بریگزٹ: یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی یورپ کو کیسے بدلے گی، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے پر مدت ختم ہونے سے صرف چھ روز قبل دستخط کر کے برطانیہ نے اپنے ملک کی عوام کو نہ صرف کرسمس کا تحفہ دیا بلکہ ساتھ ساتھ یہ یقینی بھی بنایا کہ یورپ کے دیگر ممالک کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات قائم رہیں۔
پاکستان کے قارئین شاید یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ان کا اس معاہدے سے کیا لینا دینا اور ان کا یہ سوچنا بالکل جائز ہے۔
لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی ہو گی کہ برطانیہ میں لاکھوں پاکستانی برسوں سے وہاں رہائش پذیر ہیں۔ وہ اپنے کاروبار چلاتے ہیں، نوکریاں کرتے ہیں اور پاکستان رقم بھیجتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال ہزاروں پاکستانی برطانوی تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم کی غرض سے جاتے ہیں اور ان کا پاکستان اور برطانیہ سے گہرا تعلق رہتا ہے۔
ایسی صورتحال میں برطانیہ کی سیاسی اور معاشرتی صورتحال میں بریگزٹ جیسے معاہدے کے بعد رونما ہونے والے تبدیلیاں یقینی طور پر پاکستانی نژاد افراد اور پاکستانیوں کو بھی کچھ حد تک متاثر کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ مکمل معاہدہ 1500 سے زیادہ صفحات پر مشتمل اور نہایت پیچیدہ ہے اور فی الوقت اسے شائع بھی نہیں کیا گیا تاہم برطانوی حکومت اور یورپی یونین اس معاہدے میں شامل کچھ نکات کو سامنے لائی ہے۔
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مضمون میں برطانوی حکومت اور یورپی یونین کے مابین کیے گئے بریگزٹ معائدے کے چند اہم نکات قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تجارت
جنوری کی پہلی تاریخ کے بعد سے برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین اشیا کی تجارت پر اضافی محصولات وصول نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی اس تجارت میں کسی قسم کی تعداد میں حد مقرر کی جائے گی۔
تاہم سرحدوں پر سامان کی زیادہ کڑی جانچ پڑتال ہو گی اور کسٹمز کے لیے بھیجے جانے والے سامان کے بارے میں بتانا ہو گا۔
فنانس اور سروس کی صنعت سے منسلک افراد کے لیے صورتحال ابھی تک واضح نہیں۔ یاد رہے کہ برطانوی معیشت کے لیے یہ انتہائی اہم صنعت ہے اور اس معاہدے کے بعد ان کو یورپ بھر میں پہلے کی طرح آسان رسائی نہیں ملے گی۔
لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد ’تقریباً ہر شعبے کی مارکیٹ تک رسائی یقینی ہو گی۔‘ ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر شعبوں سے منسلک افراد کی پروفیشنل قابلیت کو فوری طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
سفر
اگر برطانوی شہری چھ ماہ کے عرصے میں 90 دن سے زیادہ مدت یورپی ممالک کی حدود میں گزاریں تو ان کو یورپی یونین کے ممالک میں سفر کرنے کے لیے ویزا درکار ہوگا۔
سرحدوں پر ان کی زیادہ جانچ پڑتال ہو گی اور ان کے پالتوں جانوروں کے لیے بنائے گئے ای یو پاسپورٹ قابل استعمال نہیں ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فِشری کی صنعت
اس معاہدے کے بعد برطانیہ ایک خود مختار کوسٹل ریاست بن جائے گا جس کا مطلب ہے کہ وہ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون برطانوی سمندری حدود میں آ کر مچھلیاں پکڑ سکتا ہے۔
یورپی یونین کی کشتیاں اگلے چند برس تک ابھی بھی برطانوی سمندری حدود میں آ کر مچھلیاں پکڑ سکتی ہیں لیکن ان کی پکڑی گئی مچھلیوں کی 25 فیصد مالیت برطانوی کشتیوں کو ملے گی۔
یہ سلسلہ ساڑھے پانچ برس تک کے لیے جاری رہے گا جس کے بعد برطانیہ اور یورپی یونین ایک دوسرے کی حدود میں جانے کے لیے باقاعدگی سے مذاکرات کریں گے۔
یورپی عدالتِ انصاف
برطانوی وزیر اعظم بارس جانسن نے کہا ہے کہ اب برطانیہ یورپی عدالتِ انصاف کے دیے گئے فیصلے پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہو گا۔
سکیورٹی
برطانیہ کو اب اہم ڈیٹا بیس اور معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے درخواست دینی ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے علاوہ برطانیہ یورپی یونین کے مشترکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے یورو پول کا بھی حصہ نہیں رہے گا تاہم اس کے صدر دفتر میں ان کی موجودگی رہے گی۔
تعلیم
معاہدے کے بعد برطانیہ یورپی یونین کی دیگر ممالک کے طلبہ کے لیے قائم کیے گئے ایراسمس پروگرام کا حصہ نہیں رہے گی۔
اس کی جگہ ایک نئی سکیم کا آغاز کیا جائے گا جو کہ معروف ریاضی دان ایلن ٹیورنگ کے نام سے منسوب ہو گی۔
آئرلینڈ کی حکومت کے ساتھ بندوبست کیے گئے اقدامات کے بعد شمالی آئرلینڈ کی یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبہ ایراسمس پروگرام میں شرکت کر سکتے ہیں۔










