گلوبل ٹیچر پرائز جیتنے والے رنجیت دیسالے نے 10 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم میں سے آدھی بانٹ دی

Ranjit Disale
،تصویر کا کیپشنرنجیت نے کہا کہ اساتذہ ہمیشہ اپنا علم بانٹتے ہیں اور اس لیے انھوں نے انعام کو بانٹنا ہے
    • مصنف, شان کوگلن
    • عہدہ, بی بی سی یوز

انڈیا کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے استاد نے اپنی دس لاکھ ڈالر کی انعامی رقم مقابلے میں حصہ لینے والے دیگر افراد کے ساتھ بانٹ لی ہے۔

رنجیت دیسالے نے لڑکیوں کی تعلیم میں بہتری لانے کی کوششیں کرنے پر اس سال کا ’گلوبل ٹیچر پرائز‘ دس لاکھ ڈالر جیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اساتذہ ’ہمیشہ دوسروں میں بانٹنے پر یقین رکھتے ہیں‘، اور اس لیے وہ مقابلے میں ٹاپ 10 میں آنے والے اساتذہ کے ساتھ انعام کی رقم بانٹ رہے ہیں۔

مغربی انڈین ریاست مہاراشٹرا کے ایک گاؤں پریتی وادی کے ضلع پاریشاد پرائمری سکول میں پڑھانے والے دیسالے کو 12 ہزار نامزدگیوں میں سے دنیا کا سب سے غیر معمولی استاد چنا گیا ہے۔

جیتنے والوں کا اعلان سٹیفن فرائی نے ایک آن لائن تقریب میں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

’تعلیم ایک پیدائشی حق ہے‘

32 سالہ دیسالے نے کہا کہ ’اس مشکل وقت میں، اساتذہ اپنی بہترین صلاحیت بروئے کار لاتے ہوئے کوشش کر رہے ہیں کہ ہر طالب علم کو تعلیم کے پیدائشی حق تک رسائی ہو۔‘

سٹیفن فرائی نے آن لائن انعام کا عالان کیا
،تصویر کا کیپشنسٹیفن فرائی نے آن لائن انعام کا عالان کیا

مقابلے کے ججوں نے دیسالے کے پسماندہ طبقے کی لڑکیوں کے سکول جانے اور ان کے اچھے نتائج حاصل کرنے کو یقینی بنانے کے کام کو سراہا۔ دوسری صورت میں وہ سکول نہ جاتیں اور بہت امکانات تھے کہ ان کی شادیاں جلدی کر دی جاتیں۔

وہ 83 ممالک کے طالب علموں کے لیے آن لائن سائنسی سبق بھی دیتے ہیں اور جنگ زدہ علاقوں میں نوجوان لڑکوں کے لیے ایک انٹرنیشنل پراجیکٹ بھی چلاتے ہیں۔

Ranjit Disale
،تصویر کا کیپشنرنجیت سنگھ لڑائی کے علاقوں میں نوجوانوں کے لیے ایک پراجیکٹ بھی چلاتے ہیں

یونیسکو کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل سٹیفانیا جیانینی نے کہا کہ ’کووڈ کی وبا نے دنیا بھر کے تعلیمی نظام کو ایک شدید جھٹکا دیا ہے۔۔۔ لیکن ان مشکل اوقات میں اساتذہ کا حصہ بہت فرق ڈال رہا ہے۔‘

یونیسکو اس انعامی مقابلے میں شراکت دار ہے۔

وارکی فاؤنڈیشن، جو اساتذہ کا یہ مقابلہ منعقد کرتی ہے، اس کے بانی سنی وارکی نے کہا کہ ’انعام بانٹنے سے آپ نے دنیا کو دینے کی اہمیت سکھائی ہے۔‘

’کووڈ ہیرو‘

دیسالے کے انعام کو تقسیم کرنے کے فیصلے کا مطلب ہے کہ ہر رنر اپ کو تقریباً 40 ہزار پاؤنڈ سے کچھ زیادہ ملے گا۔ ان رنر اپس کا تعلق اٹلی، برازیل، ویتنام، ملیشیا، نائجیریا، جنوبی افریقہ، امریکہ اور برطانیہ سے ہے۔

Jamie Frost
،تصویر کا کیپشنجیمی فروسٹ کی ویب سائٹ نے لاک ڈاؤن کے دوران بچوں کو حساب سیکھنے میں مدد دی ہے

سپیشل کووڈ ہیرو کا انعام برطانیہ کے جیمی فروسٹ کو دیا گیا جو ریاضی سکھانے کی ایک فری ویب سائٹ چلاتے ہیں۔

جیی فروسٹ لندن کے ایک نواحی علاقے کنگسٹن اپون ٹیمز کے ٹفن سکول میں پڑھاتے ہیں اور ڈاکٹر فروسٹ میتھس نامی ایک آن لائن پلیٹ فارم چلاتے ہیں، جس نے لاک ڈاؤن کے دوران بچوں کی گھروں میں تعلیم حاصل کرنے میں بڑی مدد کی ہے۔ انھیں ان کے اس کام کی وجہ سے سراہا گیا ہے۔

انھیں 34 ہزار پاؤنڈ کا کووڈ ہیرو پرائز دیا گیا ہے۔

ریاضی کے استاد نے خبردار کیا کہ عالمی وبا کی وجہ سے تعلیمی عدم مساوات بڑھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنا ہر وہ گھنٹہ جو میں نکال سکتا تھا دنیا بھر میں طالب علموں کے لیے فری آن لائن تعلیم میں مدد کے لیے مختص کیا جن کے لیے کلاس رومز بند ہو چکے تھے۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے فروسٹ اور جیتنے والے دوسرے اساتذہ کی تخلیقی صلاحیت اور ہنر مندی کی تعریف کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ میں آپ سے بہت مشکل اور دل توڑنے والے حالات میں بات کر رہا ہوں، لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہم عالمی وبا کے دوران دنیا کے اساتذہ کے بہت زیادہ حصے کو سلام پیش کرنے کے لیے وقت نکالیں۔‘

اگلے سال امریکی ایجوکیشنل ٹیکنالوجی فرم شیگ کے تعاون سے طالب علموں کے لیے انعام کا اعلان کیا جائے گا۔