چین اور امریکہ کے متعلق میرے دادا کی کہانی نے مجھے کیا سکھایا؟

    • مصنف, ونسنٹ نی
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

جب میرے دادا پچیس چھبیس برس کے تھے تو انھوں نے چین میں رہنے کا ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے میرے خاندان کی کہانی کا رخ موڑ دیا۔

اسی فیصلے نے میرے دادا کو جدید چینی تاریخ میں صف اول کے لوگوں میں لا کھڑا کیا۔

اور غیر متوقع طور پر اس فیصلے نے ان کے امریکہ کے بارے میں نظریات کی تشکیل کی۔ یہ اور بات ہے کہ 40 برس تک چین سے تعلقات رکھنے کے بعد اب امریکہ یہ سوچ رہا ہے کہ اسے ان تعلقات کا آخر فائدہ کیا ہوا۔

میرے دادا نی شیلی کی رواں برس ستمبر میں 95 سال کی عمر میں وفات ہوئی اور ان کے وفات نے مجھے اُن کے پرآشوب اور مشکل دور پر غور کرنے کی ترغیب دی اور اس بات پر بھی کہ امریکہ ان کے دور کی نسل کے لوگوں کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔

آنے والے برسوں میں ان تعلقات کا کیا مستقبل ہوگا؟

جنگ اور انقلاب

نی شیلی سنہ 1925 میں پیدا ہوئے۔ سنہ 1925 کو ’جنگ کا سال‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم وہ اسی برس پیدا ہوئے تھے یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ان کی نسل کے بہت سارے چینی لوگوں کی طرح ان کی اصل یوم پیدائش بھی معلوم نہیں ہے کیونکہ اس وقت رجسٹریشن کا نظام بمشکل ہی موجود تھا۔

اُن کو بس اتنا یاد تھا کہ وہ ایک مخصوص سال (چینی کیلنڈر کے مطابق چوہوں کا سال) کے موسم سرما میں پیدا ہوئے تھے۔

ایک خاندان کے طور پر ہم ان کی موت کے لیے تیار تھے۔ وہ رواں برس کے آغاز سے ہی بیمار تھے اور ان کا ہسپتال آنا جانا لگا رہتا تھا۔ لیکن جب ستمبر میں جمعہ کی صبح لندن میں مجھ تک ان کی وفات کی خبر پہنچی تو پھر بھی مجھے بہت صدمہ پہنچا۔

یہ بھی پڑھیے

مجھے گہری ندامت کا احساس ہو رہا تھا۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ کورونا کے ختم ہونے پر ان سے ملنے جاؤں گا۔ مجھے وہ دن یاد آئے جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر تقریباً ہر چیز کے بارے میں بات کرتے تھے۔ اب ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

میں مشرقی چین میں اسی تین منزلہ مکان میں اپنے دادا دادی کی طرح پلا بڑھا جو ان کے چار بیٹوں نے تعمیر کیا تھا۔

دادا نے کبھی بھی اپنے ماضی کے بارے میں بات کرنے میں زیادہ وقت نہیں گزارا۔ لیکن کئی برسوں کے دوران میرے والد اور تینوں چچا کی باتوں سے مجھے پتا چلا کہ ان کی زندگی تلاطم خیز تھی، آج کے ہی وبائی دور کی طرح جس میں یہ احساس تھا کہ خواب کو پورا کرنے میں رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں۔

ان کے بھی خواب تھے۔ ایک چھوٹا سا خواب یعنی صرف زندہ رہنے کا خواب۔ وہ ابھی پیدا ہی ہوئے تھے کہ چین میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ جب وہ نو عمر تھے تو جاپان نے چین پر حملہ کر دیا۔ ان ہلاکتوں کی ہولناکی نے ان میں ایک ایسے ملک کے نظریہ کو شکل دی جو غیرملکی قبضے میں خوف و ہراس کا شکار ہو۔

جب آخر کار جاپانیوں کے خلاف لڑائی ختم ہوئی تو پھر سے خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ میرے دادا اپنے بہت سارے دوستوں کی طرح قوم پرستوں کے ساتھ مل کر لڑتے رہے۔ سنہ 1940 کی دہائی کے آخر تک یہ بات واضح ہو گئی کہ کمیونسٹ اقتدار سنبھالنے والے ہیں اور انھیں دوسرے شکست خوردہ قوم پرستوں کے ساتھ تائیوان کے جزیرے کے لیے روانہ ہونے کا آپشن دیا گیا۔

لیکن نی شیلی نے چین میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ میری دادی حاملہ تھیں اور ان کا پہلا بچہ ہونے والا تھا۔ وہ بھی اپنا وطن چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔

سنہ 1949 میں پیپلز ریپبلک آف چائنا (عوامی جمہوریہ چین) کے قیام کے بعد کئی برسوں تک چینی زندگی ہنگامہ خیز اور غیر متوقع رہی تھی۔

میرے دادا دادی کے وہیں رہنے کے فیصلہ کے فوراً بعد ہی سیاسی ہلچل اور اتھل پتھل کی لہر چل پڑی۔ ان کا ماضی ایک مسئلہ بن گیا۔ کمیونسٹ چین میں قوم پرستوں سے وابستہ لوگوں کو قمری سال کے جشن کے موقع پر دوسرے گھرانوں کے سامنے پریڈ کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

اور یہ خاندان غریب تھا۔ ایک دن میری دادی نے ایک انڈا پکا کر چار ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور اپنے چار بھوکے بیٹوں کو کھلایا۔ میرے والد نے مجھے یہ کہانی بہت سال پہلے سُنائی تھی اور اس وقت ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

لیکن میرے دادا نے بہتر زندگی کا خواب دیکھنا نہیں چھوڑا جس میں انھیں پرسکون زندگی حاصل ہو اور ان کے بچوں کی ترقی کا سامان ہو۔

انھوں نے اپنے چاروں بیٹوں سے کہا کہ چیزیں بدلتی ہیں لیکن ہنر سیکھنے سے انھیں زندہ رہنے میں مدد ملے گی۔ چنانچہ میرے والد اور ان کے تین بھائی بڑھئی (لکڑی کا کام کرنے والے) بنے کیونکہ انھیں اُن کے ’متنازع پس منظر‘ کے سبب ہائی سکول میں داخلہ سے منع کر دیا گیا۔ اور انھوں نے ہی مل کر تین منزلہ عمارت تعمیر کی تھی جس میں میں پلا بڑھا۔

جب چین نے راستہ بدلا

سنہ 1970 کی دہائی کے آخر میں چین کے مین لینڈ میں چیزیں آہستہ آہستہ تبدیل ہونا شروع ہوئیں۔ چیئرمین ماؤ سنہ 1976 میں وفات پا گئے۔ ان کے ساتھ ان کا ثقافتی انقلاب بھی رفتہ رفتہ ختم ہو گیا اور پھر سنہ 1979 میں امریکہ نے عوامی جمہوریہ چین کو سفارتی طور پر تسلیم کر لیا۔

مؤرخین کے مطابق اس اقدام نے سرد جنگ کی سمت و رفتار کو تبدیل کر دیا۔ وہ جو ماؤ کے سائے سے بمشکل نکلنے لگے تھے ان چیزوں نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور انھیں امید کی کرن نظر آئی۔

عام لوگ جیو پولیٹکس یا جغرافیائی طاقت کی زبردست رسہ کشی کے معاملے میں سوچ کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین برف پگھلنے سے چین کو آگے بڑھنے میں مدد ملی اور اس نے عوام کو متبادل طرز زندگی دکھایا۔

سنہ 1990 کی دہائی میں جب کچھ چینی افراد نے امریکہ ہجرت کرنا شروع کی تو قومی ٹی وی پر ’بیجنگ کا شہری نیویارک میں‘ نامی ایک سنسنی خیز طویل سیریل پیش کیا گیا۔ اس سلسلے کی ابتدا اس جملے سے ہوتی تھی ’اگر آپ اس سے پیار کرتے ہیں تو اسے نیویارک بھیج دیں، کیونکہ وہ جنت ہے۔ اگر آپ اس سے نفرت کرتے ہیں تو بھی اسے نیویارک بھیج دیں کیونکہ یہ جہنم ہے۔‘

کچھ عرصہ پہلے تک بہت سارے چینی لوگوں کو ان تضادات کے باوجود امریکہ دل موہ لینے والا نظر آیا۔ چنانچہ سنہ 2012 میں جب میں نے دادا سے کہا کہ میں وہاں رپورٹر کی حیثیت سے کام کرنے جا رہا ہوں تو انھوں نے انگوٹھے کو اونچا کیا یعنی شاباش کہا اور ان کی آنکھیں فخر کے ساتھ چمک اٹھیں۔

امریکہ آج آٹھ سال پہلے والے امریکہ سے الگ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت چین کے ساتھ اس کے تعلقات نے پچھلے چار برسوں میں اکثر عالمی سرخیاں بنائی ہیں۔

اب امریکہ میں میرے کچھ دوست پریشان ہیں کہ چین میں ان کی پرورش ایک دن انھیں پریشانی میں ڈال سکتی ہے۔

رابرٹ ڈیلی اس وقت اپنی 20 کی دہائی میں تھے جب انھوں نے 'اے بیجنگ نیٹِو ان نیویارک' (بیجنگ کا شہری نیویارک میں) میں ایک مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں امریکہ کے بارے میں چینی رویوں میں تبدیلی واضح ہے۔

ڈیلی اب واشنگٹن میں چین اور امریکہ کے کسنجر انسٹیٹیوٹ میں ولسن سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے مجھے واشنگٹن سے کہا ’امریکہ، چین سفارتی تعلقات کے ابتدائی برسوں میں دونوں طرف سے زبردست خیر خواہی تھی۔ چینی طویل عرصے کی تنہائی کے بعد خاص طور پر پُرجوش تھے۔ وہ بیرونی دنیا کے بارے میں اور خاص طور پر امریکہ کے بارے میں دلچسپی رکھتے تھے۔‘

اِن دنوں امریکیوں کی چین کے بارے میں کم خیرخواہی والا نظریہ ہے۔ لیکن بحر الکاہل کے دوسری طرف بھی اسی قسم کا احساس پایا جاتا ہے۔

جیسا کہ سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پالیسی سازوں نے امریکہ اور چین کے تعلقات کو ایک ناکامی قرار دیا ہے اور بیجنگ کے ساتھ واشنگٹن کے رشتے کو کم سے کم کرنے کی حمایت کی ہے اسی طرح کیلیفورنیا یونیورسٹی میں سان ڈیاگو سکول آف گلوبل پالیسی اینڈ سٹریٹیجی کے چائنا ڈیٹا لیب کے مطابق بہت سے چینیوں نے بھی امریکہ کو ناگوار قرار دیا ہے۔

اس مطالعے کی قیادت کرنے والے پروفیسر لئی گوانگ نے مجھے بتایا کہ ’کووڈ 19 نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے کووڈ کو ’چینی وائرس‘ کہنے پر اصرار نے چینی عوام کو مشتعل کیا۔‘

پروفیسر گوانگ نے کہا: ’وبائی امراض سے متعلق ٹرمپ کی ناقص حکمت عملی نے امریکہ کی ساکھ کو متاثر کیا، جسے کبھی چینی عوام میں طاقتور سپر پاور کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ جب تک کہ دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کو بہتر نہیں بناتے چینی عوام میں امریکہ کے متعلق رائے کے بہتر ہونے کا امکان نہیں ہے۔‘

نو منتخب صدر جو بائیڈن 20 جنوری کو وائٹ ہاؤس میں اقتدار سنبھالتے ہی جلد ہی چین کے متعلق اپنی پالیسی پر عملدرآمد کریں گے۔ کچھ تجزیہ کار دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی توقع کر رہے ہیں۔

لیکن رابرٹ ڈیلی اس سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کوئی واپسی نہیں ہے۔ امریکہ اور چین کے تعلقات بنیادی طور پر شاید آنے والے عشروں تک متنازع رہیں گے۔‘

مجھے اپنے دادا کے ساتھ واشنگٹن کے موڈ میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرنے کا موقع کبھی نہیں مل سکا۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ دونوں ممالک میں رشتے کے خاتمے کی بات سے متفق ہوتے کیونکہ چین کے ساتھ امریکہ کے قریبی تعلقات نے ان کے لاکھوں ہم بطنوں کے لیے دروازہ کھولا تھا۔

اور ان کے پوتا ان میں سے ایک ہے۔