آذربائیجان، آرمینیا تنازع: امریکی ثالثی میں طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ پہلے دن ہی ناکام

آرمینیا

،تصویر کا ذریعہEPA

آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین ناگورنو قرہباخ تنازع سے متعلق امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا اور اس کا اطلاق پیر سے ہونا تھا۔ لیکن اسی روز اپنی نوعیت کا یہ تیسرا معاہدہ دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزی کے الزامات کے بعد ناکام ثابت ہوا ہے۔

آذربائیجان نے آرمینیا پر اس خطے کے ایک گاؤں پر گولہ باری کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ آرمینیا کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد آذربائیجان کے حکام نے اپنی متعدد فوجی پوزیشنز سے گولیاں چلا کر خلاف ورزیاں کیں۔

فیس بک پر ایک پوسٹ میں آرمینیا کے صدر نیکول پشنیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’جنگ بندی کے اصولوں پر سختی سے عمل کر رہا ہے۔‘

دوسری طرف آذربائیجان کے صدر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے جبکہ آرمینیا اپنے قبضے کو تحفظ فراہم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آرگنائزیشن فار سکیورٹی اور کوآپریشن اِن یورپ نامی اس تنظیم، جس نے دونوں ملکوں میں ثالثی کرائی، اس کی اگلی ملاقات جمعرات کو متوقع ہے جس میں صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سے قبل امریکہ کی ثالثی سے آرمینیا اور آذربائیجان نے ناگورنوقرہباخ کے علاقے میں ایک ماہ میں تیسری مرتبہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ طویل مذاکرات کے بعد طے پایا اور فائر بندی کا آغاز پیر کی صبح سے ہو گا۔

ناگورنو قرہباخ

،تصویر کا ذریعہReuters

رواں ماہ میں ایسے ہی دو اور فائر بندی کے معاہدے بھی کیے گئے تھے تاہم بعد میں دونوں ممالک کی جانب سے ان کی بھی خلاف ورزی کی گئی تھی۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان یہ لڑائی ناگورنوقرہباخ کے متنازع پہاڑی علاقے میں 27 ستمبر سے شروع ہوئی تاہم حالیہ دنوں میں اس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی ثالثی میں جنگ بندی معاہدہ

اتوار کے روز امریکہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں آرمینیا اور آذربائیجان کی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ یہ ’انسان دوست فائر بندی‘ پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے (4:00 جی ایم ٹی) عمل میں آئے گی۔

یہ اعلان امریکی ڈپٹی وزیرِ خارجہ سٹیفن بیگن، آرمینیا کے وزیرِ خارجہ زوہراب ناٹساکانیان اور ان آذری ہم منصب جیہن بائیراموو کے درمیان مشاورت کے بعد سامنے آیا۔

جمعہ کے روز دونوں ملکوں کے وزرا خارجہ نے واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقاتیں کی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام فریقین کو مبارک باد پیش کی ہے۔

پومپیو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تحفظ اور معاونت کے یورپی ادارے (او ایس سی ای) سے دیگر ثالث جمعرات کے روز ایک اجلاس میں خطے میں اس کشیدگی پر بحث کریں گے۔

اس سے قبل روس کی ثالثی میں ہونے والے دو فائر بندی کے معاہدے برقرار نہیں رہ سکے تھے۔

ناگورنوقرہباخ وہ علاقہ ہے جسے بین الاقوامی سطح پر آذربایجان کا ایک حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن وہاں آرمینیائی باشندوں کی اکثریت ہے اس لڑائی میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک چکے ہیں۔

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہTwitter/realDonaldTrump

اس علاقے سے شروع ہونے والی کشیدگی جلد ہی تیزی سے بڑے پیمانے پر کشیدگی کا باعث بنی اور قصبوں اور شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔ یہاں شیلنگ بھی کی گئی اور مبینہ طور پر پابندی کا سامنا کرنے والی کلسٹر ایمونیشن کا استعمال بھی کیا گیا۔

اب تک اس لڑائی کئی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور شیلنگ سے دونوں اطراف میں سویلینز ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

موجود لڑائی دہائیوں میں ہونے والی سب سے بڑی لڑائی ہے اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھیرایا ہے۔

پومپیو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آذربائیجان اور آرمینیا نے 1988 سے لے کر 1994 تک اس خطے پر جنگ کی تھی اور بالآخر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم اس پر باضابطہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔

خدشہ ہے کہ دونوں فریقین کے فوجیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن سرکاری طور پر دیے گئے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوئی ہے۔

گذشتہ سوموار کو آرمینیائی فوج نے مرنے والوں کی فہرست میں مزید 19 فوجیوں کا نام شامل کیا۔ اس کے ساتھ ہی اس جنگ میں آرمینیا کی جانب سے مرنے والے فوجیوں کی تعداد 729 ہوگئی ہے۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مطابق آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان ناگورنو قرہباخ کے تنازع پر حالیہ جھڑپوں کے دوران اب تک تقریباً پانچ ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔