے والدین کو بتایا کہ مجھے 'پٹھوں میں کمزوری' (progressive muscular dystrophy) کی بیماری ہے جو کہ وقت کے ساتھ بگڑتی جائے گی۔

اس تشخیص کے بعد بہت سے اثرات سامنے آئے۔ ایک بات یہ تھی کہ میں اپنا بچپن تو ایک نارمل بچے کی طرح گزار سکتا تھا جس میں مجھے کچھ دشواریاں ضرور تھیں مگر پھر یہ بھی معلوم تھا کہ عمر کے ساتھ ایک دن ایسا آئے گا جب مجھے وہیل چئیر میں ہی بیٹھنا ہو گا اور میرے لیے اس کے بعد اپنے پیروں پر کھڑا ہونا انتہائی دشوار ہو گا۔

میں چار سال تک تھیراپی میں رہا، تاکہ ایسا کوئی علاج مل سکے اور میں وہیل چئیر تک محدود نہ رہوں لیکن ایسا نہ ہوا۔

ان دنوں میڈلن ایسا شہر نہیں تھا جیسا کہ ہم اسے آج جانتے ہیں، وہ بہت چھوٹا سے شہر تھا۔ وہاں بہت زیادہ لاعلمی تھی۔ میرے گھر والے ایک علاقے میں رہتے تھے جس کا نام لا ملاگروزا تھا۔

ہمارے والد بہت امیر نہیں تھے لیکن انھوں نے ہمارے لیے سب کچھ کیا۔ میری بیماری کے باعث میرے والدین کو میرے لیے مخصوص آرتھوپیڈک جوتے خریدنے پڑتے تھے۔

میڈلن میں 'بلئنگ' یعنی دھونس اور ہراس کا سلسلہ بہت زیادہ تھا۔ سکول میں مجھے بہت کچھ سننے کو ملتا تھا۔ کوئی مجھے ’فرینکنسٹائن‘ کہتا۔ لیکن جو چیز میرے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی وہ یہ کہ جب لوگ میری ماں کو سر راہ چلتے چلتے میرے حوالے سے فقرے کستے۔

ہم بہت مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ ایک عورت نے میری ماں کو دیکھا جو میرے ساتھ چل رہی تھیں اور میں بڑے بڑے آرتھوپیڈک جوتے پہنے ہوا تھا، اور اس عورت نے جو بات کہی وہ میں کبھی بھی بھلا نہیں پایا ہوں: ’تم نے کون سے ایسا گناہ کیا تھا کہ تمہاری ایسی اولاد ہوئی ہے۔‘

بچپن کے ان دنوں کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ مجھے فٹبال کھیلنا نصیب ہوا تھا، خاص طور میرے اپنے بھائیوں کے ساتھ جنھیں فٹبال کھیلنا بہت پسند تھا۔ ان میں سے ایک بھائی نے تو باضابطہ ایک ٹیم میں جگہ بھی بنا لی تھی۔

میرے بھائی مجھے فٹبال کے میچز میں لے جاتے۔ میں بہت برا کھلاڑی تھا لیکن مجھے یہ کھیل بے حد پسند تھا۔ اور مجھے یہ احساس ہوا کہ میں اپنے بھائیوں کی طرح کھیل تو نہیں سکتا لیکن مجھے اس کھیل کی سمجھ بہت ہے اور مجھے اندازہ تھا کہ ٹیمیں کیسے کھیلتی ہیں۔

کیونکہ میرا سکول میرے گھر سے بہت نزدیک تھا اس لیے میرا وہاں جانا ممکن ہوا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہاں سیکنڈری کی تعلیم نہیں تھی تو جب میں نے ابتدائی تعلیم حاصل کر لی، میرے لیے نیا سکول ڈھونڈنا شروع کیا گیا۔

میرے محلے میں جو سکول بچا تھا جہاں میں بغیر کسی گاڑی کے جا سکتا تھا، وہاں میکینِکس کی خاص تعلیم دی جاتی تھی۔

جب میرے والدین وہاں مجھے داخلہ کرانے لے گئے تو انھیں سکول والوں نے بتایا کہ وہ مجھے میری بیماری کے باعث داخلہ نہیں دے سکتے کیونکہ میں سکول میں دی جانے والی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ضروری کام کرنے سے قاصر تھا۔

میڈلن شہر میں اس وقت اتنے زیادہ سکول بھی نہیں تھے۔ میں کسی اور سکول جا سکتا تھا لیکن اس کے لیے مجھے ٹیکسی لینی ہوتی اور میرے والدین کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ میرے لیے روزانہ کا خرچہ برداشت کریں۔ ان کی بڑی کوششوں کے باوجود میں اپنی پڑھائی جاری نہ رکھ سکا اور مجھے گھر بیٹھنا پڑا۔

گھر میں اکیلا پن

جب میں نے سکول جانا چھوڑا، تو شروع شروع میں کم سے کم میں گلی میں باہر جا کر کھیل سکتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ میرے ہاتھوں اور پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

اور اس کی وجہ سے میں نے باہر جانا بھی بہت کم کر دیا، کیونکہ میں صرف ننگے پاؤں ہی تھوڑا بہت چل سکتا تھا اور ظاہر ہے کہ گلی میں ننگے پاؤں تو میں نہیں جا سکتا تھا۔

تو میرے لیے اب صرف ایک ہی جگہ بچی تھی اور پھر وہی جگہ میری اکلوتی دنیا بن گئی۔

اپنے گھر پر گزارے اس عرصے میں مجھے یاد ہے کہ میں بہت زیادہ کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ اخبار، انسائیکلوپیڈیا، مختلف موضوعات پر لکھی گئی کتابیں، لیکن سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ جس چیز نے مجھے زندہ رہنے کی امید دی، وہ تھی مصوری۔

میں بمشکل ہی برش کو پکڑ سکتا تھا لیکن یہ وہ چیز تھی جس سے میں اپنی قید سے باہر نکلنے کے لیے ہمت کرتا تھا۔

کولمیبا، اور بالخصوص میڈلن میں ان دنوں معذور بچیوں اور خواتین کو مصوری کرنے کے لیے سامان بھیجا جاتا تھا تاکہ انھیں سکھایا جا سکے۔ اس کے لیے واٹر کلر کا استعمال ہوتا تھا۔ میرے گھر پر یہ چیز میری بہن کے لیے بھیجی جاتی تھیں لیکن اسے ان میں دلچسپی نہ تھی۔

لیکن جب میں نے ان چیزوں کو دیکھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ نہ صرف میں یہ کر سکتا ہوں، بلکہ مجھے یہ پسند بھی ہے۔

شروع شروع میں یہ آسان نہ تھا لیکن جیسے جیسے میری بنائی ہوئی پینٹنگ سے مجھے ایک آزادی کا احساس ملنا شروع ہوا، میرے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔

دو سال بعد وہاں معذروں کے لیے پینٹنگ کا ایک مقابلہ منعقد ہوا۔ یہ پہلی بار تھا جب میں نے کسی ایسے مقابلے کے بارے میں سنا تھا لیکن مجھے لگا کہ جو پینٹنگز میں نے بنائی ہیں، کیا ان میں سے چند اتنی اچھی ہیں کہ انھیں میں اس مقابلے میں بھیج سکوں۔

میں نے ان میں سے چند کو بھیج دیا اور کچھ مہینے کے بعد مجھے وہاں سے جواب ملا کہ اس مقابلے میں میرا دوسرا نمبر آیا ہے۔

اس وقت تک میری بیماری بہت بڑھ چکی تھی لیکن کسی کی مدد سے میں کم سے کم اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا تھا۔ ان دنوں میرے خاندان میں ہمارے ایک قریبی جاننے والی کی وفات ہوئی تھی لیکن میرے گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پھر بھی اس نمائش میں جانا ایک اچھا خیال ہوگا۔

اس نمائش میں مجھے اپنی پینٹنگ دیکھ کر اتنی خوشی ہوئی، اور خاص کر جب میرے دوستوں کی موجودگی میں میرا نام پکارا گیا۔ اس تقریب کے دوران میں زیادہ تر وقت اپنے پیروں پر ہی تھا لیکن تھکن کے باعث میں بیٹھ گیا۔

فٹبال کے میدان میں

وہیل چئیر پر بیٹھنے کے بعد کہیں بھی آنے جانے میں میری دشواریوں میں اضافہ ہوا۔

یہ 80 کی دہائی تھی اور کولمبیا میں طرز تعمیر ایسا نہیں تھا کہ اس میں معذور افراد کے لیے کوئی مدد ہو، اور کہیں بھی جانے کے لیے آپ کو دوسروں کا سہارا لینا پڑتا تھا۔

میرے محلے میں چند لڑکوں نے ایک فٹبال ٹیم بنائی جو میڈلن میں ہونے والے چھوٹے مقابلوں میں شرکت کرتی تھی۔ میں انھیں کھیلتے ہوئے تو دیکھنے نہیں جا پاتا تھا لیکن میچوں کے بعد میں ان سے ضرور ملتا تھا جب وہ محلے میں واپس آ جاتے تھے۔

عام طور پر یہ لوگ ہمیشہ میچ ہار جاتے تھے۔ اور میں نے سنا تھا کہ یہ لڑکے آپس میں بہت لڑتے تھے کیونکہ وہ ایک دوسرے کی بات نہیں سمجھ پاتے تھے، اور اس کے علاوہ میں نے یہ بھی سنا کہ ان کی غلطیاں کیا کیا ہوتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

تو ایسے میں ان لڑکوں سے بات کرتے ہوئے میں اپنی رائے بھی دیتا تھا۔ تو ایک دن چند لڑکے میرے پاس آئے اور کہا کہ نیلسن تم ہمارے مینجر کیوں نہیں بن جاتے۔

یہ سننے کے بعد پھر ہم نے پہلے چھوٹے مقابلوں کی لیگ میں شرکت کی، اور پھر آہستہ آہستہ ہم بڑے مقابلوں میں شرکت کرنے لگے۔ اور پھر ہم ملک کی سب سے مشکل لیگ تک پہنچ گئے۔

اور یہ آسان نہ تھا۔ نہ صرف ان لڑکوں کو ہر مقابلے میں مجھے ساتھ لے جانا ہوتا تھا، بلکہ ٹریننگ کرنے والے دنوں میں بھی مجھے باقاعدگی سے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔

انھی دنوں مجھے یہ سمجھ آیا کہ کوئی فٹبال ٹیم اور کوئی محلہ کیسے کتنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مجھے کبھی بھی اس بات کی پریشانی نہیں ہوئی کہ میری وہیل چئیر چلانے کے لیے کوئی موجود نہیں ہوگا، مجھے ٹیکسی میں بٹھانے کے لیے کوئی نہیں ہوگا۔ اور میرے گھر والے، جو جانتے تھے کہ فٹبال ٹیم سے مجھے کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی، انھوں نے پھر بھی میری مدد ہمیشہ جاری رکھی۔

لیکن جہاں فٹبال سے مجھے بہت اچھی یادیں ملیں، اس کے ساتھ ساتھ چند ناخوشگوار چیزیں بھی وابستہ تھیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ میں ہراس کا شکار پہلے بھی ہوا تھا۔ کئی بار جب ہم مقابلوں پر جاتے تو ریفری یا حریف ٹیم کے کھلاڑی میرے پاس آتے اور مجھے غیر یقینی انداز میں دیکھتے جیسے میں کوئی عجوبہ ہوں۔ جیسے کہ وہیل چئیر پر بیٹھا کوئی شخص کیسے ایک فٹبال ٹیم کا مینیجر ہو سکتا ہے اور ان کے خلاف جیت سکتا ہے۔

ایسی ہی ایک دوپہر تھی جب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب میں فٹبال سے منسلک نہیں رہوں گا۔ ایک میچ کے دوران میرے پانچ کھلاڑیوں کو بغیر کسی وجہ کے نکال دیا گیا اور حریف ٹیم باآسانی جیت گئی۔ میں شدید غصے میں تھا اور پہلی بار میں کسی ریفری کے پاس اپنی شکایت لے کر گیا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔

مجھے بتایا گیا کہ یہ اس لیے ہوا ہے تاکہ مجھ پر یہ واضح ہو جائے کہ فٹبال میرے جیسے لوگوں کے لیے نہیں ہے۔

یہ پہلا موقع تھا جب میں کسی فٹبال مقابلے کی وجہ سے رویا تھا، اور آخری موقع تھا جب میں نے کسی ٹیم کو مینیج کیا تھا۔

اس کردار میں مجھے نہ صرف ٹیم کی میدان کی حکمت عملی بھی طے کرنی ہوتی تھی، آپ کو ان لڑکوں کی ذاتی زندگی میں بھی مدد فراہم کرنی ہوتی تھی۔

میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ میری ٹیم میں ایک لڑکا تھا جو نوکری کی تلاش میں تھا۔ اسے ایک نوکری ملی لیکن ساتھ میں کہا گیا کہ وہ اسی صورت میں نوکری شروع کر سکتا ہے جب وہ ہائی سکول کی تعلیم پوری کر لے۔

اس لڑکے نے نویں جماعت تک پڑھائی کی ہوئی تھی۔ تو وہ میرے پاس آیا اور پوچھا کہ وہ کیا کرے۔ میں نے اسے جو بات کہی، وہ جملہ ہم میڈلن میں بہت استعمال کرتے ہیں۔ میں نے اسے کہا: 'مجھے نہیں معلوم، لیکن پتہ چل جائے گا۔'

اور پھر ایسا ہی کچھ ہوا۔ میں نے اس لڑکے کی مدد کی غرض سے جگہیں دیکھیں تاکہ معلوم ہو کہ کوئی ایسی جگہ ہے جو اس کا امتحان لے سکے۔ میری ٹیم کے دیگر لڑکوں نے بھی ایسا امتحان دینے کے بارے میں سوچا، اور پھر ان دنوں ایک لڑکا میرے پاس آیا اور پوچھا کہ 'ٹیچر، آپ خود کیوں نہیں یہ امتحان دیتے۔'

میں نے چھ ماہ تک امتحان کی تیاری کی۔ بیس سال قبل پڑھائی چھوڑنے کے باوجود میں نے لکھنا پڑھنا نہیں چھوڑا تھا شاید اسی لیے مجھے امتحان پاس کرنے کا پورا یقین تھا اور ایسا ہی ہوا۔

اسی وقت ایک افسوس ناک لیکن حیران کن بات ہوئی۔ شہر میں منشیات فروشی میں اضافے کے بعد موٹرسائیکلوں کی بہتات ہو گئی جس کا نقصان یہ ہوا کہ کئی بچے حادثات کا شکار ہو کر ویل چیئر تک محدود ہو گئے۔ منشیات فروشوں کے گینگز کی لڑائیوں کے دوران فائرنگ نے بھی حادثات اور معذور بچوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا۔

کچھ ہی وقت میں میرے ارد گرد ایسے نوجوان افراد کی تعداد بڑھ گئی جن کی معذوری مجھ سے ملتی جلتی تھی۔ اس کے بعد معذور افراد کے لیے مختلف جگہوں تک رسائی میں بہتری تو نہیں ہوئی لیکن کچھ چیزیں ضرور بہتر ہوئیں جیسا کہ شہر میں میٹرو کا افتتاح ہوا۔

ہائی سکول پاس کرنے کے بعد مجھے پڑھائی میں مزہ آنے لگا اور اسی لیے میں نے شہر کی سب سے بڑی یونیورسٹی اینٹیکویا میں داخلے کی درخواست دے دی۔

اور میں سوشیالوجی میں پاس بھی ہو گیا۔ اسی طرح میں نے اپنی زندگی کے پانچ بہترین سال گزارے جس کی ایک ہی وجہ تھی کہ کالج میں خود کو میں نے کبھی معذور نہیں سمجھا۔

یہ ایسی جگہ تھی جہاں میں صرف ایک طالب علم تھا۔ مجھے کبھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے کسی کو کہنا نہیں پڑتا تھا۔ نا ہی مجھے کبھی کوئی کلاس اس لیے چھوڑنی پڑی کہ میں اس میں نہیں جا سکتا تھا۔ اگر کسی وجہ سے کلاس روم تک میری رسائی مشکل ہوتی تو میرے اساتذہ اس کا نعم البدل فراہم کر دیتے تھے۔ اسی بات نے میری زندگی بدل دی۔

میرے مقالے سے متاثر ہو کر میرے ایک پروفیسر نے مجھے ایک ایسے پروگرام کا حصہ بنا لیا جس میں شہر میں جنسی تشدد، خاندانی جھگڑوں اور جبری ہجرت جیسے معاشرتی مسائل پر توجہ دی جاتی تھی۔

آغاز میں یہ ایک انفرادی منصوبہ تھا لیکن بعد میں اسی کے تحت ایک ایمرجنسی سروس لائن کی بنیاد رکھی گئی جس کے ذریعے ایمبولنس، پولیس اور فائر بریگیڈ سے رابطہ کیا جا سکتا تھا۔ مجھے لگا کہ ایسی ضروری سہولیات تک براہ راست رسائی ایک اچھا خیال ہوگا۔

اس کے بعد میں نے پہلے اسی سروس میں فون کالز لینا شروع کر دیں۔ اب میں اس سروس کا کوآرڈینیٹر ہوں اور اس کام نے میڈلن کے شہریوں کی تکالیف کو میرے سامنے آشکار کر دیا۔ اس شہر میں مساوات نہیں ہے کیوں کہ یہاں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد تکلیف میں ہے اور ان کے پاس وسائل کی کمی ہے۔

یہ کہنا ضروری ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں معذور افراد کے لیے مختلف جگہوں تک رسائی پر بہت کام ہوا ہے لیکن اس کے باوجود عام لوگ معذوروں کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اب بھی شہروں کے ڈیزائن میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ معذور افراد بھی اس کا حصہ ہیں۔

لیکن ہم پھر بھی اس شہر کا حصہ ہیں۔ اور کسی قسم کی جسمانی اور ذہنی دیوار ہمیں ہمارے حق سے علیحدہ نہیں کر سکتی۔ اور وہ حق ہے میڈلن اور کولمبیا کا حصہ رہناـ