میہل چوکسی: سونے کی اے ٹی ایم لگانے والا انڈین شخص ایک چھوٹے سے ملک کے لیے سر درد بن گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, وشال شکلا
- عہدہ, بی بی سی
نومبر 2011 میں ممبئی سے ایک خبر سامنے آئی کہ وہاں انڈیا کی پہلی ایسی اے ٹی ایم مشین لگائی گئی ہے جہاں سے سونا نکلوایا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ لوگ اس مشین سے چاندی اور جواہرات بھی نکلوا سکتے تھے۔
مگر اس مشین میں لوگوں کی دلچسپی نظر نہیں آئی اور قریبی دکانداروں نے بتایا کہ شاید ہی اسے کوئی استعمال کرتا ہے۔
انڈیا میں ہیروں کے کاروبار کی سب سے معروف شخصیت میہل چوکسی کی زندگی کی کہانی بھی کچھ کچھ اس اے ٹی ایم جیسی ہی رہی ہے۔ اُن کی شروعات ہیروں کی طرح چمک دھمک سے شروع ہوئی، اُن کا رویہ بالکل سونے کی طرح لچکدار تھا، مگر نتیجہ ایسا نکلا جیسے کسی کو جوہری کی دکان پر بے وقوف بنا دیا جائے۔
آپ سوچیں گے کہ اس اے ٹی ایم اور میہل چوکسی کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ یہ مشین میہل کی کمپنی گیتانجلی نے نصب کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگلا سوال یہ ہے کہ انڈیا کے لیے میہل چوکسی کیوں اہم ہیں؟ تو اس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں۔
میہل نے اپنے والد چنوبھائی چوکسی کے ہیروں کی خرید و فروخت اور کٹائی و پالشنگ کے کاروبار کو بڑھاتے ہوئے غیر ملکی کمپنیاں تک خرید لیں مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اُن کی کمپنی کی بدنامی کی وجہ سے ملازمین کو اپنی نوکریاں گنوانی پڑیں۔
اپنی بہن کے نام پر قائم اُن کی کمپنی گیتانجلی نے سنہ 2006 میں آئی پی او کے ذریعے سٹاک مارکیٹ میں قدم جمائے اور تین ارب 30 کروڑ روپے اکٹھے کر لیے۔ اس کے بعد 2013 میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا نے مبینہ طور پر سٹاک مارکیٹ پر اثرانداز ہونے کی وجہ سے چھ ماہ کے لیے میہل کی کمپنی کے شیئرز کو معطل کر دیا۔
سنہ 2008 میں کترینہ کیف نے بھی ان کے ہیروں کی تشہیر کی اور یوں ایک سال میں ان کی سیلز میں 60 فیصد اضافہ ہو گیا۔
پھر 2018 میں کمپنی کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر سنتوش شریواستو نے الزام عائد کیا کہ گیتانجلی نے اپنے گاہکوں کو نقلی ہیرے فروخت کیے تھے۔
یوں سنہ 2013 میں 600 روپے میں فروخت ہونے والا گیتانجلی کا سٹاک 2018 میں 33.80 پر پہنچ گیا۔
اس دوران وہ ایک ایسے ملک کی شہریت بھی حاصل کر چکے تھے جس کے لیے 10 لاکھ ڈالر جمع کروانے ہوتے ہیں۔ آج اُسی ملک کے وزیرِ اعظم کہہ رہے ہیں کہ میہل چوکسی ’ہمارے لیے باعثِ شرم بن چکے ہیں‘۔
انڈیا کے سب سے طاقتور شخص نریندر مودی نے ایک مرتبہ ایک سٹیج سے کھڑے ہو کر اُنھیں میہل بھائی کہا تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ مودی حکومت کے وزیر روی شنکر پرساد بھی ان سے دامن بچاتے ہوئے نظر آئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میہل چوکسی ڈومینیکا کیسے پہنچے؟
اُن پر انڈیا کی تاریخ کے سب سے بڑے بینک فراڈ کا الزام ہے اور اب وہ مفرور ہیں۔ اُن کے بارے میں تازہ ترین خبر یہ ہے کہ وہ ڈومینیکا چلے گئے ہیں جہاں اُنھوں نے شہریت حاصل کی مگر پکڑے گئے۔
یہ خبر ملنے پر پڑوسی ملک اینٹیگا اینڈ باربوڈا کے وزیرِ اعظم نے ڈومینیکا کو مشورہ دیا کہ میہل کو براہِ راست انڈیا کے حوالے کر دیا جائے۔
انڈیا کئی ماہ سے کوشش کر رہا ہے کہ اُنھیں واپس ملک میں لایا جائے تاہم یہ بظاہر اتنا آسان نہیں ہے۔
جنوری 2018 میں وہ انڈیا چھوڑ گئے تھے۔ اسی ماہ کے آخری ہفتے میں پنجاب نیشنل بینک نے اُن پر، ان کے بھانجے نیرو مودی اور دیگر افراد پر 280 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا الزام لگایا۔
اکتیس جنوری کو سی بی آئی نے مقدمہ درج کیا اور 14 فروری کو پنجاب نیشنل بینک نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے ممبئی سٹاک ایکسچینج کو مطلع کر دیا۔
بینک کا کہنا تھا کہ جنوبی ممبئی میں اس کی ایک برانچ میں فراڈ کے ذریعے ایک کھرب 13 کروڑ 80 لاکھ روپوں کے لین دین کا معلوم ہوا ہے۔ پھر 23 فروری کو ممبئی کے ریجنل پاسپورٹ آفس نے اُن کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا۔ تحقیقات کے دو ماہ تک ہی اس فراڈ کا تخمینہ ایک کھرب 25 کروڑ 78 لاکھ تک پہنچ گیا۔
اُن پر الزام یہ ہے کہ اُنھوں نے بینک حکام سے ملی بھگت کر کے جعلی ’لیٹر آف انڈرسٹینڈنگ‘ بنوائے۔
یہ خط بینک اپنے صارفین کو جاری کرتا ہے جسے دکھا کر صارف کسی دوسرے انڈین بینک کی غیر ملکی برانچ سے رقم حاصل کر سکتا ہے۔ یہ ایک طرح سے مختصر مدت کے لیے حاصل کیا گیا قرض ہوتا ہے اور اس کے بدلے کچھ رقم بطور ضمانت جمع کروانی ہوتی ہے۔
تاہم چوکسی کے معاملے میں نہ تو اُن سے زرِ ضمانت لیا گیا اور نہ ہی اُن کو دیے گئے لیٹر میں قرض کی کوئی حد مقرر کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اینٹیگا کی شہریت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟
جس وقت میڈیا پر 'ملک کے سب سے بڑے مبینہ دھوکے' کی خبریں چل رہی تھیں، اس وقت چوکسی ملک سے جا چکے تھے۔ حیرت انگیز طور پر یہ بات سامنے آئی کہ اُنھوں نے نومبر 2017 میں اینٹیگا کی شہریت کی درخواست دی تھی اور 15 جنوری 2018 کو اُنھیں شہریت مل بھی گئی تھی۔
ہینلے اینڈ پارٹنرز کے مطابق اینٹیگا کی شہریت حاصل کرنے کے لیے چار طریقے ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ آف اینٹیگا میں 10 لاکھ ڈالر جمع کروائیں۔ دوسرا، یونیورسٹی آف ویسٹ انڈیز میں 15 لاکھ ڈالر جمع کروائیں۔ تیسرا، حکومت سے منظور شدہ ریئل اسٹیٹ میں 20 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں اور چوتھا، کسی منظور شدہ کاروبار میں 15 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں۔
کچھ فیسوں کے بعد اگر آپ کا ریکارڈ صاف ہے اور آپ پر کوئی مقدمہ نہیں تو آپ کو تین سے چھ ماہ میں شہریت مل جائے گی۔
سنہ 2017 تک چوکسی کے خلاف انڈیا میں کوئی مقدمات نہیں تھے جس بنا پر ممبئی پولیس نے انھیں اچھے کردار کا سرٹیفیکیٹ دیا۔ اس سند کی بنیاد پر اُنھوں نے اینٹیگا کی شہریت حاصل کر لی۔ مگر چوکسی کے خلاف انٹرپول کا نوٹس جاری ہو چکا ہے جس کی بنا پر اُنھیں ڈومینیکا میں روکنا آسان ہے۔
اب اینٹیگا کے حکام بھی میہل کی وجہ سے انڈیا کے ساتھ قانونی مسائل میں الجھ گئے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کا آپس میں قیدیوں کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اُن کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ اُنھیں اینٹیگا سے 'ڈومینیکا لے جایا گیا۔'
جب اینٹیگا کے وزیرِ اعظم گیسٹن براؤن سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ 'ہمیں میہل کو روکنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ وہ ہمارے کسی کام کے نہیں ہیں۔ انڈین حکام نے میہل کے بارے میں کہا تھا کہ وہ اچھے شخص ہیں۔ انڈیا نے ہمیں غلط معلومات دیں اور انڈین حکام کو اس کی ذمہ داری لینی ہوگی۔ ہم نے میہل کو انڈین حکام کی دی گئی معلومات پر شہریت دی اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میہل فراڈ ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس وقت وہ ڈومینیکا کی پولیس کی حراست میں ہیں۔
گیسٹن براؤن نے کہا کہ 'ہم نے ڈومینیکا سے کہا ہے کہ وہ چوکسی کو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے پر حراست میں رکھے اور اُنھیں انڈیا کے حوالے کر دے۔ وہ ہمیں نہیں چاہییں۔ اُن کا اینٹیگا سے باہر نکلنا بہت بڑی غلطی تھی۔'
دیکھنا یہ ہے کہ انڈین حکومت کو اُنھیں وہاں سے واپس لانے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑیں گے یا پھر چوکسی کی قسمت ایک مرتبہ پھر اس سونے کے اے ٹی ایم جیسی ہوگی۔












