بیت الحکمت: مسلمانوں کا وہ ادارہ جہاں جدید ریاضی کی بنیاد رکھی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیت الحکمت آج ایک خیالی جگہ لگتی ہے۔ اب اس قدیم لائبریری کی کوئی نشانیاں باقی نہیں ہیں۔ مسلمانوں کی اس عظیم لائبریری کو 13ویں صدی میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس لیے اب ہمیں یہ نہیں معلوم کہ بغداد میں اس کا اصل مقام کہاں تھا اور یہ کیسی دکھائی دیتی تھی۔
لیکن یہ لائبریری مسلمانوں کے سنہرے دور میں علم و دانش کا گہوارہ تھی۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں ریاضی کے انقلابی تصورات نے جنم لیا جن میں کامن زیرو یا صفر کا ہندسہ اور ہمارے جدید دور کے 'عربی' اعداد جیسی دریافتیں شامل ہیں۔
یہ آٹھویں صدی میں اس وقت کے مسلمان خلیفہ ہارون الرشید کی ذاتی لائبریری کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ تاہم 30 سال بعد اسے ایک عوامی اکیڈمی بنا دیا گیا۔
ایسا لگتا ہے کہ بیت الحکمت نامی اس اکیڈمی نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو اپنی جانب متوجہ اور بغداد جانے پر راغب کیا تھا۔ یہ سائنسدان اور علم دوست افراد بغداد شہر کے متحرک دانشوارانہ تجسس اور آزادیِ اظہار کی وجہ سے وہاں گئے۔ اس زمانے میں مسلمان، یہودی اور مسیحی دانشوروں سبھی کو وہاں تعلیم اور تحقیق کی اجازت تھی۔
کتابوں کی تعداد کے لحاظ سے بیت الحکمت کا موازنہ آج لندن کی برٹش لائبریری اور پیرس کی ببلیوتھک نیشنل لائبریری سے کیا جا سکتا ہے۔ بیت الحکمت اپنے زمانے میں دنیا کا ایک ایسا ادارہ بن گیا تھا جس کا سائنس کی مختلف شاخوں اور سماجی علوم کی تعلیم میں کوئی ہمسر نہیں تھا۔ وہاں ریاضی، فلکیات، طب، کیمسٹری، ارضیات، فلسفہ، ادب اور آرٹس کے علاوہ کیما گری اور علمِ نجوم جیسے مشکوک مضامین بھی میسر تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس عظیم تاریخی ادارے کو سمجھنے کے لیے ایک تصوارتی دنیا کا سہارا لینا پڑے گا لیکن ایک حقیقت مسلمہ ہے اور وہ یہ کہ اس ادارے نے ایک ایسے تہذیبی احیا کا آغاز کیا جس نے ریاضی کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل کے رکھ دیا۔
بیت الحکمت کو سنہ 1258 میں منگولوں کے حملے کے دوران تباہ کر دیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دریائے دجلہ میں اتنی کتابیں اور قلمی نسخے پھینکے گئے کہ دریا کا پانی کالا ہو گیا۔ تاہم اس اکیڈمی میں ہونے والے علمی کام اور دریافتوں نے ریاضی کی ایک ایسی موثر اور تجریدی زبان متعارف کر دی جسے بعد میں اسلامی سلطنت، یورپ اور بالآخر پوری دنیا نے اپنا لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کے پروفیسر جم الخلیلی کہتے ہیں کہ 'ہمارے لیے یہ مکمل تفضیلات اہم نہیں ہیں کہ بیت الحکمت کہاں اور کب قائم کیا گیا تھا۔ اس سے بہت زیادہ دلچسپ خود وہاں کے سائنسی نظریات کی تاریخ ہے اور یہ کہ اس کے نتیجے میں وہ کیسے پروان چڑھے۔'
بیت الحکمت کے ریاضی کے عظیم ورثے کو ڈھونڈنے کے لیے وقت میں سفر کر کے وہیں جانا پڑے گا۔ اٹلی کے نشاۃ الثانیہ کے ختم ہونے تک یورپ میں کئی سو برس ایک شخص کا نام ریاضی سے جڑا ہوا تھا اور وہ تھے لیونارڈو ڈا پیسا جو بعد میں فیبوناچی کے نام سے مشہور ہوئے۔
اٹلی کے یہ ماہرِ ریاضی پیسا شہر میں سنہ 1170 میں پیدا ہوئے۔ فیبوناچی جب 20 کے پیٹے میں تھے تو انھوں نے مشرقِ وسطی کا سفر کیا، وہ ان نظریات سے مسحور تھے جو انڈیا سے براستہ ایران ان تک پہنچے تھے۔
فیبوناچی نے اٹلی واپس پہنچنے کے بعد اپنی کتاب 'لائبر اباچی' شائع کی جو ہندو - عربی اعداد کے نظام پر مغربی دنیا میں چھپنے والی اولین کتابوں میں شامل ہے۔
جب کتاب لائبر اباچی سنہ 1202 میں پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئی تو ہندو- عربی اعداد صرف چند دانشوروں تک محدود تھے اور یورپی قبائلی اور دانشور اس وقت بھی رومن اعداد ہی استعمال کر رہے تھے جس کی وجہ سے ضرب اور تقسیم ایک بہت مشکل کام ہوا کرتا تھا۔
فیبوناچی کی کتاب میں اعداد کے بارے میں بتایا گیا کہ انھیں منافع کی شرح، رقم کے استعمال، وزن کو مختلف یونٹوں میں تبدیل کرنا، بارٹر کے نظام اور سود کے حساب کتاب میں کیسے استعمال کیا جائے۔
فیبوناچی نے اپنی کتاب کے پہلے چیپٹر میں لکھا کہ 'جو لوگ حساب کتاب کا فن جاننا چاہتے ہیں، اس کی گہرائی اور جہتوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تو انھیں ہاتھ سے اعداد کا حساب کرنا ضرور آنا چاہیے۔ ان نو اعداد اور صفر کے اشارے کی مدد سے کوئی بھی نمبر لکھا جا سکتا ہے۔'
اچانک ریاضی ایک قابلِ استعمال صورت میں سب کے لیے موجود تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم فیبوناچی کا یہ کام ایک ریاضی دان کی حیثیت سے صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ہی نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کام کو سمجھتے تھے جو مسلمان سائنسدان کئی صدیوں سے کر رہے تھے، جن میں ان کے حساب کتاب کے فارمولے، ڈیسیمل یعنی اعشاریہ لگانے کا نظام اور ان کی الجبرا شامل تھا۔
حقیقت میں فیبوناچی کی کتاب لائبر اباچی میں نویں صدی کے عظیم مسلمان ریاضی دان الخوارزمی کے الگوریتھمز سے بھرپور استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔ الخوارزمی نے پہلی مرتبہ کواڈریٹک اکویشنز کو حل کرنے کا ایک باقاعدہ طریقہ پیش کیا یعنی ایک ایسا فارمولا جو صرف ایک تبدیل پذیر شے کی دو درجی مساوات کو حل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اس شعبے میں اپنی دریافتوں کی وجہ سے الخوارزمی کو بابائے الجبرا کہا جاتا ہے۔ ریاضی کے اس شعبے کا نام الجبرا بھی الخوارزمی نے ہی رکھا تھا۔ عربی کے اس لفظ کے معنی ہیں ٹوٹے ہوئے حصوں کو جوڑنا۔ سنہ 821 میں الخوارزمی کو بیت الحکمت میں ماہرِ فلکیات اور چیف لائبریرین مقرر کیا گیا۔
جم الخلیلی کا کہنا ہے کہ الخوارزمی نے اپنے مقالے میں مسلمانوں کو ڈیسیمل یعنی اعشاریہ کے عدد کا نظام متعارف کرایا اور لیونارڈو ڈا پیسا سمیت دوسرے دانشوروں نے اسے یورپ میں پھیلایا۔
جدید ریاضی پر فیبوناچی کے انقلابی اثر کا سہرا بڑی حد تک الخوارزمی کے سر جاتا ہے۔ ان دونوں شخصیات کے درمیان تقریباً چار صدیوں کا فاصلہ ہے لیکن یہ دونوں ایک قدیم لائبریری کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ قرونِ وسطی کے زمانے کا سب سے مشہور ماہرِ ریاضی ایک دوسرے بڑے مفکر کے کندھوں پر کھڑا ہے، ایک ایسا مفکر جس نے اپنا بے مثال علمی کام اسلام کے سنہرے دور میں قائم کیے جانے والے ایک عظیم ادارے میں کیا۔
شاید بیت الحکمت کے بارے میں بہت کم معلومات ہونے کی وجہ سے مورخین کبھی کبھی اس کے بارے میں کچھ مبالغہ آرائی سے بھی کام لیتے ہیں اور اسے ایک دیو مالائی درجہ دے دیتے ہیں۔ یہ سب اُس قلیل تاریخی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا جو بیت الحکمت سے متعلق ہمارے پاس ہے۔
جم الخلیلی کہتے ہیں 'کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ بیت الحکمت بالکل بھی اتنا عظیم ادارہ نہیں تھا جتنا بعض لوگوں کی نظر میں ہے۔ لیکن اس ادارے کا الخوارزمی جیسے مفکروں سے تعلق، ریاضی، فلکیات اور جغرافعہ میں الخوارزمی کے کام سے تعلق میرے لیے کافی ثبوت ہے کہ بیت الحکمت صرف ترجمہ کی گئی کتابوں کی ایک لائبریری نہیں بلکہ علم و تحقیق کا ایک تقریباً مکمل ادارہ تھا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس لائبریری میں کام کرنے والے سکالروں نے اس بارے میں بھی بہت محنت کی کہ عام لوگوں کو ان کے تحقیقی کام تک رسائی حاصل ہو۔
برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی میں ریاضی کی تاریخ کی پروفیسر جون بیرو گرین کہتی ہیں 'بیت الحکمت بنیادی طور پر بہت اہم ہے کیونکہ وہاں عرب سکالروں نے یونانی نظریات کے مقامی زبان میں ترجمے کیے جن کے نتیجے میں ریاضی کے بارے میں ہماری سمجھ اور علم کی بنیاد قائم ہوئی۔'
بیت الحکمت وہ لائبریری تھی جہاں نہ صرف ماضی کے عددی تصورات اور خیالات تک رسائی حاصل تھی بلکہ یہ جگہ سائنسی جدت کا گڑھ بھی تھی۔
یہ کہانی تقریباً ایک ہزار سال قبل محل میں قائم ایک لائبریری سے شروع ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زیادہ تر مغربی مسیحیت دانشوارانہ لحاظ سے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ یہ وہ کہانی ہے جس سے ریاضی کے بارے میں وہ خیالات بدل جانے چاہییں جو ہم نے یورپی نقطۂ نظر سے قائم کیے ہیں۔ یہ کہانی اسلامی دنیا کی سائنسی کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے اور بتاتی ہے کہ صدیوں پرانے عددی خزانے کی آج بھی اہمیت ہے۔








