عمران خان: افغان لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی غیر اسلامی ہوگی

عمران خان
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ افغانستان میں خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتی ہیں

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنا غیر اسلامی ہوگا۔

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں پاکستان کے وزیرِ اعظم نے نئی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے لیے اپنی شرائط بھی بتائیں۔

انھوں نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ مل کر چلیں یعنی افغانستان میں ایک شمولیتی حکومت قائم ہو، وہ افغانستان میں انسانی حقوق کے احترام کی یقین دہانی کرائیں اور یہ کہ افغانستان کو ایسے دہشت گردوں کو پناہ دینے کے لیے استعمال نہ کیا جائے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

جب بی بی سی کے جان سمپسن نے عمران خان سے یہ پوچھا کہ اگر طالبان ان تین شرائط کو تسلیم کر لیتے ہیں تو کیا پاکستان طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے گا؟

اس کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان یہ فیصلہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کرے گا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان دیگر پڑوسی ریاستوں کے ساتھ مل کر اس بات پر فیصلہ کرے گا کہ طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جائے یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’تمام پڑوسی اکٹھے ہوں گے اور دیکھیں گے کہ وہ کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔‘

وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ’انھیں تسلیم کرنا ہے یا نہیں یہ ایک اجتماعی فیصلہ ہو گا۔‘

لڑکیوں کی تعلیم

یاد رہے کہ پچھلے ہفتے طالبان نے افغانستان کے سیکنڈری سکولوں میں لڑکیوں کو نہیں جانے دیا تھا اور صرف لڑکوں اور مرد اساتذہ کو ہی واپس جانے کی اجازت دی تھی تاہم پاکستان کے وزیراعظم کہتے ہیں کہ انھیں یقین ہے کہ لڑکیاں جلد ہی سکولوں میں واپس جا سکیں گی۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ خواتین کو سکولوں میں جانے کی اجازت دے دیں گے۔ یہ خیال ہی اسلامی نہیں کہ خواتین کو تعلیم نہیں دینی چاہیے۔ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔‘

واضح رہے کہ جب سے طالبان نے اگست میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالا، ایسے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ 1990 کی دہائی کی حکومت واپس آ جائے گی جس وقت سخت گیر اسلام پسندوں نے خواتین کے حقوق کو سختی سے محدود کر دیا تھا۔

طالبان کی قیادت کا مؤقف ہے کہ خواتین کے حقوق کا احترام ’اسلامی قانون کے دائرے میں‘ کیا جائے گا۔

گزشتہ ہفتے لڑکیوں کو سکول واپس نہ جانے دینے کے طالبان کے فیصلے سے بین الاقوامی سطح پر شور مچ گیا تھا اور پھر طالبان کے ترجمان کو کہنا پڑا تھا کہ ’جتنا جلدی ممکن ہو سکا ‘وہ کلاس رومز میں واپس آ جائیں گی۔

لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ لڑکیاں سکولوں میں کب واپس جا سکیں گی اور اگر گئیں تو انھیں کس قسم کی تعلیم دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

’طالبان کے بیانات حوصلہ افزا‘

عمران خان نے جان سمپسن کو بتایا کہ ’انھوں (طالبان) نے اقتدار میں آنے کے بعد جو بیانات دیے ہیں وہ بہت حوصلہ افزا ہیں۔‘

اس موقع پر عمران خان نے طالبان کی شمولیتی حکومت، خواتین کو کام کرنے اور ان کی تعلیم اور عام معافی سے متعلق بیانات کا ذکر کیا۔

اس پر جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ طالبان حکومت کے اب تک کے اقدامات سے مطمئن ہیں تو عمران خان نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف طالبان کے اب تک سامنے آنے والے بیانات کو مثبت سمجھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اب کیا ہو گا۔ درحقیقت کوئی بھی یہ بات نہیں کہہ سکتا لیکن ہم امید اور یہ دعا کر سکتے ہیں کہ آخر کار 40 برس بعد افغانستان کے عوام کو امن اور استحکام ملے گا۔‘

جب جان سمپسن نے پوچھا کہ طالبان رہنما تو کچھ اور کہتے ہیں لیکن جو لوگ زمین پر ہیں، گلیوں میں ہیں اور جن کے ہاتھ میں طاقت ہے وہ کچھ اور کرتے ہیں۔ کیا اس سے عام افغانوں کی زندگی مشکل نہیں ہو جائے گی؟ تو اس کے جواب میں وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ افغانستان یہاں سے کس سمت میں جائے گا۔ ’لیکن میری سب سے بڑی پریشانی اس وقت سر پہ کھڑا انسانی بحران ہے، کیونکہ آپ کو یاد ہے نہ افغانستان کا 75 فیصد بجٹ غیر ملکی امداد ہے، اس لیے جب آپ غیر ملکی امداد نکال دیں گے تو ان کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہو گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ بتاؤں کہ کیا ہو گا۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ ہو۔ اگر وہ اپنی کی گئی باتوں پر قائم رہتے ہیں تو یہ ایک نیا آغاز ہو گا۔‘

جان سمپسن نے وہیں سوال کیا کہ آپ کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ انھیں یہ بتانے گئے تھے؟ تو عمران خان کا جواب تھا کہ ان کی اہم تشویش وہاں موجود تین مختلف دہشت گرد گروہ ہیں جو پاکستان پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک داعش ہے، جو بلوچستان میں شیعہ اور ہزارہ برادری پر حملے کرتا ہے، اس کے بعد تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہے، جنھیں یہاں سے نکال دیا گیا ہے لیکن وہ افغانستان میں ہیں اور پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے پاکستان میں چینی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

’تیسرے بلوچ دہشت گرد ہیں، وہ علیحدگی پسند جو بلوچستان پر حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔ لہذا ہماری بنیادی تشویش یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے۔‘

عمران خان کا طالبان کو مزید وقت دینے کا مطالبہ

جب عمران خان سے زور دے کر پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے جو شرائط ہیں، طالبان حقیقت میں ان پر پورا اتریں گے، تو عمران خان نے بین الاقوامی برادری سے بار بار طالبان کو مزید وقت دینے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا ’اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہو گا۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کو اکثر ممالک، اسلامی شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ایک مضبوط اتحادی کے طور پر نہیں دیکھتے۔ طویل عرصے سے امریکہ اور دیگر ممالک پاکستان پر طالبان کو مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، جس کی پاکستان تردید کرتا ہے۔

افغانستان میں نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کے بعد پاکستان نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں خود کو امریکہ کا اتحادی قرار دیا لیکن اسی دوران پاکستان کی فوجی اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کے کچھ حصوں نے طالبان جیسے اسلام پسند گروہوں کے ساتھ روابط بھی برقرار رکھے۔

خانہ جنگی پر تشویش

عمران خان نے طالبان سے شمولیتی حکومت بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ملک میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔

’اگر آج یا کل تمام دھڑوں کو شامل نہ کیا گیا تو خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک غیر مستحکم افغانستان اور دہشت گردوں کے لیے ایک مثالی جگہ۔ یہ پریشانی کی بات ہے۔‘

واضح رہے کہ منگل کے روز ایک طالبان ترجمان نے مزید حکومتی ارکان کا اعلان کیا تھا جس کے لیے بھی تمام مرودں کو ہی نامزد کیا گیا ہے۔ ان میں ایک ڈاکٹر کو بطور وزیر صحت شامل کیا گیا ہے۔

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت بنیادی طور پر وفاداروں پر مشتمل ہے جس میں اقلیتی نمائندگی انتہائی کم ہے۔