راہباؤں کا جوا کھیلنے کے لیے پانچ لاکھ ڈالر چرانے کا اعتراف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک کیتھولک سکول کی دو راہباؤں نے قبول کیا ہے کہ انہوں نے پانچ لاکھ ڈالر غبن کیے جس میں تین لاکھ چھیانوے ہزار انہوں نے لاس ویگس میں جوئے پر خرچ کر دیے۔
سسٹر میری کروپر اور لینا چینگ نے ٹورینس شہر کے سینٹ جیمز کیتھولک سکول سے یہ رقم جوآ کھیلنے اور گھومنے پھرنے کے لیے چرائی تھی۔
دونوں خواتین پکی سہیلیاں بھی ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے ہی دونوں ریٹائر ہوئی تھیں۔ دونوں نے اپنی اس حرکت پر ندامت کا اظہار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راہبہ میری کوپر نے سینٹ جیمس سکول میں 29سال تک بطور پرنسپل کام کیا۔ جبکہ لینا چینگ بیس برس تک اس سکول کی ٹیچر رہیں۔
اندازوں کے مطابق انہوں نے یہ رقم گذشتہ ایک دہائی میں چرائی۔
سکول کے منتظمین نے بتایا کہ پولیس کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے لیکن دونوں راہباؤں کے خلاف فرد جرم نہیں عائد کی جائے گی کیوں کہ دونوں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہیں۔
سکول کی ویب سائٹ پر شائع بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں سسٹر معاملے کی جانچ میں پورا ساتھ دے رہی ہیں اور انہوں فنڈ کے خرد برد کا الزام قبول بھی کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکول میں پڑھنے والے بچوں اور ان کے خاندانوں سے ویب سائٹ پر معافی بھی مانگی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فنڈ کی خرد برد کے بارے میں ایک دستورالعمل آڈٹ کے دوران پتہ چلا۔ جانچ میں یہ بھی پتہ چلا کہ سکول کی فیس کے لیے دیے جانے والے متعدد چیک دونوں راہباؤں نے اس عرصے میں ایک ایسے اکاؤنٹ میں جمع کیے جس کا سکول سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
سکول میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کو اس معاملے کے بارے میں اسی مہنے پتہ چلا۔








