#LondonBridge: لندن میں چاقو کے حملے سے دو ہلاک، حملہ آور دہشت گردی کے جرم میں قید کاٹ چکا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA
مرکزی لندن میں واقع لندن برِج پر چاقو کے وار کر کے کئی افراد کو زخمی کرنے کے بعد پولیس کی گولی سے ہلاک ہو نے والے حملہ آور کی شناخت عثمان خان کے نام سے ہوئی ہے جو کہ دہشت گردی کے جرم میں جیل کاٹ چکا تھا۔
لندن برج پر ہونے والے اس حملے میں اب تک دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو چکے ہیں۔
پولیس نے حملے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کا نام جیک میرٹ بتایا ہے جو یونیورسٹی آف کیمبرج میں طالب علم تھے۔ ان کے علاوہ جس دوسری خاتون کو حملہ آور نے نشانہ بنایا تھا ان کا نام ابھی تک نہیں بتایا گیا۔
جیک میرٹ فش مونگرز ہال میں ہونے والی کانفرنس کے پروگرام کے کورس کورڈینیٹر تھے۔
28 سالہ حملہ آور عثمان حملے کے وقت جیل سے باہر رہ رہے تھے۔ انھیں ایک پولیس افسر نے اس وقت گولی ماری جب ایک عام شہری نے انھیں قابو کیا ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہWEST MIDLANDS POLICE
میٹ پولیس کمشنر کریسیڈا ڈک نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ جمعے کو حملے کا آغاز فش مونگرز ہال سے ہوا۔ یہ برج کے شمالی سرے پر واقع ہے۔ یہاں قیدیوں کی بحالی کے سلسلے میں کیمبرج یونیورسٹی کی کانفرنس جاری تھی۔
ٹائمز اخبار کے مطابق مشتبہ شخص اس کانفرنس میں شرکت کر رہا تھا۔
اخبار کے مطابق عثمان کو جیل سے ایک ماہ قبل اس شرط پر رہائی ملی تھی کہ وہ الیکٹرانک ٹیگ کو پہنے رکھیں گے تاکہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تقریب میں درجنوں افراد یونیورسٹی کے طلبا اور سابق قیدی موجود تھے۔
کریسیڈا ڈک کہتی ہیں کہ پولیس نے ابتدائی کال موصول ہونے کے پانچ منٹٹ کے اندر مشتبہ حملہ آور کا مقابلہ کیا جس کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کے پاس نقلی دھماکہ خیز مواد ہے۔
اس واقعے کے چند گھنٹے کے بعد ہالینڈ کے شہر ہیگ میں بھی مقامی پولیس کے مطابق ایک مصروف ڈیپارٹمنٹ سٹور میں ایک شخص نے چاقو سے حملہ کر کے کم سے کم تین افراد کو زخمی کر دیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور 40 سے 50 سال کی عمر کا شخص تھا جس کی تلاش جاری ہے۔
لندن برج پر موقعے پر موجود بی بی سی کے ایک رپورٹر کا کہنا ہے کہ اس نے برج کے اوپر جھگڑا ہوتے دیکھا، اور ایسا لگ رہا تھا جیسے کئی افراد ایک شخص پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس جلد ہی پہنچ گئی اور اس پر کئی گولیاں چلائیں۔
لندن برج 3 جون 2017 کو بھی ایک حملے کا نشانہ بنا تھا جس میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔
برطانیہ کی انسداد دہشتگردی پولیس کے سربراہ نیل باسو کا کہنا ہے کہ پولیس حملے کے محرکات جاننے کی کوشش کر رہی اور اب تک کسی امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔
انھوں نے بتایا کو پولیس کو دن کے دو بجے سے کچھ ہی دیر پہلے لندن برج پر چاقو زنی کی اطلاع ملی۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی افراد ایک شخص کو زمین پر گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سوٹ اور جیکٹ میں ملبوس ایک شخص کو بڑے چاقو سے لیس حملہ آور سے دور بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
پھر لوگ منتشر ہو جاتے ہیں اور حملہ آور زمین پر پڑا ہوا نظر آتا ہے جیسے اسے پولیس نے گولی مار دی ہو۔
پولیس کے مطابق اردگرد کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور پولیس اہلکار تلاشی میں مصروف ہیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے کا بروقت سدِباب کیا جا سکے۔
پولیس کے مطابق گھیرا زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
مسٹر باسو کا کہنا ہے کہ پولیس کے اضافی اہلکار شہر میں گشت کریں گے۔
وزیراعظم بورس جانسن جو اپنے انتخابی حلقے سے ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ واپس آ گئے ہیں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موجود سروسز اور وہ شہری جنھوں نے اس صورتحال میں مداخلت کی 'ہمارے ملک کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ' یہ ملک اس قسم کے حملوں سے کبھی بھی نہ ڈرے گا یا بٹے گا یا خوفزدہ ہوگا۔اور ہماری اقدار برطانوی اقدارغالب رہیں گی۔
لندن کے میئرصادق خان نے ان شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے خطرے میں جا کر دلیری کا مظاہرہ کیا اور جنھیں خبر نہیں تھی کہ آگے انھیں کس کا سامنا کرنا ہے۔
پولیس کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان کی جانب سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
لندن برج سٹیشن اور ٹیوب سروس کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ حملے کے بعد متعلقہ حکام نے اسے بند کیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ اس دوران ٹرین سروس کے اوقات میں تعطل، منسوحی یا تبدیلی ہو سکتی ہے۔
کنزرویٹو پارٹی اور لیبر پارٹی دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے حملوں کے بعد رات تک اپنی انتخابی مہم معطل کر دی ہیں۔
'نکلو اور بھاگو'

،تصویر کا ذریعہ@GEORGEBARDEN_
عینی شاہدین میں سے کچھ نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ انھوں نے کیا دیکھا۔
اماندہ ہنٹر جو کہ اس وقت لندن برج پر ایک بس میں سوار تھیں نے بتایا کہ 'ایک دم وہ رکی اور وہاں کچھ ہنگامہ تھا۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور مجھے بس یہ نظر آیا کہ تین پولیس افسر ایک مرد کی طرف جا رہے تھے۔۔۔
وہ کہتی ہیں کہ ایسا لگتا تھا کہ اس کے ہاتھ میں کچھ ہے۔ میں 100 فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتی لیکن پھر ایک پولیس افسر نے اسے گولی مار دی۔
بس ڈرائیور مصطفیٰ صالح جن کی عمر 62 برس ہے۔ بروگ ہائی سٹریٹ سے لندن برج کی جانب سفر کر رہے تھے۔ انھوں نے دیکھا کہ ایمرجنسی سروس کی گاڑیوں اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔
بی بی سی لندن سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ 'ایک پولیس افسر میری جانب آیا اور کہا اپنے انجن کو بند کرو، باہر نکلو اور بھاگو۔'
ان کا کہنا تھا کہ میں نے اوپر دیکھا میں وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھ سکتا تھا وہ میری جانب بڑھ رہے تھے۔
'ایک خاتون رو رہی تھی۔ میں بوگروگ سٹریٹ ہائی سٹریٹ کی جانب واپس دوڑا۔ یہ واقعی ہی بہت خوفزدہ کرنے والا تھا اور ہم جانتے نہیں تھے کہ ہو کیا رہا ہے۔
خیال رہے کہ تین جون 2017 کو بھی لندن برج پر ایک اور حملہ ہوا تھا اس میں اٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے تھے۔










