نائجیریا کا طالب علم جو اپنے اغوا کاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب رہا

سکول طلبا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالسلام احمد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، ہویسا سروس

درخت کے ایک موٹے تنے، تھوڑی سی حاضر دماغی اور جنگل میں چند میل تک رینگتے رہنے نے نائیجریا کے ایک سکول کے طالب علم کو اپنے اغوا کاروں سے فرار ہونے میں مدد دی تھی۔ ایک سترہ سالہ سکول طالب علم کو جمعہ کے شام نائیجریا کی شمال مغربی ریاست کٹسینا کے ایک سرکاری سکول سے دیگر 500 طلبا سمیت اغوا کیا گیا تھا۔

اس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں مارا گیا اور دھکے دیے گئے، ہم نے رات پیدل سفر کرتے گزاری اور کبھی ہمارا پیر کانٹوں پر بھی آ جاتا تھا۔ اور صبح ہونے سے 30 منٹ قبل ہمیں سونے کے لیے کہا گیا تھا۔‘

اس طالب علم کا کہنا تھا کہ جب اغوا کار گروپ کے افراد آرام کر رہے تھے تو اسے ایک درخت نظر آیا جس کے نیچے وہ سستانے کے لیے بیٹھ گیا۔

اس کا کہنا ہے کہ ’درخت کے نیچے بیٹھنے کے بعد میں ٹیک لگانے کے لیے تھوڑا پیچھے جھکا، مجھے درخت کے ایک طرف ایسی جگہ نظر آئی جس کے پیچھے میں چھپ گیا۔ میں وہاں لیٹ گیا اور میں نے اپنے ٹانگیں پھیلا لی۔‘

جب مسلح اغوا کاروں نے مغوی طلبا کے گروہ کو وہاں سے آگے بڑھنے کا حکم دیا تو انھیں درخت کے پیچھے چھپا وہ طالب علم نظر نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیے

اس طالب علم کا کہنا تھا کہ ’جب سب وہاں سے چلے گئے تو میں نے رینگنا اور ارد گرد دیکھنا شروع کیا اور میں اس وقت تک رینگتا رہا جب تک میں ایک قریبی آبادی میں نہیں پہنچ گیا، اور خدا کا شکر ہے کہ میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔‘

نقشہ

نائیجریا کی شمال مغربی ریاست کے گورنر امینو بیلو مساری کا کہنا تھا کہ 333 طالبہ اب بھی لاپتہ ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے اغواکاروں کے پاس ہیں جیسا کہ کافی بچے ان سے فرار ہو گئے ہیں اور تاحال لاپتہ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا اغوا کاروں سے رابطہ ہوا ہے اور ان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

تاہم نائیجریا کے صدر کے ترجمان گاربا شاہو نے بی بی سی کو بتایا کہ جو طلبا اغوا کاروں سے چنگل سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مسلح اغوا کاروں کے پاس ان کے صرف دس ساتھی ہیں۔

’ان کا کہنا تھا کہ وہ سکیورٹی اہلکار ہیں۔‘

وہ طالب علم جو اغوا کاروں کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوا اس نے بتایا کہ جمعہ کی شب تقریباً ساڑھے نو بجے مسلح افراد سکول میں داخل ہوئے تھے اور گولیوں کی آوازیں سن کر بہت سے سکول طلبا سکول کی دیواریں پھلانگ کر بھاگ گئے تھے۔

تاہم مسلح اغوا کاروں نے ان کا پیچھا کیا جن کے پاس فلیش لائٹس تھی اور انھوں نے ان طالبعلموں کو یہ کہہ کر دھوکا دیا کہ وہ سکیورٹی گارڈ ہیں اور وہ واپس ان کے پاس آ جائیں۔

ان طلبا کو بعد میں احساس ہوا کہ وہ لوگ سکیورٹی گارڈز نہیں تھے۔

اس موقع پر خیال کیا جاتا ہے کہ مسلح اغوا کاروں کی جانب سے تمام طلبا کو حراست میں لے کر زبردستی جنگل میں چلنے کا کہا گیا۔

سکول طلبا

،تصویر کا ذریعہGAIL KANKARA

اغوا کاروں کے چنگل سے بچ نکلنے والے طالب علم کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جنگل میں لے جانے کے بعد ان میں سے ایک نے ہمیں رکنے کا حکم دیا اور سفر آگے جاری رکھنے سے قبل ہمارے سامان کی تلاشی لی اور گنتی کی۔‘

اس کا کہنا ہے کہ کل 520 طلبا کی گنتی کی گئی اور اس نے فرار ہوتے وقت کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا۔

حکومت نے اس حملے کی ذمہ داری علاقے کے ڈاکوؤں پر عائد کی ہے جو اکثر تاوان کے لیے لوگوں کو اغوا کرتے ہیں۔

یہ ڈاکو کون ہیں؟

بی بی سی نیوز کے لاؤس کے نامہ نگار نوکا اورنجمو کے مطابق شمال مغربی نائیجریا میں ’بینڈٹس‘ کی اصطلاح فولانی گلہ باریوں، مسلح گروہوں اور یہاں تک کہ شمال مشرق میں شورش سے فرار ہونے والے اسلام پسند باغیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

ان میں سے چند ایک گروہوں کے سربراہ جو قریبی علاقوں میں کھیتی باڑی کرنے والی آبادی پر حملے کرنے اور اغوا کرنے کی کارروائیوں میں ملوث رہے تھے نے سیز فائر کے ناکام مذاکرات کے دوران آزادانہ طور پر گورنروں اور دیگر سرکاری حکام سے ملاقاتیں کی تھی۔

لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ان بینڈٹس نے سکول کے سینکڑوں بچوں کو اغوا کیا ہو، یہ وہ حربہ ہے جو ماضی میں شدت پسند گروہ بوکو حرام یا اسوام اپناتے رہے ہیں اور اس سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ گروہ بھی اسلامی شدت پسند مسلح گروہوں کی طرز پر کارروائیاں کرنا شروع کر رہے ہیں۔

ان ’بینڈٹس‘ کی جانب سے زیادہ تر اغوا کی کارروائیاں تاوان کے لیے کی جاتی ہے اور بہت سوں کو امید ہے کہ یہ معاملہ بھی حل ہو جائے گا، لیکن اگر چوبک لڑکیوں کے واقع کے برعکس جہاں ابھی بھی چند ایک کو حراست میں رکھا گیا ہے، سکیورٹی اہلکار تاوان دینے کے بعد بھی بچوں کو بچانے میں ناکام رہے تو؟

نائجیریا کی عوام کی بڑی تعداد نے صدر محمد بوہاری کو جائے وقوع پر نہ جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے کے قریب ہی اپنے آبائی علاقے میں موجود ہیں اور وہ اس واقعہ کے بعد جائے وقوع پر نہیں پہنچے ۔

اس مضمون میں اغوا کاروں سے بچ نکلنے والے طالب علم کی شناخت اس کی حفاظت کے پیش نظر ظاہر نہیں کی گئی۔