آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سپین میں پولیس کا ’تھری ڈی پرنٹر سے اسلحہ بنانے کے کارخانے پر چھاپہ‘
سپین کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے چھاپہ مار کر ایک غیر قانونی ورکشاپ کو تباہ کر دیا ہے جہاں تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے اسلحے تیار کیے جا رہے تھے۔
کینیری جزائر کے سانتا کروز ڈی ٹینرف کی تلاشی میں ملنے والی اشیاء میں دو تھری ڈی پرنٹرز کے ساتھ بندوق کے پرزے، ایک اسالٹ رائفل کی نقل، دو ٹیزر اور ایک مشیٹے یعنی بڑے خنجر شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں دہشت گردی اور شہری علاقوں میں گوریلا جنگ کے بارے میں کتابچوں کے علاوہ سفید فام بالادستی والے مواد بھی ملے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سپین میں دریافت ہونے والی یہ اس قسم کی پہلی ورکشاپ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ورکشاپ کے مبینہ مالک پر غیر قانونی طور پر اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ہسپانوی اخبار ایل پائس کے مطابق اس ورکشاپ کا مالک ایک ہسپانوی شہری ہے جو اس جزیرے پر ایک نرسنگ ہوم کے منتظم کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک بیان میں پولیس نے کہا ہے کہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب تفتیش کاروں کو ایک ایسے شخص کے بارے میں معلوم ہوا جو انٹرنیٹ پر فائر آرمز اور دھماکہ خیز مواد فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
تحقیقات نے انھیں ٹینیرائف تک پہنچایا اور جب ایجنٹوں نے ورکشاپ پر چھاپہ مارا تو انھیں وہان ایک مکمل طور پر آپریشنل تھری ڈی پرنٹر ملا' جس میں ایک شارٹ رائفل کا فریم تقریبا مکمل صورت میں چھاپا ہوا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ برآمد ہونے والی دیگر اشیا میں 30 سے زیادہ کتابچے شامل ہیں جن میں گھر میں دھماکہ خیز مواد کیسے بنایا جائے اور تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے آتشیں اسلحہ کس طرح تیار کیا جائے وغیرہ کی تفصیلات درج ہیں۔
یہ چھاپہ گذشتہ سال ستمبر میں مارا گیا تھا لیکن ایک تفتیشی جج نے تفصیلات کو خفیہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور اس آپریشن کا گذشتہ روز اتوار کو ہی انکشاف ہوا ہے۔