سعودی صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجے چنگیز نے ان کے خاندان کی معافی کو رد کر دیا

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی میں قتل کیے گئے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجے چنگیز نے کہا ہے کہ کسی کو بھی ان کے قاتلوں کو معاف کرنے کا حق نہیں ہے۔
خدیجے چنگیز کا یہ بیان خاشقجی کے بیٹے صالح خاشقجی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کے خاندان نے اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کر دیا ہے۔
سعودی حکومت کے ناقد خاشقجی کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر 2018 میں قتل کیا گیا تھا۔
سعودی حکام اس بات پر مصر ہیں کہ جمال خاشقجی کا قتل سعودی ایجنٹوں کی 'روگ' یعنی بلااجازت باغیانہ کارروائی تھی۔ اس موقف کو عالمی سطح پر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
سعودی موقف پر سوال اُٹھانے والوں میں کچھ خفیہ ایجنسیاں اور اقوام متحدہ بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خاشقجی کی منگیتر کیا کہتی ہیں؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جمعے کو خدیجے چنگیز نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ جمال خاشقجی بین الاقوامی علامت بن گئے تھے جنہیں سراہا گیا اور پیار ملا۔
خدیجے چنگیز نے مزید یہ بھی کہا کہ 'جمال کا قتل اپنے ملک کے قونصل خانے میں ہوا جہاں وہ ہماری شادی کے لیے درکار دستاویزات حاصل کرنے گئے تھے۔ قاتل سعودیہ سے یہ ارادہ کر کے آئے تھے کہ انہیں بہلا پھسلا کر گھات لگا کر مار ڈالیں گے۔'
خاشقجی کے بیٹے نے کیا کہا؟

،تصویر کا ذریعہ@salahkhashoggi
اس سے پہلے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بڑے بیٹے صالح خاشقجی نے کہا تھا کہ ان کے خاندان نے اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کر دیا ہے۔
جمعے کے روز ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں صالح خاشقجی نے لکھا 'بابرکت مہینے (رمضان) کی اس بابرکت رات کو ہم نے خدا کا قول یاد کیا کہ اگر ایک انسان معاف کرتا ہے اور مفاہمت کرتا ہے تو اس کا اجر اسے اللہ دیتا ہے۔'
انھوں نے مزید لکھا: 'اس لیے ہم، شہید جمال خاشقجی کے بیٹے اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کیا اور ہم خدا سے اس کا اجر مانگتے ہیں۔'
اسلامی قانون کے تحت متاثرہ افراد کے اہل خانہ کی طرف سے معافی کی روشنی میں سزائے موت تبدیل کی جاسکتی ہے ، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا اس معاملے میں اس کا اطلاق ہوگا یا نہیں۔
صالح خاشقجی اس سے قبل ایسے بیانات جاری کرچکے ہیں جن میں انھوں نے سعودی تحقیقات پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور اس کی حمایت کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اس سے قبل وہ سعودی عرب کے 'مخالفین اور دشمنوں' پر بھی تنقید کرچکے ہیں جنہوں نے ان کے بقول ان کے والد کی موت کو ملک کی قیادت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔
پچھلے سال ، واشنگٹن پوسٹ نے یہ خبر دی شائع کی تھی کہ جمال خاشقجی کے بچوں نے اپنے والد کے قتل کے معاوضے کے طور پر گھر اور ماہانہ رقم وصول کی ہے۔
اخبار کے مطابق جمال خاشقجی کے بچوں میں سے صرف ان کے بڑے بیٹے صالح کا سعودی عرب میں اپنی رہائش جاری رکھنے کا ارادہ تھا۔
جمال خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
جمال خاشقجی دو ہزار سترہ میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر کے امریکہ چلے گئے تھے۔ انہیں دو اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنی منگیتر کے ساتھ اپنی دوسری شادی سے پہلے ضروری کاغذی کارروائی کے لیے گئے تھے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جب خدیجے چنگیز سفارت خانے کے باہر انتظار کر رہی تھیں تو اندر جمال خاشقجی کا قتل کر کے ان کے جسم کے ٹکڑے کیے جا رہے تھے۔ خاشقجی کی باقیات کبھی نہیں ملیں۔
سعودی حکام نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ وہ عمارت سے زندہ نکل گئے تھے اور ان کی گمشدگی کے بعد کئی بار یہ بیان بدلا۔
جمال خاشقجی اپنی موت سے قبل واشنگٹن پوسٹ اخبار کے لیے لکھتے تھے اور امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔
جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے بارے میں بدلتے بیانات پیش کرنے کے بعد، بالآخر سعودی حکام نے اعتراف کیا تھا کہ خاشقجی ایک ایسے آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے تھے جس کا مقصد انہیں ملک میں واپس لانا تھا۔
دسمبر 2019 میں ایک عدالت نے پانچ نامعلوم افراد کو ریاض میں ایک خفیہ مقدمے کی سماعت کے بعد اس قتل میں ان کے کردار پر سزائے موت سنائی تھی۔
جمال خاشقجی کیس پر کام کرنے والی اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایگنس کیلامارڈ نے سعودی مقدمے کی سماعت کو 'انصاف کے منافی' قرار دیا اور آزادانہ تحقیقات کی اپیل کی تھی۔
انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس قتل کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی تفتیش کی جائے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اتنے شواہد موجود ہیں کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اعلیٰ عہدوں پر فائز دیگر سعودی افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔
سعودی ولی عہد نے اس واقعے سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا تھا تاہم انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کے رہنما کی حیثیت سے وہ اس کی 'پوری ذمہ داری قبول' کرتے ہیں خاص طور پر اس لیے کیونکہ یہ جرم ایسے افراد سے مرتکب ہوا جو سعودی حکومت کے لیے کام کرتے تھے۔











