ایران: کورونا وائرس سے کم از کم ’210 افراد ہلاک‘، وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو بڑھ کر ’بلند ترین‘

ایران میں کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہEPA

ایران کے صحت عامہ کے شعبے کے ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا ہے کہ ایران میں کورونا وائرس سے متاثر کم 210 مریض ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ڈبلیو ایچ او نے خطرے کی سطح تو بڑھا دی ہے تاہم ابھی اسے عالمی وبا قرار نہیں دیا۔

ایرانی حکام صرف 34 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں دارالحکومت تہران میں ہوئی ہیں۔

ایران کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس 388 مریض ہیں۔ کئی لوگوں کےخیال میں حکومتی اعداد و شمار صحیح نہیں ہیں اور ایرانی حکام اس وبا کی اصل شدت کو چھپا رہے ہیں اور ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی اصل تعداد کو ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے۔

ایران کی وزارت صحت نے کورونا وائرس سے ہلاکتوں کے بارے میں بی بی سی فارسی کی خبر کی تردید کی ہے

ایران کے ہسپتال کے ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا ہےکہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں تہران میں ہوئی ہیں جہاں 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تہران کے بعد قم شہر میں 80 افراد کورونا وائرس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں میں کورونا وائرس کے30 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران میں کئی اعلیٰ حکومتی اہلکار بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ملک کی نائب صدر معصومہ ابتکار، اور نائب وزیر صحت ایرج حریرچی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں ۔

ایران اپنے ہمسایہ ممالک بشمول افغانستان، بحرین، عراق، کویت، عمان اور پاکستان میں درجنوں کیسز کا باعث بنا۔

ms ebtekar

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایرانی نائب صدر معصومہ بھی وائرس کا شکار ہو گئیں ہیں

وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بلند ترین سطح پر

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو بڑھا کر ’بہت بلند‘ کر دیا گیا ہے۔ یہ خطرے کی پیمائش کا سب سے اوپر کا درجہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے منتقل ہونے کا سلسہ رک جانے پر بھی اس کے موجود ہونے کا امکان برقرار ہے۔

عالمی ادارہ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریایسس نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں خوف اور غلط معلومات سب سے بڑا چیلنج ہیں جن سے نمٹنا بہت ضروری ہے۔

Workers disinfect the Hazrat Masumeh shrine in Qom on 25 February 2020

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایران میں مزارعات پر باقاعدگی سے جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے

اب تک 50 سے زائد ممالک میں یہ وائس رپورٹ ہو چکا ہے۔

تازہ صورتحال کیا ہے؟

  • دنیا بھر میں 80 ہزار سے زائد افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ 2800 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن کی اکثریت چین کے صوبے ہوبائی سے ہے۔ چین نے مزید 327 کیسز رپورٹ کیے ہیں جو گذشتہ ایک ماہ میں یومیہ سب سے کم تعداد ہے۔ ان کے ساتھ ساتہ 44 ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
  • سوئٹزرلینڈ نے ملک میں ہونے والے تمام ایونٹس کو معطل کر دیا ہے جن میں 1000 سے زیادہ شرکا حصہ لے رہے تھے۔ معطل کیے جان ے والے ایونٹس میں جنیوا انٹرنیشنل موٹر شو بھی شامل ہے۔
  • آئس لینڈ، نائجیریا، میکسیکو، نیوزی لینڈ، بیلاروس اور نیدر لینڈ میں بھی کورونا کے پہلے پہلے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
  • برطانیہ میں کووِڈ 19 سے پہلی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔
  • کورونا وائرس کے خوف سے دنیا بھر کے حصص بازار متاثر رہے۔

ڈبلیو ایچ کو کہ ایمرجنسی ہیلتھ پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر مائیک رائن نے زور دیا کہ حالیہ ڈیٹا سے اب تک یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ وائرس عالمی وبا بن گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’اگر ہم یہ کہتےہیں کہ یہ عالمی وبا بن گیا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس سیارے پر موجود ہر انسان ان کے خطرے کا شکار ہے۔ لیکن ڈیٹا ابھی تک اس بات کی حمایت نہیں کرتا۔‘

ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ اگرچہ اس وائرس کے پھیلاؤ میں عالمی وبا بننے کی اہلیت موجود ہے تاہم انھوں نے غیر ضروری طور پر گھبرانے سے بھی خبردار کیا۔

ان کا کہنا تھا ’اس وقت ہمارا سب سے بڑا دشمن یہ وائرس نہںی بلکہ خوف اور افواہیں ہیں۔‘

An employee packs protective face masks

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنڈبلیو ایچ او نے خطرے کی سطح تو بڑھا دی ہے تاہم ابھی اسے عالمی وبا قرار نہیں دیا

عالمی ادارہ صحت کی وارننگ

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر تمام نہیں تو زیادہ تر ممالک کو کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کا خطرہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس میں کورونا وائرس کی وجہ سے شدید مندی دیکھی جا رہی ہے۔ سنہ 2008 کے بعد سٹاک مارکیٹ ہفتے بھر کی سب سے کم سطح پر رہیں۔

جاپان کے ہوکائیدو نامی علاقے میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔

سویٹزر لینڈ نے ملک میں بڑی عوامی تقریبات اور جینیوا کار شو بھی کینسل کر دیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا یہ وائرس تمام نہیں تو بہت سے ممالک تک پہنچ سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ایک بار پھر واررننگ جاری کی ہے کہ کورونا وائرس اگر تمام نہیں تو زیادہ تر ممالک میں پہنچ سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کریسچین لنڈمیئر نے کہا ہے کہ یہ وائرس بڑھتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 50 سے زیادہ ممالک میں اب تک اس وائرس کے کیسز کی تشخیص ہوئی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ افریقی ممالک میں نائجیریا پہلا ملک ہے جہاں یہ وائرس پہنچا۔

صورتحال یہ ہے کہ ابو ظہبی کے دو ہوٹل اس وقت لاک ڈاؤن کر دیے گئے ہیں۔ میڈیکل سٹاف وہاں موجود مہمانوں کی سکریننگ کی۔

اس میں موجود یو اے ای ٹور میں حصہ لینے والے سائیکلسٹ اور ان کے ساتھ موجود عملے اور سٹاف میں شامل اٹلی کے دو شہریوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

ابو ظہبی کے دو ہوٹلوں میں سے ایک جسے قرنطینہ کا درجہ دیا گیا ہے کی جانب سے بی بی سی کو بتایا گیا کہ کوئی بھی ہوٹل سے نہ باہر جا سکتا ہے نہ ہی اندر داخل ہو سکتا ہے جب تک اسے ایسا کرنے کے لیے محفوظ قرار نہیں دیا جاتا۔

ڈبلیو ابو ظہبی کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ عارضی طور پر ہوٹل کو لاک ڈاؤن کیا گیا ہے اور تمام مہمانوں کی سکریننگ کی جا رہی ہے۔ یہ ہوٹل میریٹ ہوٹل کی ملکیت ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ جن مہمانوں کی بکنگ جمعے کی تھی انھیں دوسرے ہوٹل میں بھجوایا جا رہا ہے۔

جاپان کے کچھ شہروں اور انتظامی علاقوں یعنی پریفیکچورز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنادھر چین میں عوامی نقل و حمل، پروازوں اور ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہے

ہوکائیدو کے گورنر جو کہ جاپان کے شمال میں رہتے ہیں نے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

جاپان کے ان علاقوں میں 66 کیسز سامنے آئے ہیں یہ ملک کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے۔

علاقے کے گورنر نے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والی چھٹیاں گھر پر ہی گزاریں۔

’عالمی سطح پر کورونا وائرس کے رکنے کا کوئی امکان نہیں‘

مزید نئے کیسز سامنے آنے سے یہ واضح ہوا ہے کہ کورونا وائرس چین سے باہر بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

اس وقت 50 سے زیادہ ممالک کے لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور حکومتی اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔

چین کے بعد ایران اور اٹلی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز بنے ہیں۔ اور یہاں سے دیگر جگہوں پر سفر کرنے والے لوگوں سے یہ وائرس دیگر آبادیوں میں منتقل ہوا۔

سٹاکس میں مندی کا رجحان

امریکہ میں ڈو جانز انڈیکس میں گذشتہ روز 1200 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جو کہ اس کی تاریخ کی کم ترین سطح ہے۔

جاپان میں نائیکی کا انڈیکس جمعے کو کاروبار کے آغاز پر ہی تین فیصد گرا اور 225 پوائنٹس پرپہنچ گیا۔

آسٹریلیا میں جمعے کو اے ایس ایکس انڈیکس 200 تین اعشاریہ پانچ فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔

بینکریٹ ڈاٹ کام کے چیف فنانشل تجزیہ کار گریگ میک برائڈ کہتے ہیں کہ مارکیٹ میں تیزی سے گرتی ہے جب خوف اور غیر یقینی کی صورتحال ہوتی ہے اور اس وقت یہ دونوں کیفیات ہیں۔