میڈیلین مکین: 13 سال سے لاپتہ لاپتہ بچی کے کیس میں نئے ملزم کی نشاندہی

،تصویر کا ذریعہPA Media
پرتگال میں 13 سال قبل لاپتہ ہونے والی برطانوی بچی میڈیلین مکین کے مقدمے میں پولیس کو جرمنی میں ایک مشتبہ ملزم کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔
برطانیہ کی یہ بچی 2007 میں پرتگال کے ایک ساحل سمندر کے قریب واقع ہوٹل سے لاپتہ ہوگئی تھی اب 13 سال بعد جرمنی کی پولیس نے کچھ نئے شواہد کی مدد سے ایک اور مبینہ ملزم کی نشاندہی کی ہے۔
یہ 43 سالہ جرمن شخص جنسی جرم کے الزام میں اس وقت زیر حراست ہے۔ اس شخص نے انہی تاریخوں میں کیمپنگ وین میں پرتگال کا سفر کیا تھا جب لاپتہ ہونے والی تین سالہ بچی وہاں اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں منا رہی تھی۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق یہ شخص اس وقت اور اس جگہ پر تھا جہاں بچی کو آخری بار دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
برطانوی حکام اب وین اور ایک اور گاڑی کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں جو مشتبہ شخص نے استعمال کی تھیں اور وہ لڑکی کے لاپتہ ہونے کے ایک دن بعد اسے کسی اور نام پر منتقل کردیا گیا تھا۔
انکوائری کی قیادت کرنے والے برطانوی تفتیش کار مارک کرانویل کا کہنا تھا،’کوئی ہے جو اس بارے میں بہت کچھ جانتا ہے جتنا بتایا گیا اس سے کہیں زیادہ۔‘
ان کے مطابق، پولیس مکین کو ’لاپتہ‘ سمجھ کر تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی قطعی ثبوت نہیں ہے کہ آیا وہ زندہ ہے یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہMET POLICE HANDOUT

،تصویر کا ذریعہMET POLICE HANDOUT
تاہم جرمنی کے تفتیش کاروں نے تلاش کے اس مقدمے کو ’قتل کی تحقیقات‘ کے طور پر درجہ بند کیا ہے۔
سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا تھا کہ انہیں مشتبہ شخص کے بارے میں جرمن حکام بتایا کیونکہ یہ شخص اپنے ملک میں زیر حراست ہے۔
ملزم کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
برطانوی پولیس نے بتایا کہ وہ شخص جو ایک دوسرے مقدمے میں زیر حراست تھا اور سزا یافتہ تھا، لیکن اس نے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔
تفتیش کار کرانویل کا کہنا تھا کہ ’یہ قیدی جو اس وقت 30 سال کا تھا ، 1995 اور 2007 کے درمیان پرتگال کے انتہائی جنوب میں واقع الگارو سے وہاں گیا اور اپنے موٹر ہوم میں سفر کیا۔ ‘
حکام کا خیال ہے کہ مشتبہ شخص پرایا ڈی لوز کے اس علاقے میں تھا، جہاں مکین کا خاندان اس وقت رہائش پذیر تھا جب وہ لاپتہ ہوئی۔‘

،تصویر کا ذریعہPA Media
مبینہ طور پر اس شخص کو وہاں ایک فون کال موصول ہوئی جو تقریبا 30 منٹ تک جاری رہی۔
پولیس نے مشتبہ شخص کے فون نمبر اور جس نمبر پر اس نے ڈائل کیا اس کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں کوئی بھی معلومات تفتیش کے لیے ’اہم‘ ثابت ہوسکتی ہیں۔
پولیس کے مطابق کہ مشتبہ شخص ابتدائی طور پر ان 600 افراد میں سے تھا جنہیں آپریشن گرینج کے دوران شامل تفتیش کیا گیا تھا، تاہم ابتدائی طور پر اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ بعد میں 2017 میں، اس کے خلاف نئے شواہد سامنے آئے۔








