پام آئل سے چھٹکارا کیسے پائیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرینک سوین
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
پام آئل ایک ایسی حیرت انگیز پراڈکٹ ہے جس کا استعمال کیک اور بِسکٹ سے لے کر تعمیرات تک بہت سے شعبوں میں ہوتا ہے۔ مگر اس پر ہمارا انحصار کرۂ ارض کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اس کی پیدوار کے لیے برساتی جنگلات کاٹ کر پام کے درخت لگائے جاتے ہیں جس سے مختلف طرح کی جنگلی حیات کے قدرتی مسکن ختم ہو رہے ہیں۔ کیا پام آئل کا کوئی متبادل ہے؟
آپ نے آج صبح جو شیمپو استعمال کیا غالباً اس میں پام کا تیل تھا، یا جو صابن آپ نے اپنی جلد پر ملا، جس ٹوتھ پیسٹ سے آپ نے دانت مانجھے، وٹامن کی جو گولی آپ نے نگلی، یا پھر جو میک اپ آپ نے لگایا وہ بھی اس سے خالی نہ رہا ہوگا۔ یہ اس ڈبل روٹی اور اس پر لگائے جانی والی مارجرین میں بھی ہوگا جو آپ نے ناشتے میں کھائی۔ اور اگر آپ نے مکھن کھایا ہے یا دودھ پیا ہے تو ممکن یہ جس گائے سے حاصل کیا گیا ہو اس کی خوراک میں استعمال میں لایا گیا ہو۔ بس یہ طے ہے کہ آج آپ نے پام آئل کا استعمال کیا ہے۔
یہاں تک کہ آپ نے آج جس سواری، بس، ٹرین یا کار، سے سفر کیا ہے وہ بھی ایسے ایندھن سے چلتی ہے جس میں پام آئل ہوتا ہے۔ ہم جو ڈیزل یا پٹرول استعمال کرتے ہیں اس کا کچھ حصہ بایوفیول یعنی حیاتی ایندھن پر مشتمل ہوتا ہے جو اکثر پام آئل سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے جس ڈیوائس پر آپ یہ مضمون پڑھ رہے ہیں اسے چلانے کے لیے درکار بجلی کا بھی کچھ حصہ پام کے گودے کو جلا کر پیدا کیا گیا ہو۔
پام آئل نباتات سے حاصل کیا جانے والا سب سے مقبول تیل ہے۔ پچاس فیصد تک مصنوعات میں پائے جانے کے علاوہ یہ کارخانے چلانے میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ سنہ 2018 میں عالمی منڈی میں 77 ملین ٹن پام آئل پیدا کیا گیا۔ توقع ہے کہ 2024 تک پام آئل کی پیداوار 107.6 میلن ٹن تک پہنچ جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہماری روز مرہ زندگی میں اس کے اتنے عمل دخل کی وجہ اس کی اچھوتے کیمیائی خواص ہیں۔ مغربی افریقہ میں پائے جانے والے پام کے درخت کے بیج سے حاصل کیا جانے والا تیل زرد رنگ کا اور بے بو ہوتا ہے اور بآسانی کھانے کی زینت بنتا ہے۔ اس نقطۂ پگھلاؤ زیادہ ہے اور سیچوریٹڈ فیٹ یا سیرشدہ چکنائی بھی زیادہ رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس سے بنی کریم اور بیکری مصنوعات منہ میں رکھتے ہی گھُل جاتی ہیں۔ نباتات سے حاصل شدہ دوسرے تیل میں یہ خوبی پیدا کرنے کے لیے انھیں ایک کیمیائی عمل سے گزارنا پڑتا ہے جس میں ہائیڈروجن کے ایٹم چکنائی کے سالموں میں شامل کیے جاتے ہیں۔ مگر ایسی چکنائی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔
پام آئل کے مخصوص کیمیائی خواص اسے پکانے کے لیے بھی دوسرے تیلوں سے ممتاز بناتے ہیں کیونکہ یہ زیادہ درجۂ حرارت پر بھی اپنی خاصیت نہیں بدلتا، اور نہ ہی جلد خراب ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جن مصنوعات میں اس کی آمیزش ہوتی ہے انھیں زیادہ عرصے تک سٹور کیا جا سکتا ہے۔ اسے ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا اور اس کی کَھل بھی جلانے کے کام آتی ہے۔ اس کے خول کو کچل کر تعمیراتی کنکریٹ میں ملایا جا سکتا ہے، اور اس کے ریشوں اور کھل کو جلانے سے حاصل ہونے والی راکھ کو سیمنٹ کی جگہ گارے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیل والے پام کے درخت استوائی خطوں میں بھی اگائے جا سکتے ہیں اور کاشتکاروں کے لیے بہت نفع بخش ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ سخت زمین میں بھی آسانی سے جڑیں پکڑ لیتے ہیں۔ یہ ہی سبب ہے کہ ان علاقوں میں اس کی فصل میں اضافہ ہوا ہے۔
مگر روغنی یا تیل والے پام کی وسیع پیمانے پر شجرکاری کو انڈونیشیا اور ملائیشیا میں قدرتی جنگلات اور اورینگوٹان جیسی مخدوش جنگلی حیات کے مسکنوں کی بربادی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کیونکہ اس سے ان کے صفحۂ ہستی سے مٹ جانے کا خطرہ اور بڑھ گیا ہے۔ صرف ان دونوں ملکوں میں 13 ملین ہیکٹرز پر پام کے درخت لگائے گئے ہیں جو باقی دنیا میں لگائے گئے پام کے درختوں کا نصف ہے۔ گلوبل فارسٹ واچ کے مطابق 2001 سے 2018 کے درمیان انڈونیشیا میں 25.6 ملین ہیکٹرز پر سے قدرتی جنگلات کا صفایا کیا گیا۔ یہ رقبہ نیوزی لینڈ کے تقریباً کل رقبے کے برابر ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی سبب سے حکومتوں اور تاجروں پر پام آئل کا متبادل تلاش کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مگر اتنی خوبیوں کی حامل پراڈکٹ کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں ہے۔ 2018 میں سپرمارکیٹ کی چین آئسلینڈ نے پام آئل والی مصنوعات کی فروخت روکنے کا اعلان کیا۔ مگر وہ اس پر مکمل عملدرآمد نہ کر سکی اور اعلان واپس لینا پڑا۔
کئی کارخانوں نے دیگر نباتات، مثلاً سرسوں، سورج مکھی اور ناریل، کے تیل سے بنائی جانی والے مصنوعات متعارف کروائی ہیں۔ اسی طرح کھانے اور زیبائش کی مصنوعات پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے بھی مختلف تیلوں پر تجربات کیے ہیں۔ مگر یہ نہ تو پام آئل کی سی آسانی سے دستیاب ہیں اور نہ ہی ارزاں۔
سویا بین کا تیل بھی برساتی جنگلات کی بربادی کا سبب گردانا جاتا ہے اور سویا اور پام تیل دونوں ہی پالتوں جانوروں کی خوراک کا اہم جزو ہیں کیونکہ ان میں چربی میں حل ہونے والے وٹامن بآسانی ضم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے جب تک دنیا میں گوشت، دودھ، مرغی اور انڈے کی مانگ قائم ہے پام آئل کی مانگ بھی بڑھتی رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولینڈ میں محققین نے پام آئل کی جگہ مرغیوں کو غذا میں پیدا ہونے والے کیڑوں سے بنی خوراک کھلائی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ بھی اتنی ہی کارآمد تھی جتنی کہ پام آئل والی خوراک۔ سانئسدانوں کا خیال ہے کہ ایسے کیڑوں اور دوسرے حشرات الارض سے بنی خوراک گوشت کے لیے پالے گئے جانوروں کے لیے مفید ہو سکتی ہے اور اس کا ماحول پر بھی اثر مثبت ہوگا۔
سبز ایندھن
تقریباً تمام مصنوعات میں موجودگی کے باوجود 2017 میں یورپی یونین میں نصف سے زیادہ درآمد کیا گیا پام آئل جس مقصد کے لیے لایا گیا وہ تھا اس کے بطور ایندھن استعمال۔ یورپی یونین میں قابلِ تجدید توانائی کے ادارے نے اپنے لیے ہدف مقرر کیا تھا کہ 2020 تک پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والا 10 فیصد ایندھن قابلِ تجدید ذریعے سے حاصل کردہ ہوگا۔ اس ہدف کو پانے کے لیے پام آئل سے تیار کردہ حیاتی ڈیزل یا بایوڈیزل استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ مگر 2019 میں یورپی یونین نے اعلان کیا کہ بایوڈیزل کا استعمال رفتہ رفتہ ختم کرنا ہوگا کیونکہ اس کے لیے درکار پام آئل اور نباتاتی تیل کی پیداوار ماحول کے لیے تباہ کن ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی سائنسدانوں نے اس کا متبادل ایلجی سے حاصل کردہ تیل کی صورت میں ڈھونڈا۔ ایلجی کی بعض انواع سے حاصل کردہ خام تیل کو صاف کرکے ڈیزل، جیٹ فیول، حتٰی کہ بحری جہازوں میں استعمال ہونے والے ایندھن میں بدلا جا سکتا ہے۔ یہ بات اتنی حیرت انگیز نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے، کیونکہ دنیا میں جہاں بھی تیل کے ذخائر موجود ہیں وہ ایلجی کی رِکازی باقیات ہیں۔
ڈیوڈ نیلسن، جو ابو ظہبی میں قائم نیویارک یونیورسٹی سے وابستہ اور پودوں کی جینیات کے ماہر ہیں، کہتے ہیں کہ ایجلی سے نکلے والا تیل پام آئل کا متبادل ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا ہے کہ ابو ظہبی میں پیدا ہونے والی ایلجی کا ایک جز ایلجا وہاں کے شدید غیر مرطوب ماحول میں اپنی بقا کے لیے پام آئل جیسا روغن خارج کرتا ہے۔ نیلسن کی ٹیم کے خیال میں اس ایلجی کو جوہڑوں اور کھلے تالابوں میں اگا کر تیل حاصل کیا جا سکتا ہے۔ البتہ نیلسن کہتے ہیں کہ منڈی میں پام آئل کی جگہ لینے کے لیے ایلجا سے حاصل شدہ تیل کو فیصلہ سازوں کی حمایت درکار ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ 'اگر سیاستدان پام آئل نہ استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیں تو پھر ایلجا سے تیارکردہ تیل کی کامیابی کے امکانات بہت بڑھ جائیں گے۔'
اسی طرح کے تجربے ایگزون موبِل، ہونڈا، سولیزائم اور دوسری کمپنیوں نے بھی کیے ہیں۔ لیکن کسی بھی متبادل کی وسیع پیمانے اور کم لاگت تیاری ہر بارے آڑے آتی ہے۔







