سعودی عرب: وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں

،تصویر کا ذریعہReuters
سعودی عرب نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتے جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ امن معاہدے پر دستخط نہیں کر دیتا۔
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود کا یہ بیان سعودی عرب کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے سے متعلق پہلا باضابطہ ردِعمل ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا پہلا خلیجی ملک بنا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ امن معاہدہ امریکہ کی ثالثی کے ذریعے ہوا ہے اور صدر ٹرمپ نے ہی سب سے پہلے ٹویٹ کر کے اس کا اعلان کیا تھا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو اور ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے گذشتہ جمعرات کو ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل مقبوضہ غرب اردن کے مزید علاقے اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے کو معطل کر دے گا۔
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 13 اگست کو ہونے والے معاہدے کو مختلف حلقوں کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس معاہدے کے بعد یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ ایسے ہی معاہدے کریں گے۔
تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مسئلہ فلسطین کے حل تک ایسے کسی بھی معاہدے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
جرمنی کے دارالحکومت برلن میں جرمن وزیرِ خارجہ ہائیکو ماس کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل پر تنقید کی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شہزادہ فیصل نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ غرب اردن کے علاقوں کے اسرائیل میں انضمام اور وہاں آبادکاری کی 'یکطرفہ پالیسیاں' دو ریاستی حل کے لیے 'نقصاندہ' اور 'ناجائز' ہیں۔
انھوں نے کہا کہ تعلقات قایم کرنے کی شرط یہ ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت 'فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کیا جائے‘ اور 'ایک مرتبہ ایسا ہوجائے تو پھر دیگر تمام چیزیں ممکن ہیں۔'
اسرائیل اور امارات کے درمیان معاہدے میں کن باتوں پر اتفاق ہوا ہے؟
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ 'مشرقِ وسطیٰ کے دو سب سے متحرک معاشروں اور جدید معیشتوں کے درمیان براہِ راست تعلقات کے قائم ہونے سے معاشی ترقی ہو گی، ٹیکنالوجی میں نت نئی ایجادات ہوں گی اور عوام کے آپس میں تعلقات بہتر ہوں گے جس سے خطہ بدل جائے گا۔'
اس کے علاوہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مجوزہ امن منصوبے 'ویژن فار پیس' میں متعین کردہ علاقوں پر اپنی خود مختاری کا دعویٰ کرنا بھی روک دے گا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اس منصوبے میں اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں یہودی بستیوں اور سٹریٹجک اعتبار سے اہم وادی اردن کے اسرائیل میں انضمام کے اسرائیلی منصوبے کی حمایت کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
فلسطینیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام ان کی آزاد ریاست کی امیدیں ختم کر دے گا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگا۔
مشترکہ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل 'اب دیگر عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات وسیع کرنے پر غور کرے گا' اور متحدہ عرب امارات اور امریکہ اس مقصد کے حصول کے لیے کام کریں گے۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل 'مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک سٹریٹجک ایجنڈا' لانچ کرنے کے لیے بھی امریکہ کے ساتھ کام کریں گے۔ تینوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ 'خطے میں خطرات اور مواقع کے بارے میں مشترکہ نظریہ رکھتے ہیں، اور سفارتی تعلقات، زیادہ معاشی تعاون اور قریبی دفاعی تعلقات کے ذریعے استحکام کو فروغ دینے کا بھی مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔'
فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ 'غداری' ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات فلسطین سے اپنا سفیر بھی واپس بلوا رہا ہے۔








