سسٹر میری جوزف: شوہر کی موت کے بعد عیش کی زندگی ترک کر دینے والی خاتون این رسل مِلر کی کہانی

Sister Mary Joseph in her nun's habit with a flower crown

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Mark Miller

،تصویر کا کیپشنسسٹر میری نے زندگی کے پہلے 60 برس پرتعیش انداز میں گزارے
    • مصنف, ہیریئٹ اوریل
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

ایک 92 سالہ راہبہ، جس نے خاموشی، خلوت اور غربت کا عہد لیا، وہ اس خانقاہ میں ہی وفات پا گئی ہیں جہاں وہ گذشتہ تین دہائیوں سے مقیم تھیں۔

تاہم سِسٹر میری جوزف کی زندگی کی مکمل کہانی روایتی نہیں ہے۔

وہ خود کو عبادت کی زندگی کے لیے وقف کرنے سے پہلے این رسل مِلر کے نام سے جانی جاتی تھیں، جو سان فرانسسکو کی ایک دولت مند سماجی شخصیت تھیں جو شاندار محفلوں کی میزبانی کرتی تھیں، اوپرا کے پورے سیزن کا ٹکٹ خرید لیتی تھیں اور 10 بچوں کی ماں تھیں۔

1928 میں پیدا ہونے والی این کا خواب تھا کہ وہ راہبہ بنیں، لیکن انھیں محبت ہوگئی۔

20 سال کی عمر میں انھوں نے رچرڈ مِلر سے شادی کی، جو کہ پیسیفک گیس اینڈ الیکٹرک نامی کمپنی کے نائب صدر بنے۔

سِسٹر میری جوزف کے سب سے چھوٹے بیٹے مارک مِلر نے اپنی والدہ کی وفات کے بعد گذشتہ ہفتے اپنی ٹوئٹس میں کہا کہ '27 سال کی عمر تک ان کے پانچ بچے تھے، اور پھر ان کے ہاں مزید پانچ بچے پیدا ہوئے، ایک طرح سے ہر جنس کی ایک علیحدہ باسکٹ بال ٹیم۔ وہ اسے منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی فیملی کہتی تھیں۔‘

انھوں نے لکھا ’ان کے لاکھوں دوست تھے۔ وہ تمباکو نوشی کرتیں، شراب پیتیں اور تاش کھیلتی تھیں۔

’وہ گاڑی اتنی رفتار اور لاپرواہی سے چلاتی تھیں کہ مسافر سیٹ پر بیٹھے ہوئے انسان کے ڈر کے مارے تصوراتی بریکیں لگا لگا کر پیر سوج جاتے تھے۔‘

ان کا بیٹا بتاتا ہے کہ انھوں نے ایک ہی دن تمباکو نوشی، شراب اور کیفین ترک کی۔

Ann Russell Miller playing cards

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Mark Miller

،تصویر کا کیپشننوجوان این تمباکو نوشی کرتی تھیں، شراب پیتی اور تاش بھی کھیلتی تھیں
1px transparent line

این نے اپنے خاندان کی نو بیڈروم والے ایک حویلی نما گھر میں پرورش کی جہاں سے سان فرانسسکو بے کا نظارہ دکھائی دیتا تھا۔ وہ دوستوں کو سکیئنگ، بحیرہ روم میں پرتعیش کشتیوں کی سیر اور آثار قدیمہ دکھانے کے لیے چھٹیوں پر لے جانے کے لیے مشہور تھیں۔

ایک وقت میں وہ 22 مختلف بورڈز کی ممبر تھیں اور کالج طلبا، بے گھر افراد اور رومن کیتھولک چرچ کے لیے رقم جمع کرتی تھیں۔

سنہ 1984 میں ان کے شوہر کی کینسر سے موت ہوگئی جس کے بعد انھوں نے مسیحی راہباؤں کے کٹر سلسلے میں شامل ہونے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

پانچ سال بعد انھوں نے اپنی تمام جائیداد ترک کر دی اور الینوئے میں سسٹرز آف اور لیڈی آف ماؤنٹ کارمیل نامی خانقاہ میں شامل ہوگئیں۔

Sister Mary Joseph behind metal bars

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Mark Miller

،تصویر کا کیپشناین میری کے بیٹے کی جب ان سے ملاقات ہوئی تو ان کے پیچ سلاخیں ہوتی تھیں

کارملائیٹ سلسلے کی راہبائیں صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی خانقاہ سے باہر نکلتی ہیں جیسا کہ جب انھیں ڈاکٹر کے پاس جانا ہو وغیرہ۔ یہ راہبائیں انتہائی ضرورت کے تحت ہی بات کرتی ہیں اور اپنا زیادہ وقت غور و فکر اور دعا میں گزارتی ہیں۔

مارک کا کہنا ہے کہ 'وہ ایک غیر معمولی راہبہ تھیں۔ وہ اچھا گا نہیں سکتی تھیں، وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں اکثر تاخیر کرتی تھیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ بتاتے ہیں 'میری گذشتہ 33 برسوں میں ان سے صرف دو بار ملاقات ہوئی، اور جب آپ ملنے جاتے ہیں تو آپ ان سے گلے لگ سکتے ہیں نہ ہی چھو سکتے ہیں۔ آپ کے درمیان سلاخیں ہوتی ہیں۔‘

Ann's ten children in age order from right to left

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Mark Miller

،تصویر کا کیپشناین کے دس بچے

این کے 28 پوتے پوتیاں تھے، جن میں سے کچھ سے وہ کبھی نہیں ملی تھیں اور ایک درجن سے زیادہ پڑ پوتے پوتیاں ہیں، ان میں سے کسی کو بھی انھوں نے گود میں نہیں کھلایا۔

وہ ایک لکڑی کے تختے پر سوتی تھیں جس پر ایک پتلا سا گدا ہوتا تھا۔ دن بھر وہ بھورے رنگ کا کھردرا سا لباس اور سینڈل پہنتی تھیں، یہ ان کی اس سابقہ زندگی سے یکسر مختلف تھا جو ریشم کی چھتریوں، سکارف اور ورساچے کے جوتوں سے بھری ہوئی تھی۔

این نے اپنی 61 ویں سالگرہ کے موقع پر سان فرانسسکو کے ہلٹن ہوٹل میں 800 مہمانوں کے لیے ایک پارٹی دے کر اپنے دوستوں، اہل خانہ اور اس پرتعیش زندگی کو الوداع کہا تھا۔ وہاں مہنگی سمندری غذا کھائی گئی، آرکیسٹرا نے مہمانوں کے لیے میوزک پیش کیا۔ کہا جاتا ہے کہ این نے پھولوں کا تاج پہنا ہوا تھا اور اپنے ساتھ ایک ہیلیم کا غبارہ باندھا تھا جس پر لکھا تھا 'میں یہاں ہوں‘ تاکہ لوگ بھری محفل میں اُنھیں آسانی سے تلاش کر کے الوداع کہہ سکیں۔

انھوں نے اپنے مہمانوں سے کہا کہ انھوں نے اپنی زندگی کے پہلے 30 سال خود کے لیے اور اس سے اگلے 30 اپنے بچوں کے لیے وقف کیے۔ ان کی زندگی کا آخری اور تیسرا حصہ خدا کے لیے وقف ہوگا۔ اگلے دن وہ خانقاہ میں سِسٹر میری جوزف کی حیثیت سے رہنے کے لیے شکاگو روانہ ہوگئیں۔

Ann Russell Miller with her husband Richard Miller

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Mark Miller

،تصویر کا کیپشناین کا خواب تھا کہ وہ راہبہ بنیں، لیکن پھر انھیں رچرڈ مِلر سے محبت ہوگئی جن سے بعد میں ان کی شادی ہوئی

ان کے بیٹے مارک کہتے ہیں کہ 'ہمارا رشتہ پیچیدہ تھا'۔

وہ 20 کی دہائی میں پیدا ہوئیں اور اگلی صدی کی 20 کی دہائی میں ان کی وفات ہوگئی۔ وہ این رسل مِلر اور سِسٹر میری جوزف تھیں۔

'مجھے امید ہے کہ وہ میرے والد کو میری طرف سے ہیلو کہیں گی۔‘