دس دن کی تاخیر کے بعد چین اور امریکہ کے درمیان 'تعمیری' مذاکرات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور چین نے رواں ماہ تاخیر کے بعد اپنے تجارتی معاہدے کے نام نہاد 'فیز ون' یعنی پہلے مرحلے کے پر بات چیت کی ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے نے کہا کہ فریقین نے بات چیت میں پیشرفت کی ہے اور وہ معاہدے کے پابند ہیں۔
یہ بات چیت 15 اگست کو شروع ہونی تھی لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ملتوی کردیا تھا۔
رواں ماہ کے شروع میں ایک انتخابی مہم کے دوران تقریر میں مسٹر ٹرمپ نے کہا: 'میں ابھی چین سے بات نہیں کرنا چاہتا۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی تجارتی نمائندے نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ دونوں فریقوں نے املاک کے دانشورانہ حقوق اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
'فریقین نے ان اقدامات پر گفتگو کی جو چین نے اس معاہدے کے تحت دانشورانہ حقوق کے مزید تحفظ، مالیاتی اور زرعی شعبے میں امریکی کمپنیوں کے لیے رکاوٹیں دور کرنے اور ٹیکنالوجی کی جبری منتقلی روکنے کے لیے انتظامی تبدیلیاں لانے کے لیے کیے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہAFP
تجزیہ، کرشمہ واسوانی
بی بی سی کی نامہ نگار برائے ایشیائی کاروبار
اس کام کے لیے وقت اس سے زیادہ مناسب نہیں ہوسکتا۔
صرف 10 دن پہلے ہی امریکہ اور چین نے اچانک طے شدہ مذاکرات کو کالعدم قرار دیا جسے 'فیز ون' تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
التوا کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی لیکن یہ باتیں سامنے آئی ہیں کہ اس کا مقصد بیجنگ کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے اور امریکی اناج اور ديگر اجناس کی زیادہ خریداری کے لیے مزید وقت دینا تھا۔
چنانچہ اب جب کہ صدر ٹرمپ ایک ہفتے کے لیے ریپبلکن نیشنل کنونشن کے لیے جارہے ہیں تو دیرینہ حل طلب امور پر چین کے ساتھ معاہدہ کرنا اچھی سرخیاں بنائے گا اور اس موقعے پر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ صرف ٹرمپ انتظامیہ ہی بیجنگ کو بات چيت کی میز پر لا سکتی ہے۔
چینی کمپنیوں پر واشنگٹن کی جانب سے دباؤ بھی ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب صدر ٹرمپ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ'بیجنگ بائیڈن' کے برخلاف چین کے حوالے سے سخت ہیں۔ وہ اور ان کے حامی بیجنگ بائيڈن کی اصطلاح امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ اگر وہ منتخب ہوئے تو مسٹر ٹرمپ کے مقابلے میں چین پر زیادہ نرمی اختیار کریں گے۔
بیجنگ اس سارے سیاسی ڈرامے کو احتیاط کے ساتھ دیکھ رہا ہے جس میں وہ مرکزی کردار بن گیا ہے اور اس نے اپنے پتوں کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔
چین کی جانب سےایک مختصر بیان میں بس یہ کہا گیا ہے کہ 'فریقین نے تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کی طرف پیش قدمی کے لیے سازگار حالات اور ماحول پیدا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔'
یہ حکمتِ عملی قابلِ فہم بھی ہے، یعنی بیجنگ کو ایسی کوئی خوش فہمی نہیں ہے کہ واشنگٹن کی چین مخالف بیان بازی جلد ہی ختم ہوجائیں گی۔
نجی طور پر چینی کمپنیوں نے بھی مجھے بتایا ہے کہ آیا ٹرمپ ہوں کہ بائیڈن انتظامیہ ایک بات یقینی ہے کہ دباؤ کم نہیں ہوگا۔ یہ ایک بات ہے جس پر دونوں فریق متفق ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اعلانات
یہ اعلانات امریکی تجارتی نمائندے رابرٹ لائٹائزر اور وزیر خزانہ سٹیون منوشن نے واشنگٹن کے وقت کے مطابق سوموار کی شام چین کے نائب وزیر اعظم لیو ہی سے گفتگو کے بعد کیے۔
یہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے مابین باہمی تعاون کی ایک نادر علامت کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ رواں سال ڈیٹا سکیورٹی، کورونا وائرس وبائی مرض اور ہانگ کانگ سمیت دیگر امور پر ان کے تعلقات میں تناؤ بڑھتا نظر آیا ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران مسٹر ٹرمپ نے انتظامی حکمناموں کے ذریعے چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھایا ہے اور اس کے تحت ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
رواں ہفتے ٹک ٹاک کے مالک بائٹ ڈانس نے امریکی صدر کے فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کیا ہے جس میں یہ استدلال کیا گیا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے تحت نہیں بلکہ سیاسی وجہ سے لیا گیا ہے۔
پیر کے روز منعقد ہونے والی بات چیت دس روز قبل ہونی تھی۔ تاخیر کے بعد مسٹر ٹرمپ نے گذشتہ منگل کو ایریزونا میں انتخابی مہم کے ایک پروگرام کے دوران کہا کہ انھوں نے اس میٹنگ کو منسوخ کردیا ہے۔
تازہ ترین مذاکرات کے دوران ہر چیز مکمل طور پر آسانی سے نہیں ہوئی۔ امریکہ کو اپنا بیان درست کرنا پڑا کیونکہ اس نے مسٹر لیو کا پہلا نام ہی کے بجائے ہُو لکھا تھا اور چینی سوشل میڈیا نے فوری طور پر اس کی نشاندہی کی۔












