ناگورنو قرہباخ کی لڑائی: آذربائیجان اور آرمینیا کی اقوام کی اپنے وطن کے لیے دی گئی قربانیاں

- مصنف, ریحان ڈیمیٹری
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
کوئی نہیں جانتا کہ جب سے ناگورنو قرہباخ میں تازہ ترین جنگ شروع ہوئی ہے، کتنے لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ روس کے صدر کے ایک حالیہ بیان کے مطابق اب تک تقریباً پانچ ہزار لوگ مر چکے ہیں، جن میں سپاہی اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔ ذیل میں ہم کچھ ایسے ہی افراد کی کہانیاں بیان کر رہے ہیں جو دونوں جانب سے لڑے لڑتے مارے گئے۔
’میرے لیے (اس بات کو قبول کرنا) مشکل ہے، لیکن مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹا کا خون ہماری مٹی کے لیے بہا۔‘ یہ کہنا تھا مشک ناز ہزیوا کا جو آذربائیجان کے قصبے کرادمیر سے مجھ سے فون پر بات کر رہی تھیں۔
24 سالہ ضیادان علی نے کپمیوٹر پرواگرمِنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی اور انھیں تاریخ کی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ انھیں شادی کی کوئی جلدی نہیں تھی۔ وہ انتظار کر رہے تھے کہ آئندہ چند ہفتوں میں ان کی فوجی سروس ختم ہو جائے گی، لیکن وہ جنگ شروع ہونے کے چند دن بعد ہی چل بسے۔
ضیادان اس وقت لڑائی میں مارے گئے جب وہ اور ان کے ساتھی طالش نامی گاؤں کو چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔


ضیادان کے گھرانے کا تعلق سلطانی نام کے گاؤں سے ہے جو آذربائیجان کے شمال میں جبرائیل کے علاقے میں واقع ہے۔ جب یہ علاقہ سنہ 1990 کے عشرے میں آرمینائی نسل کے لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا تو آذربائیجانی نسل کے دیگر لاکھوں لوگوں کی طرح ضیادان کے خاندان کو بھی اپنا آبائی گاؤں چھوڑنا پڑ گیا۔
ناگورنو قرہباخ کی اُس پہلی جنگ میں ضیادان کے والد نے بھی حصہ لیا تھا۔ اُس جنگ کے خاتمے پر جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا لیکن کسی امن معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی سطح پر ناگورنو قرہباخ کو آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن یہاں کا کنٹرول آرمینائی نسل کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔
ضیادان کی والدہ کہتی ہیں ’اگر آپ پانی اور مٹی کو ملاتے ہیں تو اس سے کیچڑ بنتا ہے، (لیکن) اگر آپ مٹی میں خون ملاتے ہیں تو مادر وطن بنتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
آذربائیجان اور آرمینیا کے تنازعہ میں نئی آگ 27 ستمبر کو بھڑکی تھی۔
آذربائیجان نے اپنی جانب ہونے والے جانی نقصان کی تفصیل نہیں بتائی لیکن ہمیں وہاں سے بہت سے جنازوں کی خبریں مل رہی ہیں اور فوجی قبرستانوں میں نئی قبروں کی تصاویر بھی دکھائی دیتی ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق آرمینیا کے 11 سو سے زیادہ سپاہی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں اکثریت ان جوان رنگروٹوں کی تھی جو سنہ 2000 کے بعد پیدا ہوئے تھے۔
دونوں جانب اب تک 130 سے زیادہ عام شہری مارے جا چکے ہیں۔
سلطانی کا شمار ان سو سے زیادہ دیہاتوں میں ہوتا ہے جہاں آرمینیا نے حال ہی میں قبضہ کیا ہے اور مشکِ ناز ہزیوا کہتی ہیں کہ آرمینیا سے یہ علاقہ واپس لینے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ فوجی کارروائی کی جائے۔
’ہم وہاں واپس جائیں گے۔ ہم اپنے گھر بنائیں گے، سکول بنائیں گے اور باغ اگائیں گے۔ایک طرف تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ میں نے اپنا بیٹا کھو دیا ہے، لیکن دوسری جانب مجھے بہت خوشی ہے کہ آخر کار وہ وقت آ گیا ہے جب ہم پناہ گزین نہیں رہیں گے۔‘

یہ مسلح تصادم ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک میں کورونا وائرس کی وبا زوروں پر ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ آرمینیا میں وائرس سے مرنے والے شہریوں کی نسبت جنگ میں مرنے والے سپاہیوں کے جنازے بہت زیادہ ہیں۔
تیس لاکھ آبادی کی اس چھوٹی قوم کے لیے، حالیہ لڑائی میں مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
19 سالہ سرگس ہاکوپیان ایک آرٹسٹ تھے جنھوں نے ابتدائی عمر سے بڑی اچھی تصویریں بنانا شروع کر دی تھیں اور وہ آگے چل کر اس میدان میں نام پیدا کر سکتے تھے۔ ان کے کزن سِڈ کو یاد ہے کہ سرگس نے تین سال کی عمر میں اپنی پہلی مچھلی میں رنگ بھرے تھے۔ سرگس کو جولائی 2019 میں فوج میں شامل کر لیا گیا تھا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد انھوں نے اپنی ماں کو کھو دیا جس سے انھیں شدید لگاؤ تھا۔

ان کے گھر والوں کو سرگس کی موت کی اطلاع 17 اکتوبر کو دی گئی تھی۔ سرگس کی لاش ابھی تک خاندان کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔
اُن کے کزن کا کہنا تھا کہ ’سرگس ایک تخلیقی روح کے مالک تھے۔ وہ گاتے بھی اچھا تھے اور شاعری بھی اچھی کرتے تھے۔ بہت سی لڑکیاں سرگس کی دوست تھیں اور وہ جہاں جاتے، ہر کوئی ان سے پیار کرتا۔‘
سرگس کے بچپن کے دوست انوش کچھارتین کے بقول ’سرگس کا خواب تھا کہ وہ ایک دن یریوان اکیڈمی آف فائن آرٹ میں داخلہ لے گا۔ کوئی بھی میرے دل میں سرگس کی جگہ نہیں لے سکتا۔ کبھی نہیں۔‘
آذربائیجان اور آرمینیا، دونوں کو اپنے اپنے جانی نقصان کا شدید غم ہے، تاہم آذربائیجان کی فوجی پیش قدمی کی وجہ سے ان کے عوام کا جذبہ بلند ہے اور لگتا ہے کہ آذربائیجان میں لوگوں کی خواہش ہے کہ جنگ جاری رہے۔
27 سالہ عزیزہ گاسانووا اپنے شوہر فریض گاسانوو کی موت کا سوگ منا رہی ہیں۔
’میں آخری مرتبہ انھیں دس اکتوبر کو ملی تھی۔ وہ جلدی میں تھے اور گھر صرف نہانے کے لیے آئے تھے، حتیٰ کہ انھوں نے کھانا بھی نہیں کھایا۔ انھوں نے چاکلیٹ کے صرف تین ٹکڑے اٹھائے۔ کہنے لگے میں بہت جلدی میں، انھوں نے بس بچوں کو پیار کیا اور نکل گئے۔‘
ان کی بیوہ کے بقول 34 سالہ فریض تکّلف میں رہتے تھے، مگر مہربان طبیعت کے مالک تھے۔ وہ 19 سال کی عمر میں فوج میں بھرتی ہوئے اور پھر ان کی خدمات قرہباخ کے مسئلے کے لیے مختص کر دی گئیں۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ یہ مسئلہ انھیں اپنے والد سے وراثت میں ملا ہے، لیکن اب یہ ان کی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ آذربائیجان وہ علاقے واپس لے جو اُس نے کھو دیے تھے۔

عزیزہ بتاتی ہیں کہ گیارہ اکتوبر کو فریض کی طرف سے فون آنا بند ہو گیا۔ اور پھر چند دن بعد عزیزہ کو معلوم ہوا کہ ان کے شوہر فضولی کے قصبے میں ہونے والی لڑائی میں مارے گئے ہیں اور پھر پانچ دن بعد فریض کی تدفین کر دی گئی۔
عزیزہ کا کہنا تھا کہ ’میری بیٹی کہتی ہے میرے ابو اب ایک فرشتہ بن گئے ہیں جو ہمیں جنت سے دیکھ رہا ہے۔ وہ میرے الفاظ دہراتی رہتی ہے۔ بچے ابھی نہیں سمجھتے کہ اب فریض ہمیشہ کے لیے چلے گئے ہیں۔‘
فریض کے گھر میں ہمیشہ آذربائیجان کا جھنڈا موجود ہوتا تھا اور اب عزیزہ کو امید ہے کہ ان کا چار سالہ بیٹا رسلان بھی ایک دن فوج میں بھرتی ہو گا اور جنرل بنے گا۔ ’میں اپنے بچوں کو آرمینیائی لوگوں سے نفرت سکھاؤں گی کیونکہ انھوں نے ہمارے بیٹوں کو مارا ہے۔ بے شمار عورتیں بیوہ ہو گئی ہیں، مائیں اپنے بیٹے کھو چکی ہیں۔ لیکن یہ ہماری زمین ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ علاقہ آذربائیجان کا ہے۔‘
آرمینیائی نسل کے لوگ سمجھتے ہیں کہ قرہباخ، جسے وہ ارتساکھ کہتے ہیں، ان کی مادر وطن ہے۔ یہ علاقہ ان کی قدیم مسیحی سلطنت کی سرحدوں میں شامل تھا۔ اور بہت سے آرمینیائی بھی قرہباخ کے لیے اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔
25 سالہ داوت ہوانیسن کو بچپن سے فوج میں جانے کا شوق تھا اور وہ فوجی وردی میں پوز بنا کر تصویریں بنواتے تھے۔ وہ دس اکتوبر کو ناگورنو قرہباخ کے جنوب مشرقی علاقے میں لڑائی میں مارے گئے۔

انھیں یاد کرتے ہوئے داوت کے کزن نیلائی پترو سیان کو ایک ایسا جوان یاد آتا ہے جو طوطے کی طرح گانے گاتا اور اپنے گھر والوں کے ساتھ مذاق کرتا رہتا تھا۔
’میں اسے ستمبر میں ملا تھا اور ہم اپنے گاؤں شاتین میں واقع دسیوں صدی کی ایک خانقاہ پر گئے تھے۔ داوت نے وہاں سے اپنی بہن کے لیے پھولوں والی کچھ ٹہنیاں اکٹھی کی تھیں۔ اسے قدرت سے بہت لگاؤ تھا۔ وہ ایک بہت اچھا دن تھا لیکن میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہو گی۔ میں چاہوں گا کہ آرمینیائی لوگ اور دنیا بھی یاد رکھے کہ داوت ایک ہیرو تھا اور پکا محب وطن۔‘
ناگورنو قرپباخ پر جنگ اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور کسی بھی جانب سے جنگ میں نرمی کے کوئی آثار نہیں دکھائی دیتے۔
اب تک تین مرتبہ جنگ بندی ہو کر ختم ہو چکی ہے اور آذربائیجان کی عسکری پیش قدمی جاری ہے۔ آذربائیجان نے اس علاقے کے ایک بڑے حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے جو آرمینیا کے کنٹرول میں تھا اور آرمینیا کے وزیر اعظم کا عزم ہے کہ وہ قرہباخ کی زمین کے ’آخری پتھر، آخری سینٹی میٹر اور ملی میٹر کے لیے لڑیں گے۔‘













