کورونا وائرس: جنوبی کوریا کے پادری کی وائرس پھیلانے پر معافی

شِنچیونجی چرچ کے بانی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنلی مینہی شِنچیونجی چرچ کے بانی ہیں

جنوبی کوریا میں ایک مذہبی فرقے کے سربراہ نے ملک میں کورونا وائرس پھیلنے پر قوم سے معافی مانگ لی ہے۔

مسیحی فرقے شِنچیونجی چرچ آف جیسس کے سربراہ لی مینہی نے ایک نیوز کانفرس کے دروان گھٹنوں کے بل جھک کر معافی مانگی۔

جنوبی کوریا میں کورونا وائرس سے متاثرہ چار ہزار مریضوں میں سے 60 فی صد کا تعلق اسی فرقے سے ہے۔

پیر کے روز جنوبی کوریا نے 476 نئے مریضوں کی تصدیق کی جس سے ملک میں کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد 4212 ہوگئی ہے۔ چین سے باہر کسی ایک ملک میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ جنوبی کوریا میں اس وائرس سے اب تک 26 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پولیس کو لی مینہی کے خلاف وسیع پیمانے پر غفلت برتنے کے الزام میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

اٹھاسی برس کے پادری کا کہنا تھا کہ 'اگرچہ ایسا عمداً نہیں کیا گیا تاہم اس سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ہم اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اسے روکنے میں ناکام رہے۔'

مصدقہ واقعات جنوبی شہر ڈائگو میں پیش آئے ہیں اور مریضوں کے 73 فی صد کا تعلق شِنچیونجی چرچ سے ہے۔

دارالحکومت سیول کے میئر نے ایک کروڑ کی آبادی والے اس شہر کے باسیوں کو گھروں سے کام کرنے اور بھیڑ والے مقامات سے دور رہنے کی تلقین کی ہے۔

خالی شیلف
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا میں کورونا وائرس کے خوف سے لوگوں کی تحاشا خریداری کے سبب ایک سپرمارکیٹ میں خالی شیلف

اس قدرے چھوٹے فرقے کے ماننے والوں کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ انھوں نے ایک دوسرے کو یہ وائرس منتقل کیا اور پھر ملک کے طول و عرض میں بغیر تشخیص کے سفر بھی کیا۔

اس فرقے پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ارکان کے نام خفیہ رکھے جس سے متاثرہ افراد کی پتا چلانے مشکل ہوگیا تھا۔

تاہم چرچ کے ترجمان کِم شِنچینگ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اپنے تمام راکین، طلبہ اور عمارتوں کی فہرست حکام کے حوالے کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ان معلومات کے سامنے آنے کے پیش نظر اپنے اراکین کی سلامتی کے بارے میں متفکر تھے۔'

لی مینہی اپنے مسیحِ موعود ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں اور جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے وہ اپنے ساتھ ایک لاکھ چوالیس ہزار لوگوں کو جنت میں لے کر جائیں گے۔

کِم شِنچینگ نے بی بی سی کو بتایا کہ شِنچیونجی چرچ کو جنوبی کوریا، اور مسیحی برادری میں ایک علیحدہ مسلک سمجھا جاتا ہے جس کے سبب اس کے ارکان کو امتیاز، ایذا رسانی اور تنقید کا سامنا رہتا ہے۔