مولان: ڈزنی فلم کی عکس بندی چینی صوبے سنکیانگ میں کرنے اور چینی حکومتی اداروں کا شکریہ ادا کرنے پر میڈیا کمپنی کو تنقید کا سامنا

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی انٹرٹینمنٹ کمپنی ڈزنی کو اپنی نئی فلم مولان کے کچھ حصوں کی شوٹنگ چین کے صوبے سنکیانگ میں کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
یہ وہی صوبہ ہے جس کے حوالے سے چینی حکومت پر الزام ہے کہ یہاں حکام نے انسانی حقوق کی سخت خلاف ورزی کرتے ہوئے لاکھوں شہریوں کو حراستی مراکز میں رکھا ہوا ہے۔
ڈزنی کی فلم مولان کو اسی صوبے میں عکس بند کیا گیا ہے۔ فلم کے آخری کریڈٹس میں سنکیانگ کی ایک حکومتی سکیورٹی ایجنسی کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ مختلف ذرائع کے مطابق چینی حکومت نے اس صوبے میں تقریباً دس لاکھ افراد،جن میں سے زیادہ تر اویغور مسلمان ہیں، کو حراست میں رکھا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ فلم مولان پہلے ہی ایک بائیکاٹ کے نشانے پر تھی کیونکہ اس فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والی ایک اداکارہ نے ہانگ کانگ میں مظاہرین کے خلاف حکومتی کارروائیوں کی حمایت کی تھی۔
ڈزنی نے اس حوالے سے اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں قائٹ حراستی مراکز سکیورٹی کے لیے اہم ہیں۔
مولان اس سال کی ڈزنی کی اہم ترین فلموں میں سے ایک ہے۔ یہ سنہ 1998 کی اینیمیٹڈ فلم کی ری میک ہے جس میں ایک لڑکی فوج میں اپنے والد کی جگہ لے لیتی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 1
مگر کچھ ایشیائی ممالک میں مداحوں نے اس فلم کے بائیکاٹ کا مطالبہ اُس وقت کیا جب چین میں پیدا ہونے والی اداکارہ لوئی یفی نے ہانگ کانگ کی پولیس کے حق میں ایک بیان دیا۔ ہانگ کانگ کی پولیس پر الزام ہے کہ انھوں نے جمہوریت کے حق میں آواز اٹھانے والے مظاہرین پر گذشتہ چند ماہ میں تشدد کیا ہے۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے اعتراض کیا کہ ڈزنی نے اس فلم کے آخر میں سنکیانگ کی متعدد حکومتی ایجنسیوں کا شکریہ ادا کیا ہے جن میں ترپان شہر کا ’پبلک سکیورٹی بیورو‘ اور ’سی پی سی سنکیانگ اویغور اٹانومی ریجن کمیٹی‘ شامل ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
چینی امور کے ماہر ایڈریئن زینز نے بی بی سی کو بتایا کہ ترپان شہر میں پبلک سکیورٹی بیورو ہی وہ کیمپ چلاتا ہے جہاں اویغور افراد کو حراست میں رکھا جاتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ دوسرا محکمہ، سی پی سی سنکیانگ، جس کا ڈزنی نے شکریہ ادا کیا ہے وہ اس خطے میں ریاستی پراپیگنڈا تیار کرتا ہے۔
حقوقِ انسانی کے اداروں کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں لاکھوں مسلمان سخت نگرانی والے کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
چینی حکومت کا مسلسل یہی دعویٰ رہا ہے کہ مغربی سنکیانگ میں موجود کیمپ رضاکارانہ طور پر تعلیم اور ٹریننگ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
تاہم وہاں سے ملنے والے ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے متعدد کو صرف اُن کے مذہب کے اظہار جیسے کہ نماز پڑھنے یا پردہ کرنے کی وجہ سے قید میں رکھا گیا ہے۔
بی بی سی نے ایسے ثبوت بھی دیکھے ہیں جن کے مطابق مسلمان والدین سے ان کے بچوں کو بھی جدا کیا گیا ہے۔ سنہ 2018 میں بی بی سی کی ایک تحقیق سے سنکیانگ کے صحرا میں سکیورٹی کمپاؤنڈز کی موجودگی کے شواہد بھی ملے تھے۔
ایڈریئن زینز کا کہنا ہے کہ ترپان میں ہی وہ پہلے حراستی مراکز قائم کیے گئے تھے جہاں خواتین کو پردہ کرنے یا مردوں کے داڑھی رکھنے کے ’جرم‘ میں حراست میں لیا گیا۔ پبلک سکیورٹی بیورو ان کیمپس کی تعمیر کی ذمہ دار ہے اور اُن کو چلانے کے لیے پولیس میں بھرتیاں بھی یہی بیورو کرتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 2
ایڈریئن زینز کے مطابق اویغور کیمپوں کے پہلے شواہد سنہ 2013 میں ترپان میں ملے تھے۔ اُس سال جون میں انھوں نے رپورٹ میں کہا تھا کہ مسلمان خواتین کی جبری نس بندی کی جا رہی ہے۔ چین ان الزمات سے انکار کرتا ہے۔
اویغور مسلمان اپنے خدوخال، زبان اور تہذیب میں چين کے اکثریتی نسل ہان چینیوں سے زیادہ وسطی ایشیائی لوگوں سے زیادہ نزدیک نظر آتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں لاکھوں ہان باشندوں کے سنکیانگ میں آباد ہونے سے نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ اویغوروں میں معاشی طور پر علیحدہ کیے جانے کے احساس میں اضافے کا موجب بنا ہے۔
ان ناراضگیوں کے سبب کبھی کبھی پُرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں بیجنگ کی جانب سے مزید سخت سکیورٹی ردعمل سامنے آيا ہے۔
اسی وجہ سے سنکیانگ کی دوسری مسلم اقلیتوں مثلاً قزاق آبادی اور کرغز افراد کی ساتھ اویغور بھی کیمپ میں ری ایجوکیشن کے لیے لائے جانے والی مہم کے لیے ہدف بن گئے ہیں۔












