کورونا وائرس: بیرون ملک مقیم تارکین وطن کو گھر پیسے بھیجنے میں کن مشکلات کا سامنا ہے؟

سمیتھا گیریش اپنے شوہر اور بیٹے کے ہمراہ

،تصویر کا ذریعہSmitha Girish

،تصویر کا کیپشنسمیتھا گیریش اپنے شوہر اور بیٹے کے ہمراہ
    • مصنف, فرے لنڈزے
    • عہدہ, بزنس رپورٹر، بی بی سی ورلڈ سروس

بیرون ممالک سے ترسیلِ زر یعنی بھیجے گئے پیسے دنیا بھر کے لاکھوں خاندانوں کے لیے ’زندگی رواں دواں رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ‘ ہے۔

لیکن کورونا وائرس کی وبا نے تارکین وطن کے لیے ملازمت جاری رکھنے اور اپنی اجرت کو گھر بھیجنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔ اس لیے ’زندگی رواں دواں رکھنے کا یہ بڑا ذریعہ‘ اب کمزور پڑ رہا ہے۔

سمیتھا گیریش اپنے کمسن بیٹے ایشان کے ساتھ انڈیا کی جنوب مغربی ریاست کیرالہ میں رہتی ہیں۔

ان کے شوہر متحدہ عرب امارات میں دبئی میں رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک وہ سیلز انجینیئر کے طور پر کام کر رہے تھے لیکن کورونا کی وجہ سے وہ بیروزگار ہو کر دبئی میں اپنی رہائش تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

سمیتھا کہتی ہیں کہ ’گذشتہ ماہ سے وہ اپنے فلیٹ میں بے کار بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی نئی ملازمت کو جوائن نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنے بینک سے اپنا پیسہ نکال سکتے ہیں۔ یہ بہت مشکل ہے کیونکہ انھیں ہمارے (انڈیا میں) فلیٹ کے لیے کافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔‘

سمیتھا کو جو پیسے ان کے شوہر ہر ماہ بھیجتے تھے وہی ان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ تھے۔

اگرچہ سمیتھا بذاتِ خود پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں لیکن انھیں اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے گھر میں ہی رہنا پڑتا ہے۔ ان کا بیٹا آٹزم نامی بیماری میں مبتلا ہے۔ اب کیرالہ میں بہت سے دیگر لوگوں کی طرح انھیں بھی کم آمدنی پر گزر بسر کرنا پڑے گا۔

کورونا بینر
لائن

انھوں نے کہا کہ ’ہم سب مایوس ہیں۔ یہ بہت مشکل وقت ہے۔‘ مگر سمیتھا کی صورتحال کوئی غیر معمولی نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق رشتہ داروں کے ذریعہ گھر بھیجے جانے والے پیسے سے 80 کروڑ افراد فائدہ اٹھاتے ہیں۔

گذشتہ چند دہائیوں میں ترقی یافتہ ممالک سے ترقی پذیر ممالک کی طرف بھیجی جانے والی رقم میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے اور سنہ 2019 میں اس رقم کا حجم 554 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جو مشترکہ عالمی غیر ملکی امداد کے بجٹ سے تین گنا زیادہ ہے۔

مائیکل کلیمینس

،تصویر کا ذریعہMichael Clemens

،تصویر کا کیپشنمائیکل کلیمینس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی امداد کے برعکس ترسیلات زر کے پیسے براہ راست غریب خاندانوں کی جیب میں جاتے ہیں

واشنگٹن ڈی سی میں سینٹر فار گلوبل ڈویلپمنٹ کے مائیکل کلیمینس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی امداد کے برعکس ترسیلات زر کے پیسے براہ راست غریب خاندانوں کی جیب میں جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے لاکھوں کنبوں کے لیے بیرون ممالک سے بھیجے جانے والے پیسے ’لائف لائن‘ ہیں اور یہ غربت کو کم کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔

اس کا تعلق صرف خاندانوں کو زندہ رکھنے کے لیے نہیں ہے۔ مسٹر کلیمینس کا کہنا ہے کہ لوگ ترسیلات زر کا استعمال حفظان صحت، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال جیسی طویل المیعاد سرمایہ کاری میں کرتے ہیں جس سے ان کی زندگی ’زیادہ صحت مند اور خوشحال بنتی ہے اور معاشی طور منفعت بخش ہوتی ہے۔‘

لیکن رواں سال بہت سے خاندان ایسی سرمایہ کاری نہیں کرسکیں گے۔

ورلڈ بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ سنہ 2020 میں کورونا وائرس کے اثرات کی وجہ سے عالمی ترسیل زر میں تقریبا 20 فیصد کمی واقع ہوکر یہ رقم 445 ارب ڈالر رہ جائے گی۔

عالمی بینک کے ماہر معاشیات دلیپ رتھا کہتے ہیں کہ اس قدر کمی ’تاریخ میں پہلی بار دیکھی جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بینک نے اس سے قبل ترسیلات زر میں صرف دو بار کمی دیکھی ہے ایک بار سنہ 2008 میں عالمی مالیاتی بحران کے بعد پانچ فیصد کی کمی دیکھی گئی تھی جبکہ سنہ 2016 میں بھی چھوٹے پیمانے پر کمی نظر آئی تھی۔

کورونا وائرس نے متعدد طریقوں سے ترسیلات زر کو متاثر کیا ہے۔

سمیتھا اور ان کے شوہر کی طرح بہت سے معاملات میں اس کی وجہ سے تارکین وطن مزدور کام کرنے اور پیسے گھر بھیجنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ دوسری صورتوں میں مسئلہ رسائی میں دقت کے سبب ہے کیونکہ لوگ لاک ڈاؤن کے سبب پیسے منتقل کرنے والوں یا ان ذرائع تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔

آرتھر بیئرے

،تصویر کا ذریعہArthur Beare

،تصویر کا کیپشنآرتھر بیئرے

آرتھر بیئرے مغربی افریقی ملک لائبیریا میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 27 مارچ سے بینکوں سے پیسہ نکالنا اور منتقلی کی دکانوں تک جانا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے۔

’اگر آپ وہاں جلدی نہیں جاتے ہیں تو وہ آپ کو وہاں سے جانے کے لیے کہتے ہیں۔ اور اگر آپ مشکل کے بعد بینک میں داخل ہو بھی جاتے تو بھی وہاں آپ کو گھنٹوں لگتے ہیں۔ اگر آپ صبح سویرے چلے جاتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ بینک میں صبح دس بجے تک داخل ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن اس کے باوجود دو تین بجے سے پہلے تک آپ کو پیسے نہیں مل پائیں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں ہنگامی صورتحال کی وجہ سے ترسیل زر نہ صرف گزر بسر کے لیے بلکہ قرنطینہ میں رہنے کے لیے بھی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

’آپ کے گھر پر آپ کے اہلخانہ ہیں، بھائی بہنیں سکول نہیں جا رہے ہیں اور وہ آپ پر انحصار کر رہے ہیں کہ آپ ان کی مدد کریں۔ جب لوگ بھوکے ہوں گے، کنبہ کے افراد بھوکے ہوں گے تو وہ باہر جانے کی کوشش کریں گے اور اس سے ان کو انفیکشن ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں اس قسم کے خطرات ہیں۔‘

برطانیہ میں رہنے والے چندر سیکا کو اپنے کنبے کو رقم بھیجنے میں عجیب قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جنوبی انڈیا کی ریاست تلنگانہ کے حیدرآباد سے آئی ٹی کے کنسلٹینٹ چندرا گذشتہ 18 سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور باقاعدگی سے انڈیا پیسہ بھیجتے ہیں۔

اگرچہ وہاں ڈیجیٹل ترسیل زر کی خدمات دستیاب ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کے اور ان کی برادری کے دیگر افراد نے مقامی ہائی سٹریٹ کی منتقلی کی دکانوں کے ساتھ جو رشتے قا‏ئم کر رکھے ہیں اس کی وجہ سے رقم کی منتقلی میں انھیں جو فوائد حاصل ہو رہے تھے وہ نہیں ہو سکیں گے۔

چندرا گذشتہ 18 سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور باقاعدگی سے انڈیا پیسہ بھیجتے ہیں

،تصویر کا ذریعہChandra Ceeka

،تصویر کا کیپشنچندرا گذشتہ 18 سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور باقاعدگی سے انڈیا پیسہ بھیجتے ہیں

’وہ ہمیں ایکسچینج (زر مبادلہ کی قیمت) ریٹ پر مخصوص قسم کی چھوٹ دیتے ہیں۔ وہ ہمیں بہتر کسٹمر سروسز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابھی تک کووڈ-19 کی وجہ سے میں مجبور ہوں کہ میں صرف آن لائن طریقوں کو استعمال کروں جس کے سبب ہمارے پاس کوئی تول مول کا آپشن نہیں بچ جاتا ہے۔‘

لیکن ڈیجیٹل ادائیگی کے ایپ ازیمو کے چیف ایگزیکٹو مائیکل کینٹ کا کہنا ہے کہ موبائل سے رقم کی منتقلی میں اخراجات کو کافی حد تک کم کرنے کی صلاحیت ہے۔

’ہم ہائی سٹریٹ پر موجود روایتی طور پر رقم ٹرانسفر کرنے والی کمپنیوں کے مقابلے میں بھیجنے کی لاگت میں 70 سے 80 فیصد سستا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم سٹور کے اخراجات، ایجنٹ کے اخراجات، بہت سارے کارپوریٹ اخراجات کو کم کرتے ہیں۔‘

سنٹر فار گلوبل ڈویلپمنٹ کے مسٹر کلیمینس کہتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں کئی دہائیوں تک کورونا وائرس کے اثرات دیکھے جائيں گے۔

انھوں نے جرنل آف پولیٹیکل اکانومی میں شائع ایک اہم مطالعہ کی طرف اشارہ کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1980 کی مردم شماری کے اعداد و شمار میں سنہ 1918 میں آنے والے وبائی امراض انفلوئنزا کے منفی معاشی اثرات دیکھے گئے ہیں۔

اس وبائی مرض کے دوران اس وقت تک پیدا نہیں ہونے والے بچوں کے تعلیمی حصول میں کمی آئی، جسمانی معذوری کی شرح میں اضافہ ہوا، کم آمدنی، سماجی اور معاشی حیثیت کمی نظر آئی اور انھیں خیرات کی زیادہ ضرورت نظر آئی۔

اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ اب جو چھوٹے بچے ہیں یہاں تک کہ جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ہیں ان پر اس ترسیل زر میں کمی سے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کی وجہ سے ان کی آمدنی کم ہو گئی ہے، ان کے بچوں میں موت کا امکان بڑھ جائے گا، ان میں غذائیت کی کمی ہو گی، سکول چھوڑنے کی نوبت آئے گی تاکہ گھر کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔

اور بدقسمتی سے ان چیزوں کے بارے میں آج سے 50 سال سے 70 سال بعد اعدادوشمار کی بنیاد پر پتا چلے گا کہ اس کے کتنے اثرات مرتب ہوئے تھے۔

کیرالہ کی سمتھا جیسے لوگوں کو امید ہے کہ آئندہ سال سے وہ دوبارہ کام شروع کر سکتی ہیں تو ان کے شوہر گھر واپس آ سکتے ہیں۔

’صرف پیسوں کی خاطر وہ وہاں رہتے ہیں اور میں یہاں رہتی ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ پیسہ سب کچھ ہے جس کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ لیکن اس صورتحال یعنی کورونا وائرس نے ہماری ساری امیدوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔‘