امریکہ نے چین پر ’کرنسی مینو پولیٹر‘ کا لیبل ہٹا لیا

،تصویر کا ذریعہSTR/Getty
امریکہ نے چین کو کرنسی کی قدر میں ہیرا پھری کرنے والا ملک یعنی ’کرنسی مینی پیولیٹر‘ قرار دینے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی جنگ میں کشیدگی کم کرنے کی تیاریوں کے وقت میں کیا گیا ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کیونکہ چین اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ اپنی کرنسی کی قدر کو کم نہیں کرے گا۔ کرنسی کی قدر کم کرنے سے چین کی مصنوعات غیر ملکی خریداروں کے لیے سستی ہو جاتی ہیں۔
رواں ہفتے میں امریکہ اور چین اس سلسلے میں پہلی سطح کے ایک معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں۔
یہ معاہدہ ایک دوسرے کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے اس سلسلے کو روکے گا جو دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 2018 سے تجارتی جنگ کی وجہ سے جاری ہے۔
امریکہ کے وزیرِ خزانہ سٹیون منوچِن نے کہا ہے کہ ’چین نے قابلِ عمل وعدے کیے ہیں کہ مقابلے کے لیے اپنی کرنسی کی قدر کو کم نہیں کرے گا اور ساتھ ساتھ اپنی تجارت میں شفافیت اور احتساب کا سلسلہ متعارف کرائے گا۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کافی عرصے سے چین پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ چین اپنی مصنوعات کو عالمی منڈی میں سستا بیچنے کے لیے یوآن کی قدر کم کردیتا ہے۔
تاہم پیر کو امریکہ نے کہا ہے کہ اس تجارتی جنگ کی تیزی کے دوران چین کی کرنسی یوآن کی قدر میں گزشتہ اگست سے اضافہ ہوا ہے۔
مسٹر منوچِن نے کہا ہے کہ چین نے کرنسی کی قدر میں کمی نہ کرنے کے بارے میں ’قابلِ عمل وعدے‘ کیے اور اور زرمبادلہ کے تبادلے کی قدر کے بارے میں مزید معلومات دینے کا وعدہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ ’اس سلسلے میں امریکی وزارات خزانہ نے طے کیا ہے کہ فی الحال چین کو کرنسی کی قدر میں ہیرا پھیری کرنے والا ملک نہیں کہنا چاہئیے۔‘
تجارتی تعلقات میں کشیدگی
امریکہ نے سرکاری طور پر چین کو کرنسی کی قدر میں ہیرا پھیری کرنے والی فہرست میں گزشتہ برس اگست میں شامل کیا تھا جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں کشیدگی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔
چین نے امریکی صدر ٹرمپ کے اقدامات کے جواب میں امریکہ سے چین درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی تھی، اس ڈیوٹی کی مالیت 300 ارب ڈالر بنتی ہے۔
اُس وقت چین نے اپنی کرنسی کی کم قدر کی وجہ کھلی منڈی میں یوآن کی گرتی ہوئی قیمت بتایا تھا کیونکہ اس کے بقول سرمایہ کار دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ کی وجہ سے پریشان تھے۔
چین کے اس موقف کی تائید بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے بھی کی تھی جس کے مطابق چین کی کرنسی کی قدر درست تھی۔
امریکی قوانین کے مطابق کرنسی کی قدر میں ہیر پھیر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی جان بوجھ کے کسی کرنسی اور امریکی ڈالر سے اُس کے تبادلہِ زر کی قدر کو متاثر کرنے کی کوشش کرے تاکہ اس کی مصنوعات کو برآمد کرنے میں ایک غیر منصفانہ فائدہ پہنچے۔
صدر ٹرمپ جو امریکہ کی مینوفیکچرنگ کی صنعت میں کمی کی ذمے داری چین پر عائد کرتے ہیں، نے سنہ 2016 میں اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ چین کو اپنی کرنسی کی قدر میں ہیرا پھیری کرنے والا ملک قرار دیں گے۔
لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو انھوں نے اپنا لہجہ قدرے دھیما کردیا تھا۔ امریکی محکہِ خزانہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کرنسی کے لین دین میں چین کو ہیر پھیر کرنے والا ملک نہیں کہا تھا۔
امریکی وزیرِ خزانہ سٹیون منوچِن نے بعد میں صدر ٹرمپ کے دباؤ کی وجہ سے چین کے خلاف اقدام کیا تھا۔ سنہ 1994 کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ نے کسی بھی ملک کو کرنسی کی قدر میں ہیر پھیر (کرنسی مینی پیولیشن) کر کے کمی کرنے کا لیبل پہلی مرتبہ عائد کیا تھا۔









