محبوبہ مفتی: ’میری آواز دبانے کے لیے دباؤ اور ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عامر پیرزاده
- عہدہ, بی بی سی نیوز، سرینگر
’جب مجھے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا تھا تو میں نے سمجھا کہ یہ کچھ دن سے زیادہ نہیں چل پائے گی۔ مگر جب حکام نے مجھے ایک ایسے بانڈ پر دستخط کرنے کو کہا جو مجھے آرٹیکل 370 اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت پر بات کرنے سے روک سکتا ہے تو میں نے حکام کے سامنے اس پر آواز اُٹھائی۔‘
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک میری اہمیت کا تعلق ہے تو 14 ماہ تک نظربند رہنے کے باوجود میری آواز کو دبانے کے لیے ہر طرح کا دباؤ اور ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی پانچ اگست 2019 کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت ختم کر دینے کے بعد سے تقریباً 14 ماہ زیرِ حراست رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محبوبہ مفتی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے ان رہنماؤں میں سے ہیں جنھوں نے انڈیا کی جانب سے اگست میں کیے گئے فیصلے کی کُھل کر مخالفت کی تھی۔
محبوبہ مفتی نے بی بی سی کے ساتھ ای میل کے تبادلے میں کہا کہ ’آرٹیکل 370 اور 35 اے ریاست کی خصوصی حیثیت کی محافظ تھی، آئینی ضمانت تھی جو جموں و کشمیر کے انڈیا سے الحاق پر دی گئی تھی۔ ایک مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باوجود جموں و کشمیر نے دو قومی نظریے کو مسترد کیا اور خصوصی شرائط کے تحت سیکولر انڈیا میں شامل ہوئی۔ ان شرائط کی خلاف ورزی الحاق کے بنیادی اصول کے منافی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
محبوبہ مفتی کو ابتدائی طور پر سرینگر میں ہری نواس میں رکھا گیا تھا جو 1990 کی دہائی میں ایک تفتیشی مرکز ہوتا تھا۔ یہ جگہ اب ایک ریاستی گیسٹ ہاؤس ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے پہلے تین ہفتے اپنے گھر والوں سے کسی قسم کے رابطے کے بغیر گزارے اور مجھے بالکل نہیں پتہ تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ میں نے اپنا زیادہ تر وقت کتابیں پڑھنے میں گزارا۔‘
رواں برس فروری کے پہلے ہفتے میں محبوبہ مفتی پر سفاکانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ ’پی ایس اے‘ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جس کے مطابق کسی شخص کو بھی بغیر کسی مقدمے کے دو سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
محبوبہ مفتی کے ’پی ایس اے‘ کے کاغذات میں درج تھا کہ ’زیر تفتیش کو اُس کی خطرناک اور فریبی سازشوں اور غاصبانہ پہچان اور فطرت کی وجہ سے پیش کیا جا رہا ہے۔ عوام الناس اُنھیں ’ڈیڈیز گرل‘ اور ’کوٹا رانی‘ سمجھتے ہیں جس کی بنیاد کشمیر کی ایک قرون وسطیٰ کی ملکہ کی پہچان پر مبنی ہے جنھوں نے اقتدار میں آنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اپنائے جن میں مخالفین کو زہر دینے سے لے کر پونی یارڈِنگ (یعنی ممکنہ طور پر خنجر سے حملہ) شامل ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اُن پر لکھی گئی ’پی ایس اے‘ کی دستاویز مضحکہ خیز بھی ہے اور چکرا دینے والی بھی۔ وہ کہتی ہیں ’چونکہ یہ کہا جاتا تھا کہ میں اپنے والد کے بہت قریب تھی اس لیے ’ڈیڈیز گرل‘ کی اصطلاح کو بطور گندی گالی استعمال کیا گیا ہے۔ میں نے واقعی یہ سوچا کہ یہ کسی ہندی فلم کے سکرپٹ رائٹر نے لکھا ہے۔ ذاتی نوعیت کے اور ناگوار الفاظ جیسے سازشی اور کوٹا رانی کے حوالے بہت ہی نامعقول تھے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
محبوبہ مفتی نے گذشتہ سال اگست میں حراست میں لیے جانے سے پہلے ٹویٹ کی تھی کہ ’آرٹیکل 370 کے خاتمے سے محض الحاق کو منسوخ نہیں کیا گیا بلکہ اس سے جموں و کشمیر میں انڈیا کی حیثیت ایک قابض کی طرح بن گئی ہے۔‘
اب وہ وضاحت کرتی ہیں کہ ’انڈیا میں کسی بھی نامور وکیل سے پوچھیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ آئینی اور قانونی طور پر آرٹیکل 370 کی غیر قانونی منسوخی نے جموں و کشمیر کے انڈیا کے ساتھ تعلق پر سوالیہ نشان ڈال دیا ہے۔ میرے بیان کی بنیاد قانونی حقائق پر مبنی ہے لیکن بدقسمتی سے ہر چیز جو تکلیف دہ حقائق بیان کرے اُسے ملک دشمن کہا جاتا ہے۔‘
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حزب اختلاف کی بیشتر سیاسی جماعتیں آرٹیکل 370 کے تحفظ کا وعدہ کرتی تھیں، لیکن اب جبکہ یہ ختم کر دیا گیا ہے تو ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے یہ جماعتیں کشمیر کے اندر اپنی اہمیت کھو چکی ہیں۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا ایجنڈا ہمیشہ ہی حقِ حکمرانی کا رہا ہے، اب اس خطے کی خصوصی حیثیت کے انحطاط کے ساتھ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی پارٹی کے ایجنڈے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’صرف اس لیے کیونکہ بی جے پی آئین کو غارت کرنے پر تلی ہوئی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارا نظریہ اور ایجنڈا غلط تھا اور اسے تبدیل کرنا پڑے گا۔ جموں و کشمیر میں ایک پائیدار اور باعزت حل، جیسا کہ پی ڈی پی نے تصور کیا ہے، ہونا چاہیے جس میں خود حکمرانی، مذاکرات اور مفاہمت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘
اکتوبر میں انڈیا کی وفاقی حکومت نے اپنے زیر انتظام کشمیر کے پنچایت راج ایکٹ میں ترمیم کی جس کے نتیجے میں ہر ضلع میں کونسل تشکیل دی جائے گی۔ اس ترمیم کے بعد وہاں 20 ضلعی انتظامیہ یا ضلعی ترقیاتی کونسلوں (ڈی ڈی سی) میں پہلی بار بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی عمل کا احیا ہے جو پچھلے سال اگست سے رُک گیا تھا۔ لیکن محبوبہ مفتی کے خیال میں ایسا نہیں ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جموں و کشمیر نے انتخابات کے بہت سے دور دیکھے ہیں اور ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اس معاملے پر اس کا زیادہ اثر نہیں پڑا ہے۔ ڈی ڈی سی اصل مسئلے سے توجہ ہٹاتی ہے جس نے جموں و کشمیر کے لوگوں میں دھوکہ دیے جانے اور بیگانگی کا احساس پیدا کیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
پہلی بار مرکزی دھارے میں شامل حزب اختلاف کی سات سیاسی جماعتوں نے ڈی ڈی سی کے انتخابات ایک ساتھ لڑنے کے لیے پیپلز الائنس فار گپکر ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) نامی اتحاد قائم کیا ہے۔
اس اتحاد کا بنیادی مقصد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے لڑنا ہے۔ محبوبہ مفتی کی جماعت اس اتحاد کا حصہ ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ’اس وقت جب پرامن اختلاف رائے کے زیادہ تر دوسرے ذرائع دبا دیے گئے ہیں شاید پی اے جی ڈی وہ واحد محاذ ہے جو انڈین حکومت کے جموں و کشمیر کے لیے مکروہ منصوبوں کے خلاف پورے جوش و خروش سے لڑ رہا ہے۔ ہم نے بی جے پی اور اس کی پراکسیز کو دور رکھنے کے لیے ایک یونٹ کے طور پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
محبوبہ مفتی کی پارٹی کے کارکنوں نے متعدد مواقع پر مظاہرے کرنے کی کوشش کی ہے جیسے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی پہلی برسی کے موقع پر اور جنگلاتی زمینوں سے گجر بکر وال برادریوں کو بے دخل کرنے کے خلاف، لیکن ایسے زیادہ تر اجتماعات کو پولیس اور حکام نے ناکام بنا دیا۔










