اسرائیل فلسطین تنازع: عرب ممالک اور اسرائیل کے تعلقات کا مستقبل کیا ہو گا؟

    • مصنف, فرینک گارڈنر
    • عہدہ, نامہ نگار سکیورٹی امور

اسرائیل اور فلسطیینیوں کے درمیان بگڑتی ہوئی صورت حال ان عرب حکومتوں کے لیے خاصی شرمندگی کا باعت بن رہی ہے جو حال ہی میں اسرائیل سے اپنے تعلقات کو معمول پر لائی ہیں۔

ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ اسرائیل کے ساتھ کیے جانے والے وہ ایبراہم اکارڈز یا ’ابراہیمی معاہدے‘ جنھیں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے بڑے ڈھول ڈھمکے کے ساتھ طے کیا تھا، انہیں ایک نہ ایک دن زمینی حالات و واقعات کا اسیر ہونا ہی تھا۔ اب جبکہ یہ زمینی صورت حال بگڑتے بگڑتے ایک مہلک لڑائی کی شکل اختیار کر چکی ہے، عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی گرمجوشی کے کھلے عام اظہار کو بھی لگام ڈال دی گئی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے آخری مہینوں میں ابراہیمی معاہدوں کے نام کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے جن منصوبوں کو بڑے طمراق سے حتمی شکل دی گئی تھی، ان کے نتیجے میں ہم نے دیکھا کہ کئی عرب ممالک نے نہ صرف اسرائیل سے اپنے تعلقات کو باقاعدہ تسلیم کرنا شروع کر دیا تھا، بلکہ سکیورٹی اور انٹیلیجنس سمیت بہت سے دوسرے شعبوں میں اسرائیل کے ساتھ باہمی تعاون کے ایسے منصوبوں کو عملی شکل دینا شروع کر دی تھی جن کی مثال ماضی میں نہیں دکھائی نہیں دیتی۔

مزید پڑھیے

واشنگٹن میں ان معاہدوں پر دستخط کرنے کے چند ہی ہفتوں میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کو خلیجی ریاستوں میں جس طرح ایک بہت بڑی شخصیت کے طور پر خوش آمدید کہا گیا، صرف ایک برس پہلے تک کوئی اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

اور آج صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ ان معاہدوں پر دستخط کرنے والے ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور بحرین، خود کو ایک نہایت ہی مشکل مقام پر کھڑا پاتے ہیں۔

کچھ ہی عرصہ پہلے وہ اپنے عوام کو خوش خوشی بتا رہے تھے کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی کے بعد انہیں تجارت، سیاحت، طبی تحقیق، ماحول دوست معاشیات اور سائنسی ترقی کے شعبوں میں کتنے فوائد حاصل ہوں گے، لیکن آج وہ خود کو بقول شخصے چوبیس گھنٹے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر پیچ و خم کھاتا پاتے ہیں۔ ان کی نظروں کے سامنے ٹی وی پر غزہ پر اسرائیلی بمباری کے مناظر ہیں، مشرقی یروشلم میں اپنے گھروں سے طاقت کے زور پر نکالے جانے والے فلسطینیوں کی ویڈیوز ہیں، اور وہ مناظر ہیں جن میں اسرائیلی پولیس مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولتی دکھائی دے رہی ہے۔

اور دوسری جانب سعودیوں نے سکون کا سانس لیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے شدید دباؤ کے باوجود وہ اسرائیل کے ساتھ پینگیں بڑھانے والی گاڑی پر سوار نہیں ہوئے، شاید انہیں بھی خوف تھا کہ کہیں حالات اتنے خراب نہ ہو جائیں جتنے آج واقعی ہو چکے ہیں۔

اسلام میں مکہ اور مدینہ کے بعد مقدس ترین سمجھا جانے والا شہر بیت القدس یا یروشلم، دنیا بھر کے مسلمانوں اور عربوں کے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اسی لیے مسجد اقصیٰ میں ہونے والے حالیہ واقعات نے نہ صرف سعودیوں بلکہ خطے کے دوسرے لوگوں کی دکھتی ہوئی رگ کو چھیڑ دیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کی طرح بحرین کی حکومت نے اس ہفتے ایک بیان میں فلسطینی مقاصد کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

لندن کے ایک تھِنک ٹینک، رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ سے منسلک مائیکل سٹیفن بتاتے ہیں کہ عربوں کا یہ دعویٰ کھوکھلا ثابت ہو گیا ہے کہ ابراہیمی معاہدوں کے بعد متحدہ عرب امارات جیسی ریاستیں اسرائیل پر دباؤ ڈل سکیں گی کہ وہ فلسطینی خواہشات کا لحاظ کرے۔ لیکن اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ صدر بائیڈن کی اس درخواست کی بھی شنوائی نہیں دکھائی دے رہی کہ اسرائیل اپنے تابڑ توڑ حملوں میں کمی کرے۔

اکثر خلیجی ریاستوں کو ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروہ حماس سے کچھ زیادہ لگاؤ نہیں ہے جو اب تک اپنے اہداف میں تمیز کیے بغیر اسرائیلی قصبوں پر ایک ہزار سے زیادہ راکٹ اور میزائل داغ چکا ہے۔

لیکن خلیجی ممالک کے عرب عوام کی ہمدردیاں فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ اور کئی عشروں کی سرد مہری کے بعد اگر وہ اسرائیل کی ساتھ نئی نئی دوستی کو بادل ناخواستہ قبول کرنے کو تیار ہو گئے تھے تو حالیہ واقعات نے اسرائیل کے حوالے سے ان کے شکوک کو بھی مزید گہرا کر دیا ہے۔

ابھی تک ان ممالک کے سرکاری ذرائع ابلاغ پر اس لڑائی کی خبریں جس انداز سے پیش کی جا رہی ہیں وہ اس طرح مکمل یکطرفہ نہیں ہے جیسا کہ ماضی میں اسرائیل اور عربوں کے درمیان جھڑپوں کے دنوں میں ہوا کرتا تھا۔

مثلاً سعودی عرب کے العربیہ ٹی وی پر دکھائی جانے والی ویڈیوز میں غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے شہ سرخیوں میں دکھائے جا رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسی فوٹیج بھی دکھائی جا رہی ہے جس میں اسرائیلی قصبوں میں حماس کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں کے خوف سے عام لوگ پناہ کی تلاش میں بھاگ رہے ہیں اور سائرن بج رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں قائم سکائی نیوز عریبیہ پر بھی اگرچہ غزہ کی صورت حال دکھائی جا رہی ہے لیکن اسرائیلی حکام کے بیان بھی دکھائے جا رہے ہیں جن میں حکام کہہ رہے ہیں کہ ان کا اصل نشانہ حماس کے سینیئر کمانڈر ہیں۔

دوسری جانب قطر، جو اردن اور مصر کی طرح اس لڑائی کو ختم کرانے میں ثالثی کا خواہاں ہے، اور اس کے حماس کے ساتھ قریبی تعلقات بھی ہیں، اس کے ہاں یہ چیز ٹی وی پر جاری خبروں میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ لڑائی اسرائیل اور اس کے عرب ساتھیوں کے درمیان مستقبل کے تعلقات پر کیسے اثر انداز ہو گی؟

اس سوال کے جواب کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے یہ لڑائی مزید کتنا عرصہ جاری رہے گی اور آیا اس میں اموات کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

جو عرب ریاستیں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لے آئی ہیں وہ یہ جانتی ہیں کہ ان کی اس نئی دوستی سے انہیں بہت کچھ ملے گا، خاص طور پر جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں۔ لیکن ان ممالک کو ان فوائد کی قیمت اپنے ہاں بدامنی کی صورت میں چکانا پڑ سکتی ہے جو کہ گھاٹے کا سودا ہے۔ چاہے حماس اسرائیل کو کتنا بھی طیش کیوں نہ دلائے، فی الحال یہ ممالک نہیں چاہیں گے کہ وہ ایک ایسی ریاست کے ساتھ کھڑے نظر آئیں جو فلسطینیوں کو ہلاک کر رہی ہے۔

مائیکل سٹیفن کے بقول ’اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات ابراہیمی معاہدے سے باہر ہو جائے، لیکن جب تک لڑائی تھم نہیں جاتی اس خلیجی ریاست اور اسرائیل کے درمیان تعلقات جہاں ہیں اسی جگہ ٹھہر جائیں گے۔

اس ٹھہراؤ کی عملی شکل یہ ہو گی گذشتہ کئی برسوں کی طرح متحدہ عرب امارات اور اسرائیل پس پردہ اپنے رابطے برقرار رکھیں گے، لیکن فی الحال وہ دن گزر گئے جب دونوں ملکوں کے سفیر مشترکہ پریس کانفرنسیں کیا کرتے تھے اور دونوں میں لوگوں کے سامنے مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا کرتا تھا۔