صرف 22 رہائشیوں پر مشتمل یونانی جزیرہ جس سے موسمیاتی سائنسدانوں کو پیار ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بحری جہاز سے تو اینٹی کیتھیرا کا جزیرہ ایسے ہی لگتا ہے کہ کسی نے مٹھی بھر کے پتھر بحیرہ ایجیئن میں پھینک دیے ہوں۔ جیسے ہی ہم جون کی صبح 4:30 بجے بندرگاہ کے قریب پہنچے تو ماریا سیچلا نے کہا کہ ’180 ڈگری کے نیلے (رنگ) میں گم ہونے کے لیے تیار ہو جائیں۔‘
’او ہاں، ہمیشہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے کمرے کا دروازہ بند رہے، کیونکہ یہاں بکریاں بن بلائے گھروں میں جانا پسند کرتی ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
سیچلا اس دور دراز جگہ پر تحقیق کے لیے آتی ہیں۔ وہ پینہیلینک جیوفیزیکل آبزرویٹری آف اینٹی کیتھیرا (پینگیا) کے موسمیاتی سائنسدانوں میں سے ایک ہیں۔ ایک قدیم سپر برِ اعظم کے نام پر رکھا گیا یہ حوصلہ مندانہ منصوبہ پوری دنیا سے سائنسدانوں کو اس یونانی جزیرے پر مدعو کر رہا ہے تاکہ ایک عالمی سائنسی کمیونٹی تیار کی جائے جو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹ سکے۔ اس پراجیکٹ پر 2017 سے کام ہو رہا ہے۔
جیسے ہی ہم پوٹاموس کی دائرہ نما چھوٹی سی کھاڑی یا خلیج پر لنگر انداز ہوئے، جو جزیرے کی بندرگاہ بھی ہے، تو میں نے دیکھا کہ لوگ سفید رنگ کے گھروں کے آگے جمع ہیں۔ ایک اور سائنسدان اور پینگیا کی رکن ایلینی مارینو نے ہمیں بتایا کہ ’یہ پوٹاموس کا گاؤں ہے، جہاں زیادہ تر مقامی افراد رہتے ہیں۔ باقی جزیرے پر کوئی نہیں رہتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ’یہ سب لوگ صبح 4:30 بجے آنے والے لوگوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے جمع ہوئے ہیں؟‘
تو انھوں نے کہا کہ ’یہاں ہر جہاز کا آنا ایک طرح سے چھوٹا سا تہوار ہی ہے۔‘
کیونکہ سارا سال اس جزیرے پر صرف 22 لوگ ہی رہتے ہیں۔ لیکن شاید پینگیا کے اس جزیرے کو عالمی موسمیاتی سٹیشن بنانے کے بڑے منصوبے سے اس کا یہ دیہی پس منظر جلد ہی بدل جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ جزیرہ کریٹ اور کیتھیرا کے درمیان واقع ہے جہاں تین سمندر، ایجیئن، آئیونیئن اور کریٹن ملتے ہیں اور اسی وجہ سے اینٹی کیتھیرا کی اپنی ایک جغرافیائی اہمیت ہے۔
موسمیاتی سائنسدان اور نیشنل آبزرویٹری آف ایتھنز (این او اے) کے ڈائریکٹر آف ریسرچ وسالیز آمریدیس کہتے ہیں کہ ’اینٹیکیتھیرا سبھی برِ اعظموں کے ’ایئر ماسز کے چوراہے پر واقع ہے۔‘ ایئر ماسز ہوا کی وہ مقدار یا اجسام ہیں جن کے ایک طرح کے موسمی حالات ہوتے ہیں، جیسا کے ایک طرح کا درجہ حرارت اور ہوا میں نمی۔
اس کا مطلب ہے کہ سبھی برِ اعظموں سے ہوا کے بڑے پارسل، جن میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ جس جگہ سے آئے ہیں وہاں کی مخصوص درجہ حرارت اور ہوا میں نمی کی خصوصیات کو لے کر بالکل اینٹی کیتھرا کے اوپر ملیں، جو اس جزیرے کو، بقول آمریدیس ’میٹیورولوجیکل میلٹنگ پوٹ‘ یعنی ایسی جگہ بناتا ہے جہاں مختلف موسمیاتی نظام آپس میں مل جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ یہاں روشنی کی آلودگی نہیں ہے اس لیے سائنسدان آسمان کو آسانی سے اور صاف طریقے سے دیکھ سکتے ہیں۔
آمریدیس کہتے ہیں کہ یہاں آپ کو صحارا کی مٹی مل سکتی ہے، ماؤنٹ ایٹنا سے نکلنے والے پتھر اور کینیڈا میں جنگلی آگ کے کوئلے کی راکھ بھی۔
مثال کے طور پر 28 اگست 2018 کو پینگیا کے نظام نے راکھ کے بہت سارے ذرات کی شناخت کی جو ایک ہفتہ قبل لگنے والی کینیڈا کی جنگلی آگ کی وجہ سے زمین کی اوپر والی تہوں میں پہنچ گئی تھی اور 15 دن کے سفر کے بعد اینٹی کیتھیرا پر گری تھی۔
آمریدیس کہتے ہیں کہ یہ نہایت اہم ہے کیونکہ کوئی ایسی جگہ جہاں مختلف جگہوں سے آ کر مٹی گرتی ہے، ہمیں مٹی کی نقل و حرکت کے عمل کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے
وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہمیں انتہائی شدید موسم کے دوران قدرتی مظاہر کے متعلق سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور ہم اس کے متعلق پہلے ہی وارننگ کا نظام بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے موسم پر اثر کے بارے میں بہتر پیشن گوئی کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہStav Dimitropoulos
وہ کہتے ہیں کہ یہ جاننے کے لیے کہ کس طرح ایروسولز (ہوا میں معلق رہنے والے مٹی، دھویں اور دھند کے چھوٹے ذرات) بادل بناتے ہیں، جو کہ موسمیاتی تبدیلی کو سمجھنے اور روکنے میں اہم ہے، یہ جزیرہ ایک مثالی قدرتی لیبارٹری ہے۔
پینگیا کو حال ہی میں یورپی یونین سے ڈھائی کروڑ ڈالر کی فنڈنگ ملی ہے۔ ان کی ٹیم میں اس وقت 30 سائنسدان ہیں جن میں سے اکثر انجینیئر اور ماہر طبیعیات ہیں، جو اسے جزیرے پر سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی لگانے میں استعمال کر رہے ہیں۔ خصوصاً، اس وقت وہ ہوا میں مٹی کے ذرات کے متعلق حالیہ سائنسی اتفاقِ رائے کو چیلنج کر رہے ہیں۔
آمریدیس کہتے ہیں کہ ’روایتی علم کہتا ہے کہ مٹی کے ذرات ماحول میں بے ترتیبی سے پڑے رہتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ ذرات ہوا میں عمودی طور پر ترتیب میں رہتے ہیں۔‘ اگر پینگیا کی تھیوری درست ثابت ہوتی ہے، جس کے نتائج سائنسدان ایک سال میں توقع کر رہے ہیں، تو شاید موسمیاتی تبدیلی کے متعلق ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ بدل سکیں۔
آمریدیس کہتے ہیں کہ ’عمودی طور پر لٹکے ہوئے مٹی کے ذرات 10 سے 20 فیصد تک زیادہ تابکاری کو فضا میں سے نکلنے اور زمین پر آنے دیتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس اضافی تابکاری کی وجہ سے زمین گرم ہوتی رہتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابھی تو ایک ماہ میں یہاں پانچ سائنسدان آتے ہیں لیکن منصوبہ یہ ہے کہ گروہ کے بین الاقوامی تحقیق کار جزیرے پر خصوصی طور پر بنائے گئے سائنس ہاسٹلز میں زیادہ عرصے تک رہیں۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ اینٹی کیتھیرا کے 22 مربع کلومیٹر کے صرف ایک مربع کلومیٹر میں آبادی نظر آئی ہے۔
جزیرے میں نہ کوئی پیٹرول سٹیشن ہے، نہ ہی کپڑوں کا کوئی سٹور اور نہ ہی کوئی بیکری۔ یہاں صرف دو شراب خانے ہیں جن میں سے ایک چھوٹی مارکیٹ اور پوسٹ آفس کا کام بھی کرتا ہے۔ یہاں رہنے والے 22 مستقل رہائشیوں میں 65 سال سے کم عمر والے افراد کم ہیں۔
سنہ 2019 میں بزنس انسائیڈر اخبار کے مطابق مقامی یونانی آرتھوڈوکس چرچ نے اس جزیرے پر بسنے کے لیے لوگوں کو رقوم کی پیشکش کی تھی۔ لیکن مقامی افراد نے مجھے بتایا کہ اس خیال کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے سے پہلے ہی رد کر دیا گیا، لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا کیوں کیا گیا۔
مزید پڑھیے
ایک مقامی نے کہا کہ ’پینگیا ہمارے جزیرے کو بدل دے گا۔ مہربانی فرما کر ہمارے جزیرے کو خوبصورت بنانے کے لیے جو بھی بن پڑے کریں۔‘ ایک اور خاتون نے مجھے بتایا کہ وہ ان ماہرِ طبیعیات کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی ہیں۔ تقریباً سبھی افراد سائنسدانوں کے یہاں آنے کو اپنی ساحلوں پر ایک تازہ ہوا کا جھونکا سمجھ رہے ہیں۔
اینٹی کیتھیرا کے باسی اپنے شاندار ماضی پر بہت فخر کرتے ہیں۔ یہاں کے جدید باسی اپنا حسب نسب ان کریٹنز کے ساتھ بتاتے ہیں جنھوں نے عثمانی سلطنت کے یونان پر قبضے کے بعد کریٹ چھوڑ دیا تھا اور یہاں آ کر بس گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے علاوہ اینٹی کیتھیرا میکینیزم ایک زبردست قدیم یونانی مکینیکل آلہ ہے جو 100 قبلِ مسیح میں فلکیاتی مظاہر کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اسے سنہ 1901 میں ایک تباہ شدہ بحری جہاز سے نکالا گیا تھا جو پہلی صدی قبل مسیح میں غرق ہو گیا تھا (اسے ایتنھز کے گریک نیشنل میوزیم میں دیکھا جا سکتا ہے)۔
لہذا وہ جزیرہ جس پر ایک صدی پہلے دنیا کا سب سے پہلا کمپیوٹر غرق شدہ حالت میں ملا تھا، اب دنیا کے سب سے زیادہ روشن ذہنوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے اپنائیں۔
مجھے جزیرے کی زبردست وراثت کے متعلق اس وقت پتا چلا جب میں سیچلا اور مارینو اور سٹیشن کے آپریٹر سپیروز میٹالینوس اور لوآنا ماوروپولو کے ساتھ ایک دن اینٹی کیتھیرا کی کلائمیٹ چینج آبزرویٹری پر گیا۔
پوٹاموس کے جنوب میں چار کلو میٹر دور ایک ویران آبادی کیٹسانیویانا میں آبزرویٹری بنائی گئی ہے جہاں تک پہنچنے کے لیے آپ کو ایک آڑھے ترچھے خوبصورت راستے پر چلنا پڑتا ہے۔ یہ 193 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور یہاں سے سمندر کے صاف پانیوں کا خوبصورت نظارہ ملتا ہے۔
وہاں پہنچتے ہوئے مجھے بڑے سینگوں والی ایک بھیڑ نظر آئی جو گہری کھائی کے کنارے کھڑی تھی۔ جزیرے پر ایسی ہزاروں بھیڑیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب ہم بالآخر آبزرویٹری تک پہنچے تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ تو کوئی دوسری دنیا کی جگہ لگتی تھی۔ ایک بڑے اینٹینا کے ساتھ ایک بڑا سفید سرمئی کنٹینر تھا جس میں پولی ایکس ٹی رکھا گیا تھا، یہ وہ آلہ ہے جو لیزر کے استعمال سے مٹی کے چھوٹے ذرات کی حرکت کی پیمائش کرتا ہے جو ہوا میں معلق ہیں، اس کے علاوہ فضا میں پانی کے ذرات اور بادلوں کی بھی پیمائش کی جاتی ہے۔
یہ ڈیٹا این او اے کو تجزیے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ جب اس رات اندھیرا ہو گیا تو پولی ایکس ٹی نے مجھے حیران کر دیا۔ یہاں سے نکلتی ہوئی ایک سبز شعاع طلسماتی سیڑھی کی طرح جگمگاتی کہکشاؤں کی طرف جاتی ہوئی نظر آئی۔
پولی ٹی ایکس کے دائیں طرف ایک سنہری گولڈن فوٹو میٹر ہے، جو سورج کی سیدھ میں ہے اور جس کے ذریعے زمین پر پہنچنے والی برقی مقناطیسی تابکاری کی مقدار کی پیمائش کی جاتی ہے اور اس کے بعد یہ ڈیٹا ناسا کو بھیجا جاتا ہے۔
اس کے قریب ہی ایک دلکش سفید گنبد نما عمارت ہے جس میں پولاری میٹر رکھا گیا ہے جو آسمان میں سورج کے مدار پر نظر رکھتا ہے اور فضا میں مٹی کے ذرات کی سمت کا تعین کرتا ہے۔
اگلے تین برسوں میں پینگیا کا یہاں مزید 40 سائنسی آلات نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان میں کلاؤڈ ریڈار سسٹم ہو گا جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ کس طرح بادل سورج کی روشنی کو منعکس کرتے ہیں اور انفرا ریڈ تابکاری کو روکتے ہیں۔
اس کے علاوہ جدید سپیکٹرو میٹرز جو گرین ہاؤس گیسوں کی درست اور کثرت سے پیمائش کرتے ہیں، ڈوپلر ریڈار کے نظام بھی جو یہ پیمائش کرتے ہیں کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلی ہماری ہواؤں کی رفتار کم کر رہی ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب موسمیاتی سائنسدانوں نے اپنے آلات چیک کر لیے تو ہم سب پوٹاموس کی جانب روانہ ہو گئے۔ مارینو نے مجھے بتایا کہ ہمیں شراب خانے میں یہاں کے مقامی بزرگ کی تقریبات میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’وہاں موسیقار کریٹن آئیرا کا لائیو مظاہرہ کریں گے اور شاید ہمیں سیپورو (یونانی برانڈی) بھی مل جائے۔‘
ایسا لگتا ہے کہ وہ اور پینگیا کے دوسرے سائنسدان اس درشت اور باد زدہ جزیرے پر زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھ گئے ہیں۔ جلد ہی پوری دنیا سے آنے والے آب و ہوا کے سائنسدان صبح کو ناسا کے فلائٹ سینٹرز سے رابطے میں ہوں گے اور شام کو مقامی افراد کے ساتھ سیپورو پی رہے ہوں گے۔
اگرچہ یہ چھوٹا سا جزیرہ پینگیا سے بہت مختلف ہے، لیکن یہ سائنس کے افق کو پھیلانے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو کہ اب اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔












