قبلائی خان: منگول خاندان کے وہ فرمانروا جنھوں نے چین پر قبضہ بھی کیا اور اسے دنیا سے بھی ملایا

قبلائی خان کا ایک پورٹریٹ

،تصویر کا ذریعہHeritage Images/Getty Images

    • مصنف, رانا متر
    • عہدہ, بی بی سی

قبلائی خان نے جسے مغرب میں اکثر قبلا خان بھی کہا جاتا ہے سنہ 1260 میں چین کے شاہی تخت پر قبضہ کر کے وہاں 34 سال تک حکومت کی تھی۔ اس دوران وہ ایسے فاتح کے نام سے مشہور ہوا جو ثقافت کا بھی شوق رکھتا تھا۔ لیکن اسے اپنی خاندانی ساکھ کا بھی خیال تھا جو کہ بس حملے کرنا اور لڑنا تھی۔ وہ چنگیز خان کا پوتا تھا، جو امن کی کوششوں کے بجائے اپنے مخالفین کی ایک بڑی تعداد کو قتل کرنے کے لیے بہت مشہور تھے۔

تیرہویں صدی کے اوائل تک چنگیز خان کی سلطنت اتنی بڑی سلطنت بن چکی تھی جتنی بڑی یوریشیائی براعظم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی اور نہ ہی آج تک دیکھی ہے۔ تاہم قبلائی خان نے لطیف اور سوچ سمجھ کر حکومت چلانے والے حکمراں کی ساکھ بنائی جو ان کے دادا کی قتل و غارت والی ساکھ سے قدرے مختلف تھی۔ لیکن ایسا اچانک نہیں ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

چینگیز خان کی جنگوں اور وسیع منگول فتوحات کو دیکھ کر سمجھ آتا ہے کہ کیسے حکمران قرون وسطی کے یوریشیا میں اتحاد بدل کر تبدیلی کا نیا راستہ بناتے تھے۔ 13 ویں صدی کے وسط میں منگولوں نے چینی سونگ خاندان کے ساتھ مل کر اپنے باہمی دشمن جورچن کے خلاف کامیاب اتحاد بنایا۔

لیکن جب انھوں نے جورچن لوگوں کو شکست دی تو پھر وہ سونگ کے بھی خلاف ہو گئے۔ چنگیز خان کا انتقال 1227 میں ہوا تھا اور مختلف جانشینوں کے بعد ان کے پوتے قبلائی خان کی باری آئی کہ وہ اب فتوحات کے مشن کو آگے بڑھائیں۔

اگر دیکھا جائے تو صدی کے وسط میں چین کے اکثر حصے کا کنٹرول منگولوں کے پاس تھا اور 1268 اور 1273 کے درمیان قبلائی کے کمانڈنگ جنرل نے، جو بذاتِ خود منگول نہیں بلکہ چینی تھے، وسطی چین کے جدید صوبے ہوبے میں سانگ خاندان کے گڑھ کا محاصرہ کر کے اسے فتح کیا تھا۔ جب شہر سانگ خاندان کے ہاتھ سے جاتا رہا تو اس کے ساتھ ہی نسلی اعتبار سے چینی سونگ خاندان کی بقا کا آخری موقع بھی ختم ہوا۔

نسلی طور پر چینی اصطلاح اس لیے استعمال کی گئی ہے کیونکہ اس وقت تک چین میں ایک اور خاندان بھی حکومت بنا چکا تھا جسے دراصل منگولوں نے بنایا تھا۔

سنہ 1271 میں تخت پر تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قابض رہنے کے بعد قبلائی خان نے یوان خاندان کی حکومت کا باضابطہ طور پر اعلان کیا۔ غیر معمولی طور پر انھوں نے اپنا لقب گریٹ خان (عظیم خان) ہی رکھا جس سے چاہے برائے نام ہی سہی یوریشیا میں دوسرے خاندانوں پر ان کا اثر و رسوخ تو قائم رہا۔

قبلائی خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنقبلائی خان پہلے منگول تھے جنہوں نے چین میں رہ کر چین پر حکومت کی تھی

یہ پہلا موقع تھا جب ملک پر کسی ایسے خاندان کی حکومت قائم ہوئی جس کا تعلق روایتی طور پر چینی سرزمین سے نہیں تھا، اور یہ آخری بھی نہیں تھی۔ 1644 سے 1912 تک چین کے حکمران مونچوز رہے جنھوں نے چنگ خاندان کے طور پر حکمرانی کی۔ تاہم، قبلائی خان نے اپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے کے لیے توازن کا پیچیدہ راستہ اختیار کیا۔

انھوں نے چین کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جن میں منگول اکثر چینیوں سے بالاتر ہوتے، تاہم ہر شعبے میں یہ نسلی تقسیم کا نظام نہیں تھا۔ ان کے بہت سارے مشیر چینی تھے اور انھوں نے چینی بیوروکریسی کے ڈھانچے کو بہت حد تک اس جیسا ہی رکھا تھا جیسا سونگ خاندان کے وقت تھا۔

یہ سلطنت اس لیے بھی مختلف تھی کہ یہ مشرق وسطی تک پھیلی ہوئی وسیع سلطنت کا ایک حصہ تھی اور اس کا اثر اس کی ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں تھا۔ چنانچہ فارس میں بھی ایسے فن پارے ملے جن پر چینی ڈریگنز کے ڈیزائن بنے ہوئے تھے۔

منگول سلطنت نے اپنے مختلف حصوں کے درمیان ڈاک کے نظام کو بہتر بنایا اور قالین یا چٹائی بنانے میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ سنہ 1270 کی دہائی کے اوائل میں مشہور یورپی سیاح قبلائی خان کے دارالحکومت آئے اور وہ تھے وینس کے مشہور سیاح مارکو پولو۔

یہ دارالحکومت اس وقت شینڈو کے نام سے جانا جاتا جسے مغرب میں زمادو کہتے تھے اور آج کل اس کا نام بیجنگ ہے تھا۔ مارکو پولو قبلائی خان کا محل اور اس کے باغات دیکھ کر دھنگ رہ گئے۔ انھوں نے ان کی تعریف کچھ اس طرح کی:

’آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ اب تک کا (دنیا کا) سب سے بڑا محل ہے، وسیع تر، اتنا پرتعیش اور اتنا خوبصورت کہ کوئی بھی آدمی زمین پر اس سے بالاتر کوئی چیز ڈیزائن نہیں کر سکتا ہے۔‘

مارکو پولو نے قبلائی خان کے محل اور باغات کی بہت تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ ایسے دنیا میں کہیں نہیں ہیں

،تصویر کا ذریعہDEA PICTURE LIBRARY/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنمارکو پولو نے قبلائی خان کے محل اور باغات کی بہت تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ ایسے دنیا میں کہیں نہیں ہیں

قبلائی خاندان یقینی طور پر ایک دوسرے کی مختلف ثقافتی روایات کو متوازن رکھنے کی ضروریات سے آگاہ تھا۔ لیکن قبلائی خان کی جبلت انھیں ایک جگہ بیٹھنے نہیں دیتی تھی۔ منگول بذاتِ خود تانترک بدھ مت کی طرح کے عقیدے کو مانتے تھے۔ لیکن اس دور میں سلطنت میں اسلام نے بھی بہت فروغ پایا تھا اور بہت سے صوبوں کے گورنر مسلمان تھے۔

ڈاؤزم کے نام سے جانے جانے والے روایتی مقامی مذہبی عقائد کو بھی پرچار کرنے کی اجازت تھی۔ یہ سب بڑا کوسموپولیٹن یا عالمگیر لگتا ہے۔ تاہم کبھی کبھی بہت سخت فیصلے بھی سنائے جاتے تھے۔ ایک موقع پر جانوروں کو اسلامی طریقے سے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی گئی اور ڈاؤازم پر کریک ڈاؤن بھی ہوتے تھے۔

تاہم قبلائی خان کا دور جدید سلطنتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ روادار تھا۔ لیکن پھر بھی یہ فتح کر کے حاصل کی گئی سلطنت تھی کوئی باہمی تعاون سے بنائی گئی نہیں۔ اور نظم و ضبط کا خیال قبلائی خان کے ذہن میں ہمیشہ اولین حیثیت رکھتا تھا۔

سلطنت کی عالمگیر نوعیت حقیقی تھی لیکن یہ ضروری ہے کہ اسے رومانوی نہ بنایا جائے کیونکہ ہم بعض اوقات ایسے معاشروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ آخر میں اس طرح کے تمام ڈھانچوں کی طرح اس درجہ بندی کو بھی تشدد کے ذریعے کنٹرول میں رکھا گیا تھا۔

یہ واضح تھا کہ اس مرتبہ منگول ایک وسیع سلطنت پر حکمرانی کر رہے تھے جس کا اپنا فنون لطیفہ اور نظم و نسق کا نظام تھا۔ اس کو مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا کیونکہ بہت سے چینی منگولوں کی حکمرانی سے خوش نہیں تھے۔

اگرچہ منگول حکمرانوں نے چینی طرز حکمرانی اور ان کی کچھ اقدار اور طریقوں کو اپنایا ہوا بھی تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چین میں ڈرامے جیسی آرٹ فارم کو مزید فروغ ملا۔ ڈرامے اکثر ناانصافی کے موضوعات پر بنائے جاتے تھے جس میں بالآخر جزا اور سزا کا عنصر ہوتا۔ ان میں سے اکثر ڈراموں کو چینی عوام کی طرف سے منگولوں پر بڑے خاص طریقے سے تنقید کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

بہت سے ڈراموں میں مرکزی کرداروں کو جن پر شدید ظلم کیا گیا ہو بدلہ لیتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے، جیسے چینی ڈراموں کے مصنف کوان ہان چنگ کے ڈرامے ’دی ان جسٹس ٹو تاؤ‘ میں۔ یہ ایک عورت کی کہانی ہے جسے غلط پھانسی دی گئی۔ اس ڈرامے کا بیشتر حصہ منگول مخالف ہے، اور اس میں خواندہ اشرافیہ کے اس غصے کا اظہار بھی دیکھا جا سکتا ہے جو وہ حکمرانی چھن جانے کی وجہ سے محسوس کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ حکومت کرنا ان کا حق تھا۔

مثال کے طور پر دربار نے امتحانات کا سرکاری نظام استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے سکالر بیوروکریٹ طبقے کے لیے روایتی ترقی کا ایک دروازہ بند ہو گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی ڈرامہ نویس کے لیے حکمران خاندان کے خلاف کھل کر بولنا انتہائی خطرناک تھا لہذا اس کی بجائے انھوں نے قدیم تاریخی دور کی کہانیوں کو استعاروں اور حوالوں کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ چینی مصنفین نے سیاسی جبر کے کئی دوسرے ادوار میں بھی ایسا ہی کیا ہے۔

یہ بھی کیا ستم ہے کہ منگول خاندان کی معاشرتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی نفرت نے چین کو بہترین ڈرامہ دیا ہے۔ کوان ہان چنگ اور دیگر کے بہت سے ڈرامے آج بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

یوان خاندان کے دور میں ایک اور چیز بھی ایجاد کی گئی تھی اور وہ تھی کاغذ کی کرنسی۔ بدقسمتی سے اس کرنسی کے ساتھ بھی وہی ہوا جو اس کے بعد آنے والے بہت سوں کے ساتھ ہوا۔ حکومت نے بہت زیادہ نوٹ چھاپے لیکن ان کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے افراط زر پیدا ہو گئی۔ بیسویں صدی کے وسط میں چین کی قوم پرست حکومت بھی اسی طرح کی مالی تباہی کا شکار ہوئی۔

جاپان پر قبلائی خان کی فوج کا حملہ

،تصویر کا ذریعہPrint Collector/Getty Images

،تصویر کا کیپشنجاپان پر قبلائی خان کی فوج کے حملے کو ایک بڑی ناکامی سمجھا جاتا ہے

قبلائی خان کی فتوحات کی حکمتِ عملی کو بھی کچھ اسی طرح کی صورتِ حال درپیش ہوئی۔ ان کی خواہش تھی کہ سلطنت وسیع سے وسیع تر ہوتی جائے۔ انھوں نے ان علاقوں پر بھی حملے کیے جنھیں آج ویتام اور میانمار کہا جاتا ہے۔

سنہ 1271 اور 1284میں جاپان پر ناکام حملے کرنا بھی اسی خواہش کا ہی ایک حصہ ہے۔ کہانیوں سے منسوب ہے کہ جاپان پر حملے کے لیے جانے والی کشتیوں کو خدا کی طرف سے بھیجی جانے والی تیز آسمانی ہواؤں نے تباہ کر دیا تھا۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ کشتیاں بنانے کے لیے جو تکنیک استعمال کی گئی تھی اس پر زیادہ غور نہیں کیا گیا اور جلدی میں کام ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس کا نتیجہ سامنے تھا۔

جاپان فتح کرنے میں ناکامی سے نہ صرف بہت زیادہ تعداد میں پیسہ ضائع ہوا بلکہ اس سے سلطنت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے بعد کی جنگوں کے بوجھ اور اپنی پسندیدہ ترین بیوی کی موت نے بھی قبلائی خان کو اندر سے توڑ دیا۔ اپنے آخری سالوں میں لگتا تھا کہ وہ جینے کی خواہش ہی چھوڑ چکے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی پرواہ کرنا چھوڑ گئے، زیادہ کھانے لگے، موٹے ہوئے اور جوڑوں کے درد میں مبتلا ہو گئے۔

قبلائی خان 78 سال کی عمر میں 1294 میں انتقال کر گئے۔ تاہم ان کا یوان خاندان چین پر 1368 تک مزید ایک سو سال حکومت کرتا رہا۔ اور اس نے ایک نئی مثال بھی قائم کی۔

قبلائی خان کے اپنے آپ کو چین کا شہنشاہ کہلانے کے اعلان سے چینی ریاست کی ایک نئی تشریح سامنے آئی۔ یہ نظریہ نسلی نوعیت کی بجائے مشترکہ اداروں اور ثقافتی اصولوں کے قیام پر مبنی تھا۔ یقیناً سبھی چینی ایسا نہیں سمجھتے اور نہ ہی حقیقت میں تمام منگول بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ قبلائی خان کی وسعت پسندی کی وجہ سے اندرونی ایشیا کے ایک بڑے حصے کو چین میں ضرور لایا گیا۔ اور اس سے ایک نئی راہ کھل گئی۔

جب یوآن سلطنت کو شکست ہوئی تو اس کی جگہ منگ سلطنت نے لے لی، جس کے پہلے حکمران در حقیقت منگولوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اور جب 17 ویں صدی کے وسط میں منگ سلطنت کو چنگ خاندان نے شکست دی تو اس وقت اس طرح کی صورتِ حال کے لیے ایک مثال سامنے آچکی تھی جس میں شمال سے ایک غیر نسلی چینی خانہ بدوش خاندان نے زراعت سے وابستہ اور ثقافتی طور پر مضبوط چینی سلطنت پر کنٹرول کر لیا تھا۔

چنگ خاندان بھی اسی طرح تقسیم ہوا کہ حکمران طبقے کے ثقافتی طریقوں کو منگولوں کی بجائے منچو طریقوں پر ترجیح دی جائے، یعنی چینی شہنشاہ کی حیثیت سے چینی اصولوں کے ذریعہ حکمرانی۔