اویغور مسلمانوں کے ساتھ ’جبری سلوک‘: چین پر پابندیاں لگانے کے لیے بِل امریکی ایوانِ نمائندگان سے منظور

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے چین میں اویغور مسلمانوں کی ’عبوری نظر بندی، جبری سلوک اور ہراسانی‘ کے خلاف ایک قانون کا مسودہ منظور کر لیا ہے۔
اویغور ہیومن رائٹس پالیسی ایکٹ 2019 نامی اس مسودۂ قانون کے حق میں 407 جبکہ مخالفت میں صرف ایک ووٹ ڈالا گیا۔
منگل کی شب منظور کیے جانے والے اس بل میں چینی حکومت کے ارکان اور خاص طور پر چین کے خودمختار صوبے سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری چین چوانگؤ پر 'ہدف بنا کر پابندیاں' لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس مسودۂ قانون کو اب امریکی سینیٹ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منظوری درکار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ قانون چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے پیشِ نظر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دے گا۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔
اس بل کے منظور ہونے سے کچھ دن پہلے ہی صدر ٹرمپ نے ہانگ کانگ کے جمہوریت پسند مظاہرین کے حق میں بھی ایک بل پر دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دی تھی جس کی چین کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
مسودۂ قانون میں ہے کیا؟
اس قانون کا مقصد 'عالمی طور پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کی مجموعی پامالی کے بارے میں بات کرنا ہے جس میں ایک کروڑ اویغور مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر قید کرنا بھی شامل ہے۔'
انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے اداروں کا کہنا ہے سنکیانگ میں پھیلے جیل کیمپوں اور ’تربیتی مراکز‘ میں ہزاروں مسلمان نظر بند ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 1
اس بل میں چین پر اویغوروں کے خلاف ’امتیازی سلوک کا نظام‘ بنانے اور انھیں اظہارِ آزادی رائے، مذہب، نقل و حرکت اور منصفانہ مقدمے جیسے شہری اور سیاسی حقوق سے محروم رکھنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
بل کے مطابق چین میں سنکیانگ کے مسلمان کو کڑی نگرانی کا سامنا ہے اور ان کے بچوں تک کے ڈی این اے کے نمونے لیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی عبادت گزاری پر بھی نظر رکھی جاتی ہے جبکہ نگرانی کے لیے چہرے اور آواز کی شناخت کے نظام استعمال کیے جاتے ہیں۔
بل میں ایسے چینی حکام پر پابندیاں لگانے کی بات کی گئی ہے جن پر ’سنکیانگ میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزی کے قابلِ تصدیق الزامات‘ لگائے گئے ہیں۔
بل میں سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی کے رہنما چین چوانگؤ کا بھی ذکر ہے جنھیں ’اصلاحی کیمپوں‘ کا معمار کہا جاتا ہے۔
مسودۂ قانون میں امریکی صدر سے کہا گیا ہے کہ وہ اویغوروں سے بدسلوکی کی مذمت کریں اور چین سے مطالبہ کریں کہ وہ ایسے کیمپ فوراً بند کرے اور حقوقِ انسانی کا احترام یقینی بنائے۔
چین کا ردعمل
چین کی وزارتِ خارجہ نے اس امریکی اقدام کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ’چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی‘ بند کرے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہوا چن ینگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ مسودۂ قانون جان بوجھ کر سنکیانگ میں حقوقِ انسانی کی صورتحال کو بگاڑ کر پیش کرتا ہے اور چینی حکومت کی سنکیانگ کے بارے میں پالیسی کو نشانہ بناتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم امریکہ پر زور دیتے یں کہ وہ اپنی غلطیاں فوراً درست کرے اور اس مسودے کو قانون بننے سے روکے اور سنکیانگ سے متعلقہ معاملات کو استعمال کرتے ہوئے چین کے داخلی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ بند کرے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام, 2
خیال رہے کہ چین نے حال ہی میں امریکہ کی جانب سے 'ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی ایکٹ' کو قانون کی شکل دینے پر امریکی بحری بیڑوں اور جہازوں کی ہانگ کانگ آمد معطل کر دی ہے۔
سنکیانگ میں ہو کیا رہا ہے؟
حقوقِ انسانی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں لاکھوں مسلمان سخت نگرانی والے کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
چینی حکومت کا مسلسل یہی دعویٰ ہے کہ مغربی سنکیانگ میں موجود کیمپ رضاکارانہ طور پر تعلیم اور ٹریننگ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
تاہم وہاں سے ملنے والے ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے متعدد کو صرف ان کے مذہب کے اظہار جیسے کہ نماز پڑھنے یا پردہ کرنے کی وجہ سے قید رکھا گیا ہے۔
بی بی سی نے ایسے ثبوت بھی دیکھے ہیں جن کے مطابق مسلمان والدین سے ان کے بچوں کو بھی جدا کیا گیا ہے۔










