کینیا: عسکریت پسند تنظیم الشباب کا امریکی فوجی اڈے پر حملہ، تین افراد ہلاک، دو زخمی

،تصویر کا ذریعہAFP
عسکریت پسند تنظیم الشباب کی جانب سے کینیا میں امریکی فوج کے زیرِ استعمال فوجی اڈے پر حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ہلاک ہونے والے میں ایک امریکی فوج کا اہلکار جبکہ دو کانٹریکٹرز (ٹھیکے دار) شامل ہیں۔ سمبا کیمپ نامی فوجی اڈہ امریکی اور کینیا کی افواج کے زیر استعمال ہے۔
یہ حملہ اتوار کی صبح کینیا کے ساحلی علاقے لامو پر واقع بحری اڈے پر کیا گیا۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں امریکی محکمہ دفاع کے دو مزید اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بیان کے مطابق ’زخمی ہونے والے امریکی اہلکاروں کو بیس سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عینی شاہدین کے مطابق انھیں اتوار کی صبح سمبا کیمپ سے گولیوں کی آوازیں سنائی دی گئیں اور دھویں کے بادل اٹھتے نظر آئے۔ کینیا کے فوجی ترجمان کے مطابق ان کی فوجی دستوں نے شدت پسندوں کو اڈے سے باہر نکال دیا ہے۔
الشباب کے شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ساتھ روابط ہیں اور اس کا ہیڈ کوارٹر صومالیہ میں موجود ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل وجود میں آنے والی عسکریت پسند تنظیم الشباب اب تک متعدد حملے کر چکی ہے۔ 28 دسمبر کو صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں کیے گئے ایک حملے میں کم از کم 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کیمپ سمبا میں کیا ہوا؟
کینیئن ڈیفنس فورسز (کے ڈی ایف) کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے ’مندا ہوائی پٹی پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی‘ تام اس حملے کو پسپا کر دیا گیا جس کے تتیجے میں چار شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
کے ڈی ایف کے ترجمان کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ہوائی پٹی پر آگ بھڑک اٹھی جس پر جلد قابو پا لیا گیا اور اب یہ اڈاہ محفوظ ہے۔
دوسری جانب الشباب کے مطابق اس نے ’سخت سکیورٹی کے باوجود فوجی اڈے پر حملہ کیا‘ جس کے بعد انھوں نے ’اڈے کے ایک حصے کا کنٹرول سنبھال لیا‘۔
عسکریت پسند تنظیم کے مطابق اڈے پر اب بھی جھڑپ جاری ہے اور کینیا کی فوج جنگی طیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔
اس حملے میں کتنا نقصان ہوا؟
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ہوائی پٹی پر دو طیارے اور دو امریکی ہیلی کاپٹرز سمیت متعدد گاڑیوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ الشباب کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ’امریکہ اور کینیا کی فوجوں کو شدید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘
دوسری جانب امریکہ افریقہ کمانڈ کے ترجمان کرسٹوفر کارنز نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الشباب کے ان دعوؤں میں ’شدید مبالغہ آرائی‘ سے کام لیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔
وائس آف افریقہ کے ایک صحافی ہارون معروف نے ٹوئٹر پر ایک تباہ شدہ طیارے کی تصاویر جاری کی ہیں جنھیں الشباب کے مطابق امریکی طیارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
خبر رساں ادارے اے پی کے مطاق کیمپ میں 100 سے کم امریکی فوجی موجود تھے۔ یاد رہے کہ جون 2018 میں الشباب کے ایک حملے میں امریکی کمانڈو ہلاک ہو گیا تھا۔
’بے باک حملہ‘
بی بی سی ورلڈ سروس افریقہ کے مدیر ول راس کے مطابق الشباب کے شدت پسندوں نے یہ بے باک حملہ صبح سویرے کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ کینیا کی فوجی ترجمان کا بیان اس حملے کی شدت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش لگتی ہے۔
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے اب تک یہ نہیں بتایا کہ آیا اسے کسی جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا یا نہیں۔ ول راس کے مطابق اس وقت الشباب کے دعوؤں کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے تاہم اس حوالے سے غیر مصدقہ رپورٹس ہیں کہ اس حملے میں امریکی طیارہ تباہ ہوا ہے جو اس خطے میں جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ساتھ ہی یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ یہ حملہ لامو جزیرے کے قریب ہوا جو ایک سیاحتی مقام بھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سنہ 2011 میں کینیا نے الشباب مقابلہ کرنے لیے اپنی افواج صومالیہ بھیجیں۔ عسکریت پسند تنظیم الشباب نے کینیا کی سرزمین پر اب تک متعدد حملے کیے ہیں۔
تقریباً ایک برس قبل کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ڈیوسٹ ہوٹل کمپلیکس میں ایک شدت پسند حملے کے باعث 21 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ خیال رہے کہ سال 2017 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ نے شدت پسندوں کے خلاف فوج آپریشنز میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی فوج نے سال 2019 میں صومالیہ میں پچھلے کسی بھی سال کی نسبت زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔









