#CoronaVirus: جاپان میں بحری جہاز پر61 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص

کورونا وائرس چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جاپان کی بندرگاہ یوکوہاما میں کھڑی ایک کروز شپ یعنی تفریحی بحری جہاز پر مزید 41 لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی ہے جس کے بعد اس جہاز پر کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 61 ہوگئی ہے۔

ڈائمنڈ پرنسز نامی اس بحری جہاز پر 3700 افراد سوار ہیں اور یہ دو ہفتوں کے قرنطینہ میں رکھی گئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بحری جہاز پر ٹیسٹ کرنے کا سلسلے اس وقت شروع ہوا جب گذشتہ ماہ اس بحری جہاز پر سفر کرنے والے ہانگ کانگ کے ایک 80 سالہ رہائشی اس وائرس کی وجہ سے بیمار ہوگئے۔ وہ اس جہاز پر 20 جنوری کو سوار ہوئے تھے اور 25 جنوری کو جہاز سے اتر گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

جہاز ’ڈریم پرنسس‘ کی ایک مسافر

،تصویر کا ذریعہReuters

حکام نے گذشتہ پیر کے روز مسافروں کے ٹیسٹ کرنا شروع کیے اور اگلے روز سے جہاز کو قرنطینہ میں رکھا گیا۔ اب اس جہاز کے مسافر اور عملے کو 14 روز تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ مسافروں کو بحری جہاز پر ہی رہنا پڑے گا اور وہ اپنے اپنے کمروں میں بند رہیں گے۔

تشخیص شدہ مریضوں کو طبی مراکز منتقل کیا جا رہا ہے

ڈائمنڈ پرنسز کے علاوہ ہانگ کانگ کی بندرگاہ پر ایک اور تفریحی بحری جہاز ورلڈ ڈریم کو بھی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ اس جہاز پر بھی آٹھ لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی تھی۔

’کورونا وائرس کو آخرکار ایک باقاعدہ نام دیا جائے گا‘

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا کورونا وائرس دنیا بھر میں ہزاروں لوگوں کو مریض بنا چکا ہے اور سینکڑوں ہلاکتوں کا ذمہ دار ہے۔ تاہم اس وائرس کو اب تک کوئی باقاعدہ نام نہیں دیا گیا ہے۔ اسے کورونا وائرس کہا جا رہا ہے مگر کورونا نام تو وائرس کی اقسام میں سے ایک ہے جس میں کئی وائرس ہوتے ہیں۔

کورونا وائرس چین

،تصویر کا ذریعہSMITH COLLECTION/GADO

کورونا وائرسز کا نام ان پر موجود نوکیلے کونوں کی وجہ سے دیا گیا ہے جو کہ خوردبین میں نظر آتے ہیں۔

سائنسدان چین میں پھیلنے والی موجود وبا کو ’نیا کورونا وائرس‘ کے نام سے پکارتے رہے ہیں۔ اس کو 2019-nCoV کا عارضی نام بھی دیا گیا ہے۔

مگر اس کا باقاعدہ نام مقرر کرنا اہم ہے تاکہ دیگر وائرس سے پہنچانا جا سکے۔ اس وقتی سائنسدانوں کا ایک گروہ اس کا نام رکھنے میں مصروف ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں اس قدر دیر اس لیے لگ گئی ہے کیونکہ اس وقت سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز اس وائرس کا علاج ہے۔