صوتی حملے: ’کیوبا میں امریکی سفارتکاروں پر ممکنہ طور پر مائیکروویوز کا حملہ ہو سکتا ہے‘

The US embassy in Havana, Cuba

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ کو خدشہ ہے کہ ہوانا میں ان کے سٹاف کے خلاف سونک حملہ کیا گیا ہے

کیوبا میں امریکی عملے کو لاحق ہونے والی ایک پراسرار بیماری کے بارے میں ایک تازہ ترین امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بیماری جسے ’ہوانا سینڈروم‘ کا نام دیا گیا ہے کی ممکنہ وجہ مائیکروویو تابکاری ہو سکتی ہے۔

ہوانا سینڈروم کی نشانی میں یادداشت کا چلے جانا اور دیگر ذہنی پیچیدگیاں شامل ہیں۔

امریکہ کے نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی ایک رپورٹ میں توانائی کی لہروں کے اخراج کا کسی پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔

تاہم اس رپورٹ کے مطابق پچاس سال قبل سویت یونین نے ریڈیو فریکوئنسی انرجی سے حملہ کیا تھا۔

اس سے قبل اس بیماری نے امریکی سفارتی عملے کو 2016-17 میں ہوانا میں متاثر کیا تھا۔

اس وقت امریکی حکام نے اس خدشے کے اظہار کیا ہے کہ کیوبا میں ان کے سفارت خانے پر صوتی حملہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سفارت خانے کے 19 اہلکاروں کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی سفارتی اہلکاروں کی یونین کے مطابق کئی اہلکاروں کی قوت سماعت متاثر ہوئی ہے جبکہ کچھ کو دماغی تکلیف کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

صوتی حملے میں صوتی آلات سے نہ سنائی دینے والی صوتی لہریں نکالی جاتی ہیں جو بہرا پن کا باعث بنتی ہیں۔

کیوبا نے اس حملے میں کسی بھی طور پر ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیق کر رہے ہیں۔

امریکی سفارتی خانے کے اہلکاروں کے علاوہ کینیڈا کے بھی ایک شہری نے بھی صوتی حملے سے متاثر ہونے والی علامت کا ذکر کیا تھا۔

اس بیماری کو ہوانا سینڈروم کا نام دیا گیا ہے۔

'صوتی حملے کی صورت میں دماغی بیماری اور مستقل قوت سماعت ختم ہونے کا امکان ہوتا ہے اور اس کے علاوہ متاثرہ شخص کا توازن خراب ہو سکتا ہے اور شدید چکر آ سکتے ہیں۔'

اس بیماری سے متعلق عملے اور ان کے رشتے داروں نے یہ شکایت کی تھی کہ اس میں چکر آنا، توازن بگڑ جانا، سماعت کا چلے جانا، اضطراب اور یادداشت کا متاثر ہونا ہے۔

کیوبا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں امریکی سفارت خانہ

امریکہ نے کیوبا پر سونک حملوں کا الزام عائد کیا تھا جس کی کیوبا نے سختی سے تردید جاری کی۔ تاہم اس واقعے کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات میں کشیدگی واقع ہو گئی۔

گذشتہ سال امریکہ کی ایک تحقیق میں پتا چلا گیا تھا کہ اس بیماری نے متاثر ہونے والے امریکی سفارتی عملے کے دماغ کو نقصان پہنچایا تھا۔ کینیڈا نے بھی کیوبا میں اپنے عملے کی تعداد اس وقت کم کر دی جب اس کے 14 سفارتی عملے کے افراد اس طرح کی بیماری سے متاثر ہوئے۔

امریکہ میں اس بیماری سے متعلق طبعی ماہرین کی ایک ٹیم اور سائنسی ماہرین نے اس رپورٹ کی تیاری کے لیے حکومت کے 40 ملازمین میں اس بیماری کی علامات کا معائنہ کیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس مرض میں مبتلا ہونے والوں کو دیرپا اور اندر سے مسلسل کمزوری جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق ان امریکی سفارتکاروں میں بیماری کے جس قسم کی علامات ظاہر ہوئی ہیں ان کا تعلق پلسڈ ریڈیو فریکوئنسی انرجی کے اثرات کو ظاہر کرتی ہیں۔

گذشتہ پانچ دہائیوں میں شائع ہونے والے تحقیقاتی مقالے اور اس کے بدلے سویت اور مغربی ممالک کی طرف سے دیے جانے والے ثبوت بھی اس ممکنہ میکنزم کی طرف ہی اشارہ کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روس میں اس حوالے سے قابل قدر کام ہوا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ 'یوریشین کمیونسٹ ممالک‘ میں فوجی جوانوں کو غیر تھرمل تابکاری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکی سفارتکاروں کو صرف کیوبا میں ہی اس قسم کے غیر معمولی علامات کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

سنہ 2018 میں امریکہ نے چین سے بھی اپنے کئی سفارتکار واپس بلا لیے تھے جب چین کے تجارتی شہر گوانژو میں امریکی سفارتکاروں کو اس قسم کی علامات اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ تھا۔

ایک امریکی اہلکار میں معمولی دماغی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔

People apply for visas at the US consulate in Guangzhou, China

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچین میں بھی امریکی عملے نے اس قسم کے مرض کے بارے میں بتایا ہے

چین میں کیا ہوا تھا؟

امریکی سفارت خانے کے ترجمان جینی لی نے کہا تھا کہ ملازمین کو سال 2017 اور 2018 کے دوران گوانژو نامی شہر میں مختلف قسم کے جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد ان ملازمین کو واپس امریکہ بھیج دیا گیا تھا۔ امریکی سفارت خانے کو علم ہوا کہ ملازمین دماغ کی چوٹ سے متاثر ہوئے ہیں۔

لی کا کہنا تھا کہ ان علامات کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں اور چین میں کہیں اور سفارتی عملے کے علاوہ بھی ایسی صورتحال پیش نہیں آئی۔

لی کے بقول ’امریکی حکومت نے ان معاملات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور چین میں اپنے اہلکاروں کو مطلع کر دیا ہے۔

لی کا کہنا تھا ’ہم نے اپنے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں مشکوک آواز یا روشنی سے سامنا کرنا پڑا ہے، تو اس کی طرف جانے کی کوشش نہ کریں، لیکن اس جگہ پر جائیں جہاں کوئی آواز نہیں ہے۔‘

لی کا کہنا تھا کہ چین نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اس کی جانچ پڑتال کرے گا۔