دیوالی: انڈیا میں ’روشنیوں کا تہوار‘ کیسے منایا جا رہا ہے؟

دیوالی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا میں آج دیوالی کا تہوار منایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں ملک میں شاندار چراغاں کیا گیا ہے۔

دیوالی ہندو مذہب کا ایک اہم تہوار ہے اور اسے ’روشنیوں کے تہوار‘ کے طور پر جانا جاتا ہے کیونکہ لوگ اس تہوار کے موقع پر دیے اور موم بتیاں روشن کرتے ہیں جو کہ روشنی کے اندھیرے پر اور اچھائی کے برائی پر غالب آنے کی علامت ہے۔

اور یہ علامت بطور خاص کورونا وائرس کے دوران بہت معنی رکھتی ہے۔

دیوالی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا میں کورونا وبا کے باعث اب تک ساڑھے چار لاکھ افراد ہلاک جبکہ ساڑھے تین کروڑ سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔

دیوالی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس تہوار کو منانے کے لیے لوگ اپنے گھروں کو لالٹینوں اور برقی لیمپس سے بھی سجاتے ہیں
دیوالی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہ تہوار دولت کی دیوی لکشمی سے بھی منسلک ہے

تہوار کی اصل تاریخوں میں ہر سال تبدیلی ہوتی ہے اور دن کا چناؤ چاند کی پوزیشن کو دیکھ کر کیا جاتا ہے لیکن عموماً یہ اکتوبر اور نومبر کے دوران ہوتا ہے۔ اس برس دیوالی جمعرات یعنی آج منائی جا رہی ہے۔

گذشتہ برس کورونا وائرس کے عروج کی وجہ سے دیوالی سے منسلک بہت سی رسومات روایت کے مطابق پوری نہیں کی جا سکی تھیں اور بیشتر افراد نے مندروں میں جانے کی بجائے آن لائن سٹریمنگ کے ذریعے پوجا پاٹ میں شرکت کی تھی۔

دیوالی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندیوالی سے قبل بازاروں میں خریداروں کی بھیڑ کی وجہ سے کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلنے کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا

دلی کے بازاروں میں شدید رش دکھائی دے رہا ہے اور حکام نے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے وبا کے پھیلاؤ میں خطرناک حد تک اصافہ ہو چکا ہے اور یہ صورتحال انڈیا کے صحت کے نظام پر پھر ایک بوجھ بن سکتی ہے۔

GETTY

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندلی کی سروجانی نگر مارکیٹ جہاں لوگوں کی بڑی تعداد شاپنگ کے لیے گئی
دیوالی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشمال مشرقی ریاست آسام کی ایک مارکیٹ میں کھڑی یہ خاتون دیوالی کے موقع پر سجاوٹ کے لیے خریداری کر رہی ہیں

رواں برس اپریل اور مئی کے دوران انڈیا کے ہسپتالوں میں کورونا متاثرین کی بڑی تعداد آئی اور ملک کو آکسیجن کی انتہائی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔

فی الحال صحت عامہ کا بحران پہلے کی نسبت بڑی حد تک کم ہو گیا ہے مگر اب بھی ملک میں روزانہ تقریباً دس سے 12 ہزار کیسز ریکارڈ ہو رہے ہیں۔

لیکن ماہرین نے بار بار خبردار کیا ہے کہ ملک میں انفیکشن کی تیسری لہر ناگزیر ہے۔

A view of the Jal Mahal from the Garh Ganesh Temple

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگنیش مندر سے جل محل کا منظر
Government officials have been urging people to maintain social distancing and to wear masks during the festive season

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحکومتی افسران شہریوں کو تاکید کر رہے ہیں کہ وہ سماجی فاصلے کو برقرار رکھیں اور تہوار کے دوران ماسک پہنے رکھیں
People celebrate Diwali by setting off firecrackers

،تصویر کا ذریعہSANJAY KANOJIA

،تصویر کا کیپشندیوالی کے موقع پر لوگ آتش بازی کرتے ہوئے

لیکن کورونا ایک واحد مسئلہ نہیں ہے۔ تہواروں کے دوران آتش بازی سے بھی ہر سال ہوا میں آلودگی بڑھ جاتی ہے۔

خاص طور پر دلی میں بہت بری صورتحال ہے جہاں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور وہاں سموگ نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ نومبر اور دسمبر میں پنجاب اور ہریانہ کی ہمسایہ ریاستوں میں فصلوں کی باقیات جلانے سے بھی ہوتا ہے۔

اگرچہ ماضی میں اس طرح کی پابندیوں پر تنقید کی جاتی تھی لیکن اس بار دیوالی سے پہلے بہت سی ریاستوں میں آتش بازی کرنے پر مکمل یا جزوی پابندی لگانے کا حکم دیا گیا تھا۔