کورونا وائرس: برطانیہ میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹر اور ہیلتھ ورکر

- مصنف, ثقلین امام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
برطانیہ کے قومی صحت کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ڈاکٹروں کی تعداد 31 ہے جن میں زیادہ تر کا تعلق مشرق وسطیٰ اور افریقی نسل سے بتایا گیا ہے۔
برٹش میڈیکل کونسل، ایسوسی ایشن آف پاکستان فیزیشینز آف نارتھ یورپ (اے پی پی این ای) اور مقامی میڈیا کے مطابق اب تک این ایچ ایس سے جڑے 31 ڈاکٹر کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں پاکستانی نژاد اور انڈین نژاد ڈاکٹروں کی تعداد بالترتیب چھ، چھ ہے۔
اس طرح این ایچ ایس کے عملے میں بیم (یعنی سیاہ فام، ایشین، یا دیگر اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد) میں سے ہلاک ہونے والا ایک بڑا نسلی گروہ فلپینی افراد کا ہے۔
اے پی پی این ای اور برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے این ایچ ایس کے بیم کہلائے جانے والے عملے میں اتنی زیادہ اموات پر تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جس پر اس تنظیم(اے پی پی این ای) نے بتایا کہ حکومت نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن ڈاکٹر حبیب نقوی کی سربراہی میں قائم کر دیا ہے، لیکن ابھی اس کے ٹرمز آف ریفرنسز تشکیل نہیں دیے گئے ہیں۔

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں نے مقامی میڈیا اور بی ایم اے کی مدد سے جو اعداد و شمار جمع کیے ہیں ان کے مطابق برطانیہ میں اب تک کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 30 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جبکہ کورونا سے ہلاک ہونے والے ڈاکٹروں اور نرسوں سمیت ہیلتھ ورکرز کی تعداد 174 بتائی گئی ہے۔
اے پی پی این ای کے ترجمان ڈاکٹر شبیع احمد کے مطابق امریکہ میں کل ہلاکتیں 70 ہزار کے قریب ہیں جبکہ کورونا سے ہلاک ہونے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیک سٹاف کی کُل تعداد 30 ہے۔ ’اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ برطانیہ میں پیرامیڈک کے عملے کی ہلاکت کسی بھی ملک کے مقابلے کہیں زیادہ ہیں۔‘
ڈاکٹر شبیع احمد نے برطانیہ میں صحت کے شعبے سے وابستہ اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتوں کی بنیادی وجہ پرسنل پروٹیکشن ایکویپمنٹ (پی پی ایز) کی عدم دستیابی اور بروقت رہنما اصولوں کا جاری نہ ہونا قرار دیا ہے۔
’خاص کر مقامی جی پیز کو تو سرے سے ماسک بھی نہیں مہیا کیے گئے اور نہ ان کے لیے تاحال کوئی رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔‘
برطانیہ میں ڈاکٹروں کی مختلف تنظیموں کے مطابق ملک میں سیاہ فام، ایشائی اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا آبادی میں حصہ 15 فیصد ہے جبکہ این ایچ ایس میں ان کی تعداد 35 فیصد کے قریب ہے۔ یہ لندن اور برمنگھم جیسے بڑے شہروں میں 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
برطانیہ میں کورونا سے ہلاک ہونے والے پاکستانی نژاد ہیلتھ ورکر
1۔ محمد اسلم
برمنگھم شہر کے چائیلڈ کیئر ٹرسٹ کے سوشل ورکر محمد اسلم 24 اپریل کو کورونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ان کے بارے میں ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے کہا ہے کہ ’اسلم بہت وسیع القلب انسان تھے۔
’وہ سپیشل بچوں کی نگہداشت کرتے تھے۔‘
محمد اسلم نے ایک تربیت یافتہ سوشل ورکر کی حیثیت سے سنہ 2010 میں برمنگھم سٹی کونسل میں ملازمت کا آغاز کیا تھا۔
اس کے بعد وہ سنہ 2017 میں کیئر لِیورز کونسل میں ایڈوائزر بن گئے تھے۔ سنہ 2018 میں تشکیل پانے والے برمنگھم چائیلڈ ٹرسٹ میں وہ کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔
2۔ خالد جمیل

لندن سے باہر شمال کی جانب ایک قصبے کے وٹفورڈ جنرل ہسپتال کے خالد جمیل 14 اپریل کو کورونا وائرس کے انفیکشن کے خلاف جنگ ہار گئے۔
وہ ویسٹ ہارٹفورڈ شیئر ہسپتال میں سنہ 2006 سے ہیلتھ کئیر اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ پاکستان میں ایک میڈیکل گریجویٹ تھے لیکن برطانیہ آکر وہ ہیلتھ اسسٹنٹ بن گئے۔
ڈاکٹر خالد جمیل 57 برس کے تھے اور انھوں نے پسماندگان میں ایک بیوہ اور دو بچے چھوڑے ہیں۔
ان کے ہسپتال کے دوستوں نے کہا ہے کہ ’ہر کوئی انھیں دکھی دل سے یاد کر رہا ہے اور سب ان کو ہمیشہ اپنی یادوں میں زندہ رکھیں گے۔‘
3۔ اریمہ نسرین

کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والی سب سے پہلی خاتون ہیلتھ ورکر، نرس اریمہ نسرین تھیں۔
36 برس کی اریمہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ہیلتھ ورکرز میں سب سے کم عمر بھی تھیں۔ وہ برمنگھم کے والسل مینور ہسپتال میں کام کرتی تھیں۔
ان کی موت کا اعلان ان کی ایک ساتھی نرس ایمی او رُوک کے ساتھ کیا گیا۔ دونوں ہی تین، تین بچوں کی مائیں تھیں۔
ان کی ایک ساتھی روبی اختر نے کہا ہے کہ ’اریمہ ایک بہت ہی پیاری اور سچی شخصیت تھیں۔‘
رائل کالج آف نرسنگ مِڈلینڈ کے ڈائریکٹر مائیک ایڈم نے کہا کہ ’کوئی کورونا وائرس کا شکار ہوجائے تو یہ ایک المیہ ہے اور اگر ایک نرس اس کا شکار ہو جائے تو یہ اور بھی بڑا المیہ ہے۔‘
اریمہ نسرین کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر میرپور سے تھا۔ ان کے چار بھائی اور تین بہنیں تھیں جو بچپن ہی سے برطانیہ منتقل ہوگئے تھے۔
وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ ان کا بچپن اپنی نانی کی خدمت میں گزرا جس کی وجہ انھیں نرسنگ کا پیشہ بہت پسند تھا۔
ہلاک ہونے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی فہرست
1۔ ڈاکٹر فرقان علی صدیقی
سینیئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر فرقان علی صدیقی چار ہفتوں تک وینٹیلیٹر پر رہنے کے بعد مانچسٹر کےایک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں یکم مئی کو ہلاک ہوئے۔
پچاس برس کے ڈاکٹر صدیقی کراچی میں پلاسٹک سرجن تھے اور ہزاروں میل دور مانچسٹر میں این ایچ ایس میں کام کرنے آئے تھے اور وہیں کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔
ایسوسی ایشن آف پاکستانی فیزیشنز اینڈ سرجنز نے ڈاکٹر فرقان صدیقی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود وہ اپنے مریضوں کی خدمت کرتے رہے۔‘
2۔ ڈاکٹر ناصر خان
گریٹر مانچسٹر کے شہر بولٹن میں سکونت رکھنے والے ہاسپیٹل کنسلٹنٹ ڈاکٹر ناصر خان کی موت 29 اپریل کو ہوئی۔
ان کے بیٹے مہد علی خان نے ان کی فرض شناسی پر کہا کہ ’وہ کسی بھی ضرورت مند کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔‘
ڈاکٹر ناصر خان 6 اپریل کو اُس وقت ڈیوزبری کے ہسپتال میں کام کررہے تھے جب وہ کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔ بعد میں انھیں علاج کے لیے بولٹن کے ایک مقامی ہسپتال میں منتقل کردیا گیا جہاں وہ ہلاک ہوگئے۔
3۔ میمونہ رانا
شمال مشرقی لندن کے ایک ہسپتال کے سائیکیاٹری وارڈ میں زیرِ تربیت رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ رانا 16 اپریل کو کورونا وائرس سے ہلاک ہوئیں۔
برطانیہ میں وہ پہلی پاکستانی نژاد ڈاکٹر تھیں جو کورونا وائرس سے ہلاک ہوئیں۔
لندن کے اس حصے کے ایک غیر سرکاری ادارے نارتھ ایسٹ لندن فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے ڈاکٹر میمونہ رانا کی تعریف میں کہا کہ ’وہ بہت ہی قابلِ احترام اور باعزت شحضیت کی مالک تھیں۔‘
وہ ایک آٹھ برس کے بچے کی والدہ تھیں۔
جنرل میڈیکل کونسل نے ان کے بارے میں کہا کہ ’ڈاکٹر میمونہ رانا نے اپنے معاشرے کی بہتری کے لیے اہم خدمات سرانجام دیں۔‘
4۔ ڈاکٹر سید ذیشان حیدر

ڈاکٹر سید ذیشان حیدر لندن کے مشرقی علاقے ڈیگنہم میں جنرل پریکٹس کرتے تھے۔ وہ گذشتہ پچاس برس سے زیادہ عرصے سے ایک جی پی تھے۔
ان کی عمر 79 برس تھی۔ وہ مارچ کے آخری ہفتے ہی میں کورونا وائرس سے بیمار ہو گئے تھے لیکن ان کا انتقال رومفرڈ کے کوئینز ہسپتال میں آٹھ اپریل کو ہوا۔
ڈاکٹر حیدر کے بیٹے نے کہا کہ ’وہ اپنے پیشے سے ایک عقیدت رکھتے تھے اور مریضوں کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔‘
’وہ اپنی زندگی کے اُس حصے میں تھے جب لوگ ریٹائر ہونے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ڈاکٹر ذیشان حیدر اپنے کام سے بہت محبت کرتے رہے۔‘
5۔ ڈاکٹر حبیب زیدی

انگلینڈ کے مشرقی علاقے ساؤتھ اینڈ کے ایک شہر 'لی آن دی سی' سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حبیب حیدر 25 مارچ کو کورونا سے ہلاک ہوئے۔
وہ چند دن قبل ہی کورونا وائرس سے بیمار ہوئے تھے اور ہسپتال میں داخل ہونے کے تین دن بعد ہی ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔
وہ برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے پہلے ڈاکٹر تھے۔
ان کی بیٹی ڈاکٹر سارہ زیدی نے انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹر حبیب زیدی اپنے مریضوں اور اپنے ساتھیوں میں بہت مقبول تھے۔‘












