تھری ڈی پرنٹنگ کی دکان بت تراشی کے الزام کے بعد بند

    • مصنف, جارج پیئرپوائنٹ اور جوانا سبا
    • عہدہ, بی بی سی

کویت میں مسلمان عالم کی جانب سے دباؤ ڈالے جانے کے بعد حکام نے ایک تھری ڈی پرنٹنگ کرنے والی دکان کو بند کر دیا ہے۔

یہ دکان ہو بہو انسانوں جیسے پتلے بنانے کے لیے شہرت رکھتی تھی۔ شیخ عثمان الخامس نے اس پر ’بت تراشی‘ کا الزام عائد کیا۔

کویتی اخبار کے مطابق اس دکان کو 16 ستمبر کو بند کر دیا گیا اور وہاں سے تمام پتلے ہٹا دیے گئے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حکام نے اس دکان کے بند کیے جانے کی منظوری دی تھی یا نہیں اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان بھی سامنے نہیں آیا۔

اس واقعے نے کویت میں بت تراشی کو سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنایا۔ ’کویت میں بت` کا ہیش ٹیگ 21000 مرتبہ استمعال کیا گیا۔

ایک ٹوئٹر صارف عبدالرحمن الناصر نے یہ ہیش ٹیگ استمعال کرتے ہوئے لکھا ’ان بتوں سے لاحق خطرہ کافی بڑا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ آج یہ بت محض نشانیاں ہیں لیکن آنے والے وقتوں میں لوگ ان سے رحمت مانگیں گے۔۔۔ اور پھر خدا کے بجائے ان کی عبادت ہونے لگے گی۔‘

تاہم کئی لوگوں نے اسے بے وقوفانہ ردِ عمل قرار دیا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو احمق اور لاعلم قرار دیا ہے۔

کئی کے خیال میں یہ بات اس قدر سنجیدہ نوعیت کی نہیں تھی۔ کئی لوگوں نے مذاقاً اپنے جمع کیے گئے مجسموں کی تصاویر شیئر کیں۔

ایک شخص نے اپنے پسندیدہ فٹ بالرز کے پتلوں کی تصویر شیئر کی جبکہ ایک نے ڈزنی کے کرداروں کی۔

ایک صارف نے جانوروں کے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’جانوروں کا نیا فرقہ۔‘

اسلام میں بتوں کا تصور

عربی میں موجود ’شرک‘ کی اصلاح کو بت سازی کے طور پر تشریح کیا جاتا ہے جسے اسلام میں گناہ قرار دیا گیا ہے۔

اسی لیے زندہ چیزوں خصوصاً انسانوں کے مجسمے بنانے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اسلامی فن بھی زیادہ تر تجریدی یا تزیئن سے متعلق ہے۔

حالیہ برسوں میں عسکریت پسند گروہوں نے کئی تاریخی مقامات کو بتوں کی وجہ سے تباہ کیا۔

القباس اخبار سے بات کرتے ہوئے اس دکان کے مینیجر محمد الیوسفی کا کہنا تھا ’میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ میں سنہ 2018 میں ایک دکان کھولوں گا اور لوگ مجھ پر بت فروخت کرنے کا الزام عائد کریں گے۔‘

تاہم انھوں نے کہا ہے کہ وہ تمام مذہبی خیالات کا احترام کرتے ہیں اور کسی بھی رائے کی تعظم کرنا لوگوں کا انفراد فعل ہے۔