آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو: غزہ میں فوجی آپریشن ’پوری طاقت کے ساتھ‘ جاری رہے گا
اسرائیل کے وزیراعظم بینامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف اسرائیل کا فوجی آپریشن ’پوری طاقت کے ساتھ‘ جاری رہے گا۔
نیتن یاہو نے متنبہ کیا ہے کہ ’ہم امن کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔۔۔ اس میں وقت لگے گا۔‘
غزہ میں صحت کے حکام کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے تازہ ترین حملوں میں 16 خواتین اور 10 بچوں سمیت مزید 42 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جس کے بعد غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی اموات کی تعداد 192 جبکہ 1230 افراد زخمی ہیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ڈاکٹر ایمن ابو الاوف بھی شامل ہیں جو غزہ کے الشفا ہسپتال کے ڈپارٹمنٹ آف انٹرنل میڈیسن کے سربراہ تھے۔
اسرائیل کے مطابق گذشتہ پیر سے جاری اس کشیدگی میں راکٹ حملوں کے نتیجے میں دو بچوں سمیت اس کے دس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس نے اتوار کے روز سلامتی کونسل اجلاس کا آغاز اس تشدد کو ’شدید جھنجھوڑ دینے والا‘ قرار دے کر کیا اور کہا کہ لڑائی کو فوراً رکنا چاہیے۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گتیرس نے خبردار کیا کہ مزید لڑائی خطے کو ’قابو میں نہ آنے والے بحران‘ میں ڈال سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ کا نظم و نسق چلانے والی تنظیم حماس کے رہنماؤں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے تاہم موجودہ تنازعے میں بچوں اور خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اتوار کو غزہ کی پٹی پر فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس کے ایک سیاسی رہنما یحییٰ السنوار کے گھر پر بھی بمباری کی۔
السنورا کو سنہ 2011 میں ایک اسرائیلی جیل سے رہائی دی گئی تھی۔ اسرائیلی فوج کے دعوے کے مطابق اس کے علاوہ ان کے بھائی کے گھر کو ’دہشتگرد ٹھکانے‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں ایک دھماکہ ہوتا دیکھا جا سکتا ہے جو ان کے دعوے کے مطابق حماس کے رہنما یحیٰی السنوار کے گھر پر پر گیا ہے تاہم تاحال مقامی حکام کی جانب سے کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ادھر کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کی جانب سے خون ریزی کے خاتمے کی اپیل کی گئی ہے اور ویٹیکن میں اتوار کو عبادت کے بعد بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کیا ہم واقعی سمجھتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو تباہ کر کے امن بحال کر سکتے ہیں؟‘
انھوں نے معصوم جانوں کے ضیاع کو ’خوفناک اور ناقابلِ قبول‘ اقدام قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد سے ’اسلحے کا شور‘ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
غزہ شہر سے سامنے آنے والی تصاویر میں تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں اور امدادی کارکنان اس دوران ملبے تلے پھنسے زخمیوں کو امداد پہنچانے اور لاشیں نکالنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
اسرائیل اور فلسطین تنازع کے تناظر میں یورپی یونین کے خارجہ پالیسی چیف نے منگل کے روز یورپی یونین کے تمام ممالک کے وزرا خارجہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'اب لڑائی کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور دو ریاستی حل سے متعلق مذاکرات زیرِ غور لائے جائیں گے۔‘
سنیچر کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ ’بھرپور طاقت کے ساتھ حماس کے راکٹ حملوں کا جواب‘ دیتے رہیں گے۔
اپنے ٹی وی خطاب میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ بمباری اس وقت تک جاری رہے گی 'جب تک اس کی ضرورت ہو گی' تاہم انھوں نے زور دیا کہ شہری ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس محاذ آرائی کے ذمہ دار ہم نہیں بلکہ ہم پر حملہ کرنے والی جماعت ہے۔‘
امریکی صدر کا اسرائیلی وزیر اعظم، فلسطینی صدر کو فون
سنیچر کو امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور فلسطین کے صدر محمود عباس کو ٹیلی فون کر کے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سنیچر کے روز غزہ میں شہریوں کی ہلاکت اور بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر پر حملے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا۔
سنیچر کو اسرائیل نے غزہ میں ایک کثیر المنزلہ عمارت کو فضائی حملے میں تباہ کر دیا تھا جس میں بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ اور امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے دفاتر قائم تھے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس عمارت میں حماس کے ’عسکری اثاثے‘ موجود تھے۔
عمارت کے مالک نے حماس کی موجودگی کے اسرائیلی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمارت میں صرف میڈیا سمیت دیگر اداروں کے دفاتر تھے اور 60 کے قریب اپارٹمنٹس تھے۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق اس عمارت کو نشانہ بنانے سے ایک گھنٹے قبل اسرائیلی حکام نے خبردار کیا تھا کہ عمارت کو خالی کر دیا جائے۔
اس کے اگلے ایک گھنٹے بعد وہ عمارت ایک فضائی حملے کے کچھ ہی لمحوں میں زمین بوس ہوگئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق الجلا ٹاور کے مالک جواد مہدی نے بتایا کہ ایک اسرائیلی انٹیلیجنس عہدیدار نے اُنھیں فون کر کے کہا کہ اُن کے پاس عمارت خالی کروانے کے لیے صرف ایک گھنٹہ ہے۔
اے ایف پی نے اُنھیں عہدیدار کے ساتھ فون پر مزید 10 منٹ کے لیے گڑگڑاتے ہوئے سنا تاکہ صحافی نکلتے ہوئے اپنے آلات ساتھ لے جائیں۔ لائن پر موجود عہدیدار نے انکار کر دیا۔
الجزیرہ کے نمائندے صفوت الکہلوت یہاں پر 11 سال سے کام کر رہے تھے۔ اُنھوں نے کہا: 'میں نے اس عمارت سے کئی واقعات کور کیے، ہم نے یہاں پر کئی ذاتی اور پروفیشنل لمحات گزارے ہیں۔ اب سب کچھ صرف دو سیکنڈ میں ختم ہوگیا۔'
پناہ گزین کیمپ پر حملہ
سنیچر کو ہی ایک پناہ گزین کیمپ پر اسرائیل کے حملے میں آٹھ بچے اور دو خواتین ہلاک ہوئیں۔
تین منزلہ پناہ گزین کیمپ پر کیے گئے حملے کے باعث دو خواتین اور اُن کے آٹھ بچے ہلاک ہوئے۔ دونوں خواتین آپس میں رشتے دار بھی تھیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق ان لوگوں کا گھر ایک اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہو گیا تھا۔
ان میں سے چار بچوں کے والد محمد حدیدی کا تقریباً تمام خاندان اس حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اُن کی اہلیہ ماہا اور اُن کے بچے ماہا کے بھائی کے ساتھ اس عمارت میں موجود تھے جب حملہ ہوا۔
اُن کا پانچ ماہ کا بچہ عمر ہی اس حملے میں بچ پایا جو اپنی ہلاک شدہ ماں کے پاس ملبے سے برآمد ہوا۔
اُنھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’غیر منصفانہ دنیا یہ جرائم دیکھے۔‘
’وہ اپنے گھروں میں محفوظ تھے، اُن کے پاس ہتھیار نہیں تھے، اُنھوں نے راکٹ نہیں چلائے۔ وہ تو اپنے عید کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔‘
بیروت اور ایمسٹراڈیم میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ
گذشتہ روز کی طرح آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کیے گئے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اس سلسلے میں ایک مظاہرہ الاہباش نے منعقد کیا جس میں متعدد خواتین بھی شریک ہوئیں۔
اسی طرح نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرا ڈیم کے ڈیم سکوائر میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور اس دوران مظاہرین نے فلسطین کا پرچم لہرائے اور اکثر نے اس دوران کفایہ پہن کر رکھا تھا۔
ادھر برسلز میں اسرائیل کی قونصل خانے کے سامنے اسرائیل کے حمایت میں لوگ جمع ہوئے۔
گذشتہ روز سپین کے شہر میڈرڈ میں بھی ہزاروں لوگ فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔ تقریباً ڈھائی ہزار کے قریب نوجوانوں نے فلسطینی پرچم لپیٹ کر شہر کے مرکز کی جانب مارچ کیا۔
اے ایف پی کے مطابق مظاہرین اس موقع پر نعرے لگا رہے تھے کہ 'یہ جنگ نہیں بلکہ نسل کُشی ہے۔'
دوسری جانب سنیچر کو پیرس میں بھی فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا گیا جس پر پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔
اے ایف پی کے مطابق پیرس کے حکام کی جانب سے لاؤڈ سپیکروں پر اعلانات کیے جاتے رہے کہ مارچ غیر قانونی ہے مگر اُس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ شہر کے شمالی حصے میں جمع ہوئے۔