چین میں کرپٹو کرنسی کی تجارت پر پابندی، بٹ کوائن کی قدر میں زبردست کمی

،تصویر کا ذریعہNurPhoto
دنیا کی سب سے معروف کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قدر پچھلے تین مہینے کی کم ترین سطح، پر پہنچ گئی ہے۔ بٹ کوائن کی قدر جو ایک ماہ پہلے تک ساٹھ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی تھی اب چالیس ہزار ڈالر سے نیچے آگئی ہے۔
بٹ کوائن کی قدر میں حالیہ گرواٹ چین کی جانب سے اپنے تمام مالیاتی اداروں کو کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کے حوالے سے خدمات مہیا کرنے سے روکنے کے بعد ہوئی ہے۔
چین نے سرمایہ داروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کرپٹو کرنسی میں سٹے بازی سے پرہیز کریں۔
اسی بارے میں مزید پڑھیئے
گذشتہ ہفتے بٹ کوائن کی قدر میں اس وقت دس فیصد کمی دیکھنے میں آئی تھی جب امریکی کار کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے اعلان کیا تھا کہ ان کی کمپنی اب گاڑیوں کی خرید و فروخت کے لیے کرپٹو کرنسی کو قبول نہیں کرے گی۔
سوموار کے روز بٹ کوائن کی قدر میں تیرہ فیصد، جبکہ دوسری کرپٹو کرنسیاں جن میں ایتھریم، اور ڈیجیکوائن شامل ہیں، کی قدر میں 18 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین نے 2019 میں منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے کرپٹو کرنسٹی کے لین دین پر پابندی عائد کر دی تھی ۔ پابندی کے باوجود چین میں لوگ کسی نہ کسی طرح کرپٹو کرنسی کی تجارت کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے جس سے چین کو پریشانی لاحق ہوئی۔
منگل کے روز چین کے تین مالیاتی اداروں، نیشنل انٹرنیٹ فنانس ایسوسی ایشن آف چائنہ، چائنہ بینکنگ ایسوسی ایشن اور پیمنٹ اینڈ کلیرنگ ایسوسی ایشن آف چائنہ نے سوشل میڈیا پر ایک وارننگ جاری کی۔
ان چینی مالیاتی اداروں نے جنھیں چینی ریاست کی حمایت حاصل ہے، لوگوں کو خبردار کیا کہ اگر انھیں کرپٹو کرنسی کی تجارت کے دوران کسی قسم کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تو انھیں کوئی تحفظ حاصل نہیں ہو گا۔
ان اداروں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ کرپٹو کرنسی کی مالیت میں حالیہ تبدیلی لوگوں کے اثاثوں کے حفاظت کی خلاف ورزی ہے اور عام معاشی اور مالی امن کو متاثر کر رہی ہے۔
مارکٹس ڈاٹ کام کے نیل ولسن کا کہنا ہے کہ چین کچھ عرصے سے کرپٹو کرنسی پر پریشر ڈال رہا تھا لیکن اس کے حالیہ اقدام سے کرپٹو کرنسی کی تجارت پر بہت پریشر پڑے گا۔
نیل ولسن کا کہنا تھا: ’ابھی تک مغربی ممالک میں ریگولیٹر کرپٹو کرنسی کی تجارت کے حوالے سے بہت نرم رویہ روا رکھے ہوئے تھے لیکن اب شاید ان کا رویہ بھی بدل جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایلون مسک کا یوٹرن
رواں سال مارچ میں امریکی کار کمپنی کے مالک ایلون مسک نے اعلان کیا تھا کہ ان کی کمپنی گاہگوں کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے کاریں خریدنے کی اجازت دے گی۔
فروری میں جب ایلن مسک نے ایک بلین ڈالر کی کرپٹو کرنسی خریدنے کا اعلان کیا تھا تو کرپٹو کرنسی کی قدر میں یک دم اضافہ دیکھنے میں آیا اور ٹیسلا کمپنی کو 900 ملین ڈالر کا فائدہ ہوا تھا۔
لیکن گذشتہ ہفتے ایلون مسک اپنے اعلان سے پھر گئے اور انھوں نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی اب کرپٹو کرنسی کے عوض گاڑیاں فروخت نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے فیصلے کی وجہ ماحول کی خرابی ہے کیونکہ بٹ کوائن تیاری میں توانائی کا بے تحاشا استعمال ہو تا ہے۔ بٹ کوائن کے تیاری کے لیے بڑے بڑے کمپیوٹر چلانے ہوتے ہیں جس سے بجلی کی کھپت ہوتی ہے۔
ایلون مسک نے کہا تھا کہ وہ بٹ کوائن بنانے کے لیے بجلی پیدا کرنے کے لیے فاسل فیول کے استعمال پر پریشان ہیں۔












