لندن کے ہیرڈز مال میں بے دریغ پیسے خرچ کرنے والی خاتون سپریم کورٹ میں کیس ہار گئیں

،تصویر کا ذریعہPA Media
- مصنف, ڈومینک کاشیانی
- عہدہ, نامہ نگار بی بی سی ہوم افئیرز
برطانیہ میں ایک عورت کی جانب سے برطانوی قانون 'ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر' یعنی یو ڈبلیو او کے خلاف کی گئی اپیل کا فیصلہ ان کے خلاف آیا جس میں برطانوی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ان کی موقف کی کوئی قانونی دلیل نہیں ہے اور کیس سننے سے انکار کر دیا۔
ضمیرہ حاجی ایوا نے لندن کی معروف دکان ہیرڈز سے ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈز سے زیادہ کی شاپنگ کی تھی اور انھوں نے سٹور کے قریب ایک 12 ملین پاؤنڈز کی مالیت کا گھر اور برکشائر میں ایک گالف کورس بھی خریدا۔
ضمیرہ حاجی ایوا کا تعلق آذربائیجان سے ہے۔ وہ آذربائیجان کے ایک سرکاری بینکار کی اہلیہ ہیں جو کہ آذربائیجان میں سرکاری بینک کے ساتھ کروڑوں پاؤنڈ خرد برد کرنے کے الزام میں جیل میں قید ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
اس فیصلے کے بعد ممکن ہے کہ وہ لندن میں اپنا 12 ملین پاؤنڈ کی مالیت کا گھر بھی ہار جائیں اگر وہ اپنے اثاثوں کی وضاحت نہ کر پائیں۔
جب دو سال قبل یہ قانونی جنگ شروع ہوئی تھی تو اس جوڑی کی دولت کا تخمینہ 22 ملین پاؤنڈ سے زیادہ لگایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگلے دس سالوں میں ضمیرہ حاجی ایوا نے قریب 16 ملین پاؤنڈ سے زیادہ شاپنگ ہیرڈز سے کی جس کے بعد برطانیہ کے حکام نے ان کے اثاثوں کے بارے میں کھوج لگانے کا سلسلے شروع کیا۔
ضمیرہ حاجی ایوا نے کوئی بھی غیر قانونی کام کرنے سے انکار کیا ہے اور نہ ہی ان پر برطانیہ میں کسی جرم مرتکب کرنے کا الزام ہے۔

گذشتہ سال مقامی عدالت نے ان کو آذربائیجان واپس بھیجنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہاں ان کے ساتھ غیر جانبدارانہ سلوک نہیں ہوگا۔
ان کے وکلا نے برطانوی حکام کی جانب سے کی گئی تفتیش و تحقیق کے بارے میں برطانوی سپریم کورٹ سے رابطہ کیا لیکن عدالت نے ان کے کیس کو سنے بغیر مسترد کر دیا۔
نیشنل اکنامک کرائم سینٹر کے گرئیم بگار نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے بہت اہم فیصلہ ہے جس کی مدد سے ہم مالیاتی جرائم کے بارے میں یو ڈبلیو او کو ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔
’ضمیرہ حاجی ایوا کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے اور انھیں اب اپنے اثاثوں کے بارے میں تفصیلات کے بارے میں بتانا ہوگا۔'
'ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر' کیا ہے؟
واضح رہے کہ 2017 میں برطانوی حکومت نے یہ نیا قانون، 'ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر' (یو ڈبلیو او) یعنی وہ دولت جس کے ذرائع کے بارے میں وضاحت نہیں دی گئی، کے بارے میں قانون نافذ کیا تھا اور اس کی مدد سے مبینہ بدعنوان افراد کو اپنے اثاثوں کے بارے میں بتانا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یو ڈبلیو او کے قانون کی مدد سے برطانوی حکام کسی بھی اثاثے اور جائیداد پر اپنا قبضہ رکھ سکتے ہیں جب تک کہ ان کے بارے میں وضاحت نہ مل جائے۔
قانون کے تحت ایسے کوئی بھی اثاثے جن کی مالیت پچاس ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہو اور ان پر شک ہو کہ وہ غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے ہیں، حکومت اس کے خلاف کاروائی کر سکتی ہے۔
حکومتی اندازوں کے مطابق برطانیہ میں ہر سال کالے دھن سے حاصل کی گئی تقریباً 90 ارب پاؤنڈ تک کی رقم کو سفید کیا جاتا ہے۔











