نیروبی: ہوٹل پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد آپریشن مکمل، 21 ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA
کینیا میں حکام نے ایک پرتعیش ہوٹل پر شدت پسندوں کے حملے میں 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
مسلح حملہ آوروں نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ایک پرتعیش ہوٹل پر منگل کو حملہ کیا تھا اور ان کے خلاف آپریشن 19 گھنٹے تک جاری رہا تھا۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں 28 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ 19 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
کینیا کے صدر اوہورو کینیاٹا نے بدھ کو کہا تھا کہ نیروبی میں مشتبہ شدت پسندوں کا محاصرہ ختم ہو گیا ہے اور پانچ حملہ آوروں کو ’ہلاک‘ کر دیا گیا ہے۔
اسی بارے میں
منگل کی رات سکیورٹی فورسز کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کارروائی ختم ہو گئی ہے تاہم بدھ کی صبح ایک مرتبہ پھر فائرنگ اور دھماکے سنے گئے۔
صومالیہ کے انتہا پسند گروپ الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شہر کے ویسٹ لینڈز نامی علاقے میں واقع اس ہوٹل پر منگل کو مسلح افراد نے حملہ کیا تھا اور دو دھماکوں کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ شہر کے اس حصے میں نہ صرف ہوٹل بلکہ کئی دفاتر بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اوہورو کینیاٹا نے کہا ہے کہ اس حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں ایک امریکی شہری بھی شامل ہے۔ حملہ آوروں کے بارے میں بھی واضح نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔
پولیس کے مطابق، ہتھیاروں کے ساتھ مسلح چار افراد ہوٹل میں داخل ہوئے۔ بعض عینی شاہدین نے کہا کہ انہوں نے چار افراد کی لاشیں دیکھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFERDINAND OMONDI
حملہ کیسے ہوا؟
پولیس کے مطابق یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق دن تین بجے ہوا جب چار مسلح افراد نے لابی میں داخل ہونے سے قبل پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کی جانب بم پھنکے۔ لابی میں داخل ہوتے ہی ایک مسلح شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
ساتھ والی عمارت میں کام کرنے والے ایک خاتون نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’میں نے گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں اور پھر لوگوں کو ہاتھ اٹھائے بھاگتے دیکھا جن میں سے بعض اپنی جان بچانے کے لیے بینک میں داخل ہو رہے تھے۔‘
گرینج کے معیاری وقت کے مطابق رات آٹھ بجے انٹیرئر کیبنیٹ سیکریٹری فریڈ میٹیانگی نے کہا ہے کہ کملیکس میں موجود تمام عمارتیں سکیورٹی فورسز کے قبضے میں ہیں۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا: ’صورتحال کنٹرول میں ہے اور ملک محفوظ ہے۔ دہشت گردی ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔‘
لیکن اس کے آدھے گھنٹے بعد ہی علاقے میں گولیاں چلنے اور دھماکوں کی اطلاعات موصوصل ہوئیں۔
بدھ کو 100 سے زائد افراد کو کملیکس سے بچا کر نکال لیا گیا اور انھیں قریبی ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ذرائع ابلاغ کے مطابق نیروبی ہسپتال میں 30 افراد زیر علاج ہیں جبکہ سکیورٹی آپریشن تاحال جاری ہے۔
موقع پر موجود بی بی سی کے نمائندے سے ایک پولیس افسر نے کہا، ’حالات اچھے نہیں ہیں، لوگ مر رہے ہیں۔‘
کینیا کے پولیس سربراہ جوزف بوينیٹ نے صحافیوں سے کہا، ’مسلح حملہ آور ہوٹل میں گھس گئے ہیں۔ خاص فوجی طاقت انہیں باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
اس فائیو اسٹار ہوٹل میں 101 کمرے ہیں۔ شہر کے کاروباری مرکز کے قریب واقع اس ہوٹل میں سپا اور بہت سے ریستوران ہیں۔
حملے میں پھنسے رون جینو نے ٹویٹ کیا، ’اگر میں مارا گیا تو خدا کو محبت کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ میں جنت میں رہوں گا۔ براہ مہربانی میرے خاندان سے کہیں کہ میں نے ان سے بہت محبت کرتا ہوں، کالب، مارک اور کیرول میں تمہیں بہت محبت۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رون نے مزید کہا، ’ہم اب بھی باتھ روم میں پھنسے ہیں اور عمارت میں گولیاں چل رہی ہیں، ہمارے لیے دعا کریں۔‘
حالیہ برسوں میں کینیا میں کئی اہم شدت پسند حملے کیے گئے۔ کینیا صومالیہ میں حکومت کی مدد کرنے والے علاقائی اتحاد کا حصہ ہے جو الشباب کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔
الشباب کون ہیں؟
یہ انتہا پسند گروپ ہے جو صومالی حکومت مخالف ہے لیکن وہ مشرقی افریقہ میں بھی حملے کرتے ہیں۔
کینیا الشباب کے خلاف صومالیہ کی جنگ میں علاقائی قیام امن کے آپریشن کا حصہ ہے۔
ستمبر 2013 میں الشباب کا ایک مسلح رکن نیروبی میں ویسٹ گیٹ شاپنگ مال میں داخل ہوا تھا جہاں اس نے خریداری کرنے والوں کو نشانہ بنایا۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS/Thomas Mukoya
اس بھیڑ والے شاپنگ سینٹر میں 80 گھنٹوں تک جاری رہنے والے محاصرے میں 67 افراد مارے گئے۔
دو سال بعد اسی شدت پسند گروپ نے کینیا میں سب سے جان لیوا حملہ کیا، جس میں گیریسا یونیورسٹی میں 150 افراد کو گولیاں ماری گئیں۔









