کیا انڈیا کیوٹو موسمیاتی معاہدے سے حاصل ہونے والے کاربن کریڈٹس کو پیرس معاہدے کے دور میں لے جا پائے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں جاری اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی پر اجلاس (کوپ 25) میں انڈیا کا اہم مقصد یہ ہے کہ وہ نئے عالمی موسمیاتی دور میں ماضی کے اپنے کروڑوں کاربن کریڈٹس کا فائدہ اٹھا سکے۔
مسئلہ یہ ہے کہ سنہ 2020 سے شروع ہونے والے نئے موسمیاتی معاہدے میں کاربن مارکیٹ کے جو اصول وضع کیے گئے ہیں، انڈیا کا کلیدی ایجنڈا ان سے بنیادی طور پر متصادم ہے اور اس کی وجہ سے بات چیت میں کئی دنوں تک تعطل رہا۔
کاربن کریڈٹ کیا ہوتا ہے؟
کیوٹو پروٹوکول کے تحت دنیا میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے معاہدے پر سنہ 1997 میں دستخط ہوئے تھے۔ انڈیا نے اس کے تحت کم کاربن کے اخراج والی ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی کو اپنانے کے ساتھ جنگلات کے تحفظ کے لیے اخراج کم کرنے کے کروڑوں سرٹیفیکیٹ (سی ای آرز) حاصل کیں۔
اگر ترقی پذیر ممالک اپنے پاس صنعتوں میں کم آلودگی پیدا کرنے والے آلات نصب کر کے، جنگلات کا تحفظ کر کے یا صاف توانائی کے منصوبے لگا کر اپنا کاربن کا اخراج کم کرتے ہیں، تو ان کا ’کاربن کریڈٹ‘ بڑھتا ہے جسے یہ امیر ممالک کو فروخت کر سکتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک یہ کریڈٹ خریدتے ہیں تاکہ اپنے کاربن کے اخراج کو متوازن کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز خارج کرنے والے دنیا کے تیسرے بڑے ملک انڈیا نے بین الاقوامی بازار میں ان کریڈٹس کو بیچ کر بہت زیادہ پیسے کمائے۔
سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز خارج کرنے والا ملک چین ان کریڈٹس کے سب سے بڑے فروخت کنندگان میں سے بھی تھا۔
2000 کی دہائی کے وسط میں اس کا مختصراً آغاز اچھا ہوا تھا مگر اپنے اختتام کے قریب موجود کیوٹو پروٹوکول کے تحت کاربن مارکیٹ کریش ہو گئی اور تب سے اب تک یہ دوبارہ فروغ نہیں پا سکی ہے۔
انڈیا کیا چاہتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہ@NavinSinghKhadk
اگرچہ چین کے پاس اب اپنا قومی کاربن مارکیٹ ہے لیکن انڈیا کے پاس ابھی بھی کیوٹو پروٹوکول کے بعد سے حاصل ہونے والے کروڑوں سی ای آرز ہیں جنھیں وہ بین الاقوامی بازار میں فروخت کرنا چاہتا ہے حالانکہ کیوٹو دور کے بعد اب پیرس معاہدے کا دور آ چکا ہے۔
انڈیا کے چیف مذاکرات کار روی ایس پرساد نے بی بی سی کو بتایا ’یہ ہمارے لیے اہم معاملات میں سے ایک ہے۔‘
’ان تمام سالوں میں ہمارے نجی شعبوں نے کاربن کم کرنے کی ٹیکنالوجی اور قابل تجدید توانائی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری اس لیے کی ہے کیونکہ انھیں یہ یقین دہانی کروائی جاتی رہی ہے کہ وہ اپنے کاربن کریڈٹس کو فروخت کر سکیں گے۔‘
لیکن اپنے کریڈٹس کو نئے موسمیاتی معاہدے یعنی پیرس معاہدے کے بعد کے دور میں لے کر جانا بہت زیادہ مشکل نظر آ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب یہ چیلنج کیوں بن رہا ہے؟
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک یہاں تک کہ بہت سے غریب اور سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے دوچار جزائر والے ممالک بھی اب ایسا نہیں چاہتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے کاربن کے اخراج میں کمی کے عالمی مشن کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کاربن کے اخراج میں کمی کے نئے اور زیادہ پرعزم اہداف پر نظر ہے، ایسے میں پرانے کریڈٹس کی فروخت کی بات کرنے سے حالات کی سنگینی کی عکاسی نہیں ہوتی۔
گذشتہ ہفتے جب میڈرڈ میں مذاکرات کی ابتدا ہوئی تو اس سے قبل اقوام متحدہ نے یہ انتباہ جاری کیا کہ دنیا کو خطرناک موسمیاتی تبدیلی سے بچانے کے لیے اب تک جتنی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اب سارے ممالک کو اس کا پانچ گنا کرنے کی ضرورت ہے۔
دنیا صنعتی انقلاب کے بعد سے اب تک ایک ڈگری سیٹی گریڈ سے زیادہ پہلے ہی گرم ہو چکی ہے اور سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ جس رفتار سے کاربن کا فی الحال اخراج ہو رہا ہے اس کی وجہ سے دنیا مزید تین ڈگری گرم ہو جائے گی۔
پیرس کے موسمیاتی معاہدے میں حدت میں اضافے کو دو ڈگری سے نیچے رکھنے کا مقصد ظاہر کیا گیا ہے جبکہ ڈیڑھ ڈگری کے حصول کا ہدف رکھا گيا ہے۔
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ امریکہ میں انٹرنیشنل کلائمٹ کوآپریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر بریڈ شیلرٹ کہتے ہیں کہ ’کاربن کے مجموعی اخراج میں کمی کی ضرورت کے علاوہ غریب ممالک کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کیوٹو پروٹوکول کے تحت کاربن کریڈٹس سے کبھی فائدہ نہیں اٹھا سکے کیونکہ زیادہ تر پیسے بڑے کھلاڑیوں کو چلے گئے۔‘
لیکن پرانے بقایا کریڈٹس کو نئے دور میں لے جانے کے خواہشمند انڈیا اور برازیل جیسے ممالک کا کہنا ہے کہ ماضی کے عہد کی پاسداری نہ کرنے سے بھی فائدہ نہیں ہوگا۔
پرساد کہتے ہیں کہ یہ ’اعتماد کا معاملہ ہے۔ کیوٹو پروٹوکول پر اس شرط کے ساتھ دستخط کیے گئے تھے کہ ہماری کمپنیاں جو کاربن کریڈٹس کمائیں گی وہ اسے فروخت کر سکیں گی۔‘
’لیکن اگر اب ماضی کے عہد کو نہیں نبھایا جاتا تو پھر کیا گارنٹی ہوگی کہ 2020 کے بعد کے وعدوں کو نبھایا جائے گا؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارکیٹ کے مسائل
اور نئے ماحولیاتی معاہدے کے تحت مارکیٹ کن ضوابط کے ساتھ چلائی جائے گی، اس حوالے سے گہرے اختلافات موجود ہیں۔
اس میں بنیادی مسئلہ ڈبل کاؤنٹنگ یا دہری گنتی کا ہے جس میں کاربن کا خریدار اور فروخت کنندہ دونوں ہی کریڈٹ پر حق جتاتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک کمپنی ہے جس نے ایک سولر پارک تعمیر کر کے کاربن کے اخراج سے بچاؤ کیا ہے۔ اگر وہ اپنا کریڈٹ فروخت کرے تو خریدار اپنے خریدے گئے کریڈٹ کے حساب سے اپنا کاربن کا اخراج کنٹرول کر سکتے ہیں۔ پر اگر فروخت کنندہ بھی اس کریڈٹ کو اپنی جانب گنے تو ماہرین کے مطابق یہ ڈبل کاؤنٹنگ کہلاتی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے کاربن کے اخراج میں مجموعی طور پر فوری کمی میں مدد حاصل نہیں ہو پا رہی۔
ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق مسائل پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی تھنک ٹینک ورلڈ ریسورسز انسٹیٹیوٹ کی کیلی لیوین کہتی ہیں کہ 'اگر (پیرس معاہدے کے متنازع کاربن مارکیٹ معاملے سے متعلق شق) آرٹیکل چھ ڈبل کاؤنٹنگ کرنے دیتا ہے تو اس سے ممالک کاربن کے اخراج میں فائدہ مند کمی لانے سے بچ سکیں گے۔'
وہ کہتی ہیں کہ ’اس سے ماحولیات پر اقوام کے عہد اپنی اہمیت کھو دیں گے اور ہماری زمین سنگین خطرے میں پڑ جائے گی۔‘
اور چونکہ اب تک کاربن مارکیٹ کے ضوابط پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے، چنانچہ انڈیا کے لیے کیوٹو دور کے کریڈٹس کو نئے پیرس کلائمٹ معاہدے میں تبدیل کروانے کے لیے حالات کچھ سازگار محسوس نہیں ہو رہے۔
انڈیا کے مذاکرات کاروں کو امید تھی کہ گذشتہ پیر یہاں آنے والے وزرا کی مداخلت سے یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔
مگر ایسا اب تک نہیں ہو سکا ہے۔










