جارج فلائیڈ کی ہلاکت: کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریاستوں میں فوج کو تعینات کر سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جیک ہارٹن
- عہدہ, بی بی سی ریالٹی چیک
امریکہ میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر احتجاج کا سلسلہ نہ تھما تو وہ وفاقی افوج کو ریاستوں میں بھیج کر اس افراتفری کو کچل دیں گے۔
بدھ کو امریکہ کے سیکرٹری دفاع نے ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے فوج بھیجنے کی مخالفت کی ہے۔
اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ریاستی اور شہری حکام اس مسئلے کا حل تلاش نہ کر سکے تو وہ وہاں فوج کو بھیج کر صورتحال کو ٹھیک کر دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ ریاستوں کے گورنروں نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے کہ متعلقہ ریاست کے چاہے بغیر وہ وفاقی افواج کو وہاں تعینات کر سکیں۔
کیا امریکی صدر ریاستوں میں فوج تعینات کر سکتا ہے؟
اس کا مختصر جواب ہے: ہاں صدر ایسا کر سکتے ہیں۔
در حقیقت پہلے ہی ہزاروں نیشنل گارڈز امریکہ کی بیس ریاستوں میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔ نیشنل گارڈز امریکہ کی افواج کی ریزرو فورس ہے۔
نیشنل گارڈز پہلے ہی 20 ریاستوں میں ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے مختلف شہروں میں تعینات ہیں۔ البتہ نیشنل گارڈز کو ریاستی حکام کی درخواست پر وہاں بھیجا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انیسویں صدی میں بننے والے ایک قانون کی روشنی میں صدرِ امریکہ، متعلقہ ریاست کے حکام کی درخواست کے بغیر بھی وفاقی افواج کو ریاست میں تعینات کرنے کا مجاز ہے۔
1809 میں منظور ہونے والے 'انسریکشن ایکٹ' امریکی صدر کو یہ قانونی اختیار فراہم کرتا ہے کہ اگر وہ حالات کا جائزہ لے کر یہ رائے قائم کرے کہ ریاست میں امریکی قوانین کا نفاد ناممکن ہو گیا ہے یا شہریوں کے حقوق محفوظ نہیں ہیں، تو وہ متعلقہ ریاست کی درخواست کے بغیر بھی وفاقی افواج کو اس ریاست میں تعینات کر سکتا ہے۔
انسریکشن ایکٹ کی منظوری کا مقصد ' باغی انڈینز' کی شہروں پر چڑھائی کو روکنے کے لیے ملیشیا کو تعینات کرنا تھا لیکن بعد ازاں قانون میں تبدیلی کر کے مقامی شورش کو روکنے کے لیے امریکی فوج کی تعیناتی کو بھی ممکن بنا دیا گیا۔
اس کے بعد 1878 میں ایک اور قانون منظور کیا گیا جس کے تحت اگر کسی مقامی جھگڑے میں وفاقی افواج کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئے، تو اس کے لیے کانگریس کی منظوری چاہیے ہوتی ہے۔
البتہ ایک ماہر قانون نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انسریکشن ایکٹ کے تحت صدر کے پاس قانونی اختیار موجود ہے کہ وہ کسی بھی ریاست میں فوج کو تعینات کر سکے۔
صدر سے توقع کی جاتی ہے کہ اس کے پاس ریاست میں وفاقی افواج کی تعیناتی کا قانونی جواز ہوگا۔
یونیورسٹی آف ٹیکساس کے لا پروفیسر رابرٹ چیزنی کے مطابق:' بنیادی نکتہ یہ ہے کہ صدر کو کسی ریاست میں وفاقی افواج کی تعیناتی کے لیے رائے قائم کرتے ہوئے، ریاست کے گورنر کی درخواست کی ضرورت نہیں ہے۔
کیا ماضی میں اس قانون کا استعمال ہوا ہے؟
کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق انسریکشن ایکٹ ماضی میں درجنوں بار استعمال ہو چکا ہے۔ ہاں البتہ پچھلے تین عشروں میں اس کا استعمال نہیں ہوا ہے۔ آخری بار 1992 میں جارج ایچ ڈبلیو بش نے لاس اینجلس میں ہونے والے نسلی فسادات کو روکنے کے لیے اسی قانون کے تحت وفاقی افواج کو تعینات کیا تھا۔
پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں سول رائٹس کی تحریک کے دوران، ریاستوں کے گورنروں کی منشا کے برخلاف اس قانون کے تحت وفاقی افواج کو ریاستوں میں تعینات کیا جاتا رہا ہے۔
صدر آئزن ہاور نے 1957 میں آرکنساس میں ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے جب فوج کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تو ریاست کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی تھی۔
ساٹھ کی دہائی کے بعد اس قانون کو کبھی کبھار ہی استعمال کیا گیا۔
2006 میں قطرینہ طوفان سے ہونے والی تباہی کے بعد کانگریس نے قانون میں ترمیم کی منظوری دی تھی جس کا مقصد ایسی آفات میں وفاقی افواج کی مدد حاصل کرنے کو سہل بنایا گیا تھا۔ لیکن جب ریاستوں کے گورنروں نے اس قانون پر اپنے تحفظات وفاقی حکومت کے سامنے رکھے تو قانون میں ترامیم کو ختم کر دیا گیا تھا۔








