برطانوی تیراکی ٹیم جن کا ’چھوٹی چھاتیوں اور چھوٹے کولہوں‘ کی وجہ سے مذاق اڑایا گیا

Kate Shortman and Izzy Thorpe

،تصویر کا ذریعہKaren Thorpe

    • مصنف, تمسین کینٹ
    • عہدہ, نیوز بیٹ رپورٹر

ہم میں سے بہت سے لوگوں چاہیں گے کہ ہم زیادہ ایتھلیٹک ہو جائیں، مگر پیشہ ور تیراک کیٹ شارٹمین اور ایزی تھروم کے لیے ان کی جسامت تضحیک اور بدسلوکی کا باعث بن گئی ہے۔

19 سالہ کیٹ اور 20 سالہ ایزی ٹوکیو 2020 اولمپک مقابلوں میں برطانیہ کی نمائندگی کریں گی جہاں وہ سنکرونائزڈ سوئمنگ کے کھیل میں شرکت کریں گی۔

وہ اپنی جسامت کے بارے میں کہتی ہیں کہ ان کے چوڑے کندھے ہیں، اور ان کی چھاتیاں اور کولہے انتہائی چھوٹے ہیں۔

دس سال سے تیز تیراکی، ویٹ لفٹنگ، ڈانس اور جیمناسٹکس کی مسلسل تربیت وجہ سے ان کی جسامت نے یہ شکل اختیار کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اکثر ‘مردانہ‘ کہا جاتا ہے۔

ایزی کا کہنا ہے کہ اکثر تیراکوں کے کندھے چوڑے ہوتے ہیں۔

’جب میں چھوٹی تھی تو اپنے کندھے ڈانپ لیتی تھی، کھلے کھلے کپڑوں کی وجہ سے یہ کم نمایاں ہو جاتے تھے۔ اگر میں سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کر رہی ہوتی تھی تو میں انھیں کاٹ دیتی تھی یا پھر انھیں کم نمایاں کرنے کی کوشش کرتی تھی تاکہ لوگ منفی باتیں مت کریں۔‘

ان لڑکیوں کو باڈی شیمنگ یعنی جسامت کی وجہ سے تضحیک کا سامنا ٹرینگ کے علاوہ سکول میں بھی تھا۔

کیٹ کہتی ہیں کہ لوگ عوامی سوئمنگ پول میں ان کے پاس آ کر کہتے تھے کہ ’برائے مہربانی کیا آپ خود کو ڈھانپ سکتی ہیں؟‘

’ہم باقی لوگوں کی طرح ون پیس کاسٹیوم پہنتی ہیں مگر ایتھلیٹک جسامت ہونے کی وجہ سے وہ کاسٹیوم کولہوں پر تھوڑا اونچا ہوتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’لڑکے چاہے سپیڈو پہن کر پھریں، وہ تو ٹھیک ہے مگر لڑکیاں جیسے ہی تھوڑی سی جلد دیکھا دیں تو ان پر الزام لگتا ہے کہ وہ اپنے جسم کی نمائش کر رہی ہیں۔‘

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

1px transparent line

کیٹ اور ایزی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان منفی رویے کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے اور وہ کیسی دکھتی ہیں اسے انھوں نے تسلیم کر لیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو ون نیوز بیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے کولہے بڑے نہیں، ہماری چھاتیاں بڑی نہیں مگر ہم یہ سب اس کھیل کے جنون میں کرتے ہیں۔‘

’جب آپ ہفتے میں 40 گھنٹے اپنے کھیل کی مشق کر رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کی وہ جسامت نہیں ہوگی۔‘

ایزی کہتی ہیں ’ہم یہ سب اس کھیل کی محبت میں کرتے ہیں، کسی خاص طرح دِکھنے کے لیے نہیں۔‘

یہ دونوں لڑکیاں برسٹل سے تعلق رکھتی ہیں۔ حال ہی میں وہ ایک برطانوی زیرِ جامع برانڈ بلو بیلا کے لیے شوٹ میں شریک ہوئیں جو کہ زیر آب عکس بند کیا گیا۔

Izzy and Kate

،تصویر کا ذریعہBluebella.com

انھیں اس بات کا احساس ہے کہ کچھ لوگ اس پر سوال اٹھائیں گے کہ ایک زیرِ جامع فوٹو شوٹ خواتین کی خودمختاری کے حوالے سے کیسے نمائندگی کر رہا ہے؟

تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ اس لیے کیا کہ وہ چاہتی ہیں کہ کوئی بھی لڑکی یا عورت اپنے جسم کے حوالے سے شرمندہ نہ ہو۔

کیٹ کہتی ہیں کہ ’ہمیں ٹرولنگ کا سامنا رہا ہے اور اب ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم نے کم کپڑوں میں تصاویر کھنچوائی ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’باڈی امیج (یعنی جسامت) کے حوالے سے خدشات صرف ان لوگوں کو نہیں ہوتے جو سمجھتے ہیں کہ وہ موٹے ہیں، یہ ان کے لیے بھی ہوتے ہیں جو خود کو زیادہ ایتھلیمک، زیادہ بڑا، یا زیادہ چھوٹا تصور کرتے ہیں۔‘

’ہم آج جہاں ہیں وہاں خود ہیں، اور اپنے جسم کے بارے میں خود اعتماد اور خود ہیں۔‘

وہ چاہتی ہیں کہ وہ ان لڑکیوں اور خواتین کی حوصلہ افزائی کریں جو اپنی جسامت کی وجہ سے کھیلوں کو ترک کر دیتی ہیں۔

تازہ تحقیق کے مطابق ہر عمر کے حصے میں مر خواتین سے زیادہ کھیلوں میں شرکت کرتے ہیں۔ 14 سے 16 سال عمر کی لڑکیوں میں 35 فیصد کا یہ کہنا ہے کہ وہ خود اعتمادی میں کمی کی وجہ سے کھیلوں میں شریک نہیں ہوتی۔

برطانیہ میں اس معاملہ سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مہمات چلائی گئی ہیں جیسے کہ سپورٹ انگلینڈ کی #thisgirlcan جس کا مقصد پسینے میں شرابور یا زیادہ طاقتور دِکھنے کے حوالے سے منفی تاثر کو رد کرنا تھا۔

Izzy 20 and Kate 19

،تصویر کا ذریعہKaren Thorpe

ایزی اور کیٹ اب اپنی جسامت کے حوالے سے مذاق اڑانے والوں سے پریشان نہیں ہوتیں اور ان کی توجہ مکمل طور پر جاپان جانے پر مرکوز ہے۔

اسی ہفتے حکام نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے ٹوکیو اولمپکس پر بہت ہی تھوڑے مداحوں کو آنے کی اجازت دی جائے گی اور ٹیموں کے درمیان ملاقاتیں نہیں ہوں گی، مگر اس سے ایزی اور کیٹ پریشان نہیں ہیں۔

ایزی کہتی ہیں کہ ’ہم بس اس پر ہی خوش ہیں کہ ہم اولمپک مقابلوں میں شرکت کر رہی ہیں، یہ ہمارا خواب ہے اور اس سے ہمیں کچھ بھی نہیں روک سکتا۔‘